واشنگٹن میں غیر ملکی بھرتیوں کے طریقۂ کار پر بڑا سوال، آٹھ ٹیکنالوجی اداروں کی مستقل رہائش سے متعلق درخواستیں معطل

امریکا نے 8 اکتوبر کو آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ملازمت سے منسلک مستقل رہائش کے سرکاری تصدیقی عمل میں شرکت معطل کر دی، جس کے تحت ان اداروں کی نئی درخواستیں قبول کرنے اور پہلے سے زیرِ التوا درخواستوں پر کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں اسٹارلنک کی تجارتی خدمات کے آغاز میں تاخیر پر ایلون مسک کے بیانات نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی کارروائی کی زد میں بھارتی کمپنیاں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس، وپرو اور ایچ سی ایل، جبکہ امریکی ادارے مائیکروسافٹ، ایڈوب، کاگنیزنٹ اور کیپ جیمینی شامل ہیں۔ امریکی وزیرِ محنت کے مطابق ان کمپنیوں کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی اور پہلے سے زیرِ التوا درخواستوں پر کارروائی بھی معطل رہے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مقامی ملازمین کی جگہ غیر ملکی کارکنوں کو بھرتی کر رہی ہیں اور ملازمت سے متعلق ضوابط سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ تاہم، اس معاملے پر متعلقہ کمپنیوں کے مؤقف اور سرکاری فیصلے کی تفصیلات الگ الگ سامنے آنا اہم ہوگا۔
دوسری جانب امریکی کمپنی مائیکروسافٹ کے حوالے سے امریکی ملازمین کی برطرفیوں اور غیر ملکی کارکنوں کی بھرتیوں کا معاملہ بھی زیرِ بحث ہے، جبکہ بھارتی ٹیکنالوجی صنعت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ امریکا میں مقامی بھرتیوں میں اضافہ اور غیر ملکی ویزوں پر انحصار کم ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آٹھ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے بعد نو بڑی جامعات کے غیر ملکی تبادلہ پروگراموں کی بھی تحقیقات کا معاملہ سامنے آیا ہے، جن میں ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ جیسی جامعات شامل ہیں۔ ان تحقیقات میں ملازمت اور اجرت سے متعلق ضوابط کا جائزہ لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ادھر ایلون مسک نے 7 اور 8 اکتوبر کو بھارت میں اسٹارلنک کی تجارتی خدمات کے آغاز میں تاخیر پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض بااثر کاروباری شخصیات بھارتی مواصلاتی منڈی میں اپنی اجارہ داری اور اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں۔
ایلون مسک نے بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا وہی بھارت میں اصل فیصلے کرنے والے شخص ہیں؟ ان کے اس بیان کے بعد بھارتی کاروباری اثرورسوخ اور مواصلاتی شعبے میں مسابقت سے متعلق بحث مزید نمایاں ہوگئی۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے مسک کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی ایک اور شخص کے بارے میں جاننا باقی ہے، تاہم انہوں نے اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا۔ اس پر ایلون مسک نے راہول گاندھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیا۔
یوں امریکا میں غیر ملکی بھرتیوں اور مستقل رہائش سے متعلق قواعد پر کارروائی، جبکہ بھارت میں اسٹارلنک کی تجارتی منظوری میں تاخیر اور مواصلاتی منڈی میں مبینہ اثرورسوخ کے الزامات دو الگ معاملات کے طور پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں





