Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دہشت گردی کے خلاف آخری اور فیصلہ کن معرکہ،تحریر: سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے ایک ایسے چیلنج سے دوچار ہے جسے معمول کا سکیورٹی مسئلہ سمجھنا قومی غلطی ہوگی۔ حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا، بالخصوص کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد پر دہشت گرد حملہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردوں کا مقصد صرف چند جانیں لینا نہیں بلکہ ریاست، معاشرے، معیشت، مذہبی ہم آہنگی اور قومی حوصلے کو نقصان پہنچانا ہے۔


کوہاٹ کا سانحہ ہمارے لیے محض ایک خبر نہیں، ایک سوال ہے: آخر کب تک پاکستان کے بہادر پولیس اہلکار، فوجی جوان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور عام شہری اپنے خون سے اس جنگ کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟ شہداء کا خون ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی وقتی ردعمل نہیں بلکہ مستقل، مربوط اور فیصلہ کن قومی حکمتِ عملی بنائی جائے۔


پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ NACTA کے مطابق 2001 سے 2022 تک پاکستان میں 83 ہزار جانیں ضائع ہوئیں اور ملک کو 35 ٹریلین روپے سے زیادہ کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ اعداد صرف اعداد نہیں؛ ان کے پیچھے ماؤں کے بیٹے، بہنوں کے بھائی، بچوں کے باپ اور پاکستان کے محافظ موجود ہیں۔


اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف فوجی یا پولیس کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے۔ انٹیلی جنس، پولیس، فوج، CTDs، FIA، NACTA، مالیاتی اداروں، سرحدی انتظامیہ اور عدالتی نظام کے درمیان حقیقی اور مسلسل اشتراک پیدا کیا جائے۔ دہشت گرد جہاں موجود ہیں وہاں کارروائی ضروری ہے، لیکن اس سے پہلے اور اس کے ساتھ ان کے مالی وسائل، سہولت کاروں، بھرتی کے نیٹ ورک، جعلی شناختوں، مواصلاتی ذرائع اور پروپیگنڈا نظام کو بھی قانون کے مطابق توڑنا ہوگا۔


قومی ایکشن پلان نے برسوں پہلے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، کالعدم تنظیموں کے دوبارہ منظم ہونے کو روکنے، نفرت انگیز مواد کے خلاف کارروائی، CTDs کی استعداد بڑھانے اور عدالتی نظام میں اصلاحات جیسے واضح اہداف متعین کیے تھے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اہداف کے ہر نکتے کی باقاعدہ، شفاف اور قابلِ پیمائش بنیاد پر نگرانی کی جائے۔ جو ادارہ اپنا ہدف مکمل کرے اسے سراہا جائے اور جہاں کمی ہو وہاں ذمہ داری متعین کی جائے۔


دہشت گردی کے خلاف ایک اور بنیادی محاذ قانون کی حکمرانی ہے۔ دہشت گرد کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے، قابلِ اعتماد شواہد اکٹھے کیے جائیں، مقدمات مؤثر انداز میں چلائے جائیں اور جو شخص جرم ثابت ہونے کے بعد عدالت سے سزا پائے، اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ آئینِ پاکستان ہر شہری کے لیے قانون کے مطابق سلوک، شخصی تحفظ اور منصفانہ قانونی عمل کے اصول تسلیم کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاست کی طاقت اسی وقت مضبوط اور پائیدار ہوگی جب وہ قانون کے دائرے میں استعمال ہو۔


اسی طرح دہشت گردی کے نظریاتی اور سماجی اسباب کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ NACTA کی National Prevention of Violent Extremism Policy اسی وسیع تر سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ تعلیم، برداشت، سماجی شمولیت، نوجوانوں کی مثبت مصروفیت اور انتہاپسند بیانیے کے مؤثر تدارک سے بھی کیا جاتا ہے۔


سرحدی سلامتی بھی قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کا بنیادی ستون ہونی چاہیے۔ جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے خطرات پیدا ہوں، وہاں ریاست کو سفارتی، سیاسی، انٹیلی جنس اور ضرورت پڑنے پر قانون اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق دیگر دستیاب ذرائع استعمال کرنے چاہئیں۔ مگر ہر کارروائی کا بنیادی مقصد پاکستانی شہریوں کا تحفظ، دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اور دیرپا امن ہونا چاہیے۔


افغانستان سے متعلق معاملہ بھی اسی حقیقت پسندانہ پالیسی کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان کو واضح، مسلسل اور قابلِ تصدیق انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا مطالبہ کرنا چاہیے، جبکہ عالمی برادری کو بھی اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کرنا چاہیے۔ تاہم اس پورے عمل میں سفارتی راستے، قومی مفاد اور بین الاقوامی قانون کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔


سب سے بڑھ کر قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کسی ایک سیاسی جماعت، ادارے یا صوبے کا مسئلہ نہیں؛ یہ پاکستان کی اجتماعی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ سیاست، اختلافِ رائے اور جمہوری بحث اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی میں قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔


ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ شہداء کے خاندان صرف تعزیتی بیانات تک محدود نہ رہیں۔ ان کے بچوں کی تعلیم، خاندان کی معاشی کفالت، علاج، رہائش اور دیگر قانونی و سرکاری مراعات بروقت فراہم کی جائیں۔ جو ریاست اپنے محافظوں کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑتی، وہ اپنے محافظوں کے حوصلے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔


آج پاکستان کو ایک ایسے جامع انسدادِ دہشت گردی فریم ورک کی ضرورت ہے جس میں انٹیلی جنس کی بروقت شیئرنگ، CTDs کی جدید تربیت، جدید فرانزک صلاحیت، بارڈر مینجمنٹ، دہشت گردی کی مالی معاونت کا خاتمہ، عدالتی مقدمات کی تیز اور شفاف پیروی، آن لائن انتہاپسند پروپیگنڈے کا قانونی تدارک اور متاثرہ علاقوں کی معاشی و سماجی ترقی ایک ہی قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہوں۔


ہمیں دہشت گردی کا خاتمہ ضرور کرنا ہے، مگر ایسا خاتمہ جو ریاست کی طاقت، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق تینوں کو مضبوط کرے۔ دہشت گردوں کے خلاف ریاست کو پوری قوت سے کھڑا ہونا چاہیے، مگر ریاستی قوت قانون سے باہر نہیں بلکہ قانون کے ذریعے مؤثر بنتی ہے۔


پاکستان کے شہداء ہم سے انتقام نہیں، انصاف اور امن کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان کا خون اسی وقت رائیگاں نہیں جائے گا جب پاکستان ایسا محفوظ ملک بنے گا جہاں مسجد میں نماز پڑھنے والا شہری، پولیس لائن میں ڈیوٹی دینے والا اہلکار، بازار میں کاروبار کرنے والا تاجر، اسکول جانے والا بچہ اور سرحد پر کھڑا سپاہی بلاخوف اپنی زندگی گزار سکے۔


یہ وقت مزید تاخیر کا نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو الفاظ سے آگے لے جا کر مسلسل، مربوط، قانونی اور فیصلہ کن عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔ پاکستان کو ایسا نظام بنانا ہوگا جس میں دہشت گرد کو چھپنے کی جگہ، مالی مدد کا راستہ، بھرتی کا میدان اور ریاستی قانون سے فرار کا موقع نہ ملے۔


شہداء کا خون ہماری قومی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک پاکستان کے ہر شہری کو امن، تحفظ اور قانون کی بالادستی کا حق عملی طور پر حاصل نہ ہوجائے۔