عالم کے بچے بھی خواب دیکھتے ہیں،تحریر: ام عبد القہار
نقطہ نظر
ذرا ایک ایسے عالم کے گھر کا بجٹ بنائیے جس کی ماہانہ تنخواہ پچاس یا ساٹھ ہزار روپے ہو۔ اسی رقم سے کرایہ، راشن، بجلی، گیس، سفر، علاج اور بچوں کی تعلیم پوری کرنی ہو۔ پھر اس سے یہ توقع بھی ہو کہ لباس صاف، چہرہ مطمئن اور لہجہ ہمیشہ شکر سے بھرا رہے۔ وہ مسجد میں داخل ہو تو کسی کو اس کی پریشانی محسوس نہ ہو۔ مگر کیا کبھی ہم نے سوچا کہ سفید کپڑے پہن کر گھر سے نکلنے والے اس شخص کے دل پر کتنے ان کہے سوالوں کا بوجھ ہوتا ہوگا؟
اس تحریر کا موضوع وہ خاموش معلم ہے جو ہمارے بچوں کو قرآن پڑھاتا ہے، وہ مؤذن ہے جو ہمیں نماز کے لیے بلاتا ہے، وہ امام ہے جو ہماری خوشیوں اور غموں میں موجود رہتا ہے۔ ہم اس سے وقت، توجہ، شفقت اور رہنمائی چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے اپنے بچوں کی ضرورتوں کا ذکر آئے تو گفتگو اچانک قناعت اور سادگی کی طرف مڑ جاتی ہے۔ کیا سادگی کا مطلب یہ ہے کہ بچے کی دوا بھی حساب کرکے خریدی جائے؟ کیا قناعت ہمیں کسی دوسرے کی محنت کا مناسب معاوضہ دینے سے بے نیاز کردیتی ہے؟
تصور کیجیے، ایک استاد پورا دن طلبہ کو علم کی اہمیت سمجھاتا ہے، پھر گھر آکر اپنے بچے کی فیس کا پیغام پڑھتا ہے۔ بچہ پوچھتا ہے: ابو، میری فیس کب جمع ہوگی؟ وہ کہتا ہے: ان شاء اللہ، جلد ہوجائے گی۔ اس مختصر جواب کے پیچھے کتنی فکر چھپی ہے، یہ وہ جانتا ہے اور اس کا رب۔ جس شخص نے دوسروں کے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہو، اپنے بچے کے مستقبل پر بے بس ہونا اس کے لیے کتنی کڑی آزمائش ہوگی!
عالم کا بچہ بھی بچہ ہے۔ اسے اچھی تعلیم، مناسب غذا، علاج، محفوظ گھر اور کھیلنے کا موقع چاہیے۔ اس کے خواب اس لیے کم اہم نہیں ہوجاتے کہ اس کا باپ مدرسے میں پڑھاتا ہے۔ اگر کسی تعلیمی ادارے میں استاد کا بچہ پڑھنے آئے تو اس کے لیے باوقار رعایت کی واضح پالیسی کیوں نہ ہو؟ دینی اور عصری تعلیم، دونوں کے اداروں کو یہ سوال سننا چاہیے۔ استاد کی خدمت کی تعریف اپنی جگہ، لیکن اس کے بچے کی فیس میں تعاون اس تعریف کا عملی اظہار ہوسکتا ہے۔
اور اگر کوئی مستحق استاد اپنے بچے کے لیے زکوٰۃ کی درخواست پُر کررہا ہو تو شرمندگی اس کی ضرورت پر نہیں ہونی چاہیے۔ سوال اس انتظام سے ہونا چاہیے جو اس کی مسلسل خدمت کے باوجود اسے بنیادی اخراجات کے لیے دوسروں کا محتاج چھوڑ دیتا ہے۔ زکوٰۃ لینا مستحق کے لیے باعثِ تحقیر نہیں، لیکن ادارے اپنی ذمہ داری کو محض امدادی فارم کے حوالے بھی نہیں کرسکتے۔ مناسب تنخواہ، بروقت ادائیگی اور ہنگامی تعاون کا انتظام اس کی خودداری کو سہارا دے سکتا ہے۔
ہماری بے حسی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی عالم کی چند لمحوں کی ویڈیو دیکھ کر فیصلہ سنانا بہت آسان لگتا ہے۔ تحقیق سے پہلے الزام، پوری بات سنے بغیر بدگمانی اور پھر آگے پھیلانے کی جلدی! غلطی ہو تو دلیل اور انصاف کے ساتھ اصلاح ضرور ہونی چاہیے۔ لیکن کردار کشی کی اس سرگرمی کے درمیان کبھی اپنی مسجد کے مؤذن کی تنخواہ بھی پوچھیے۔ کبھی معلوم کیجیے کہ آپ کے بچے کے قرآن کے استاد کے گھر علاج اور تعلیم کا خرچ کیسے پورا ہوتا ہے۔
پھر ہمارا معیارِ عزت بھی غور طلب ہے۔ ایک استاد سائیکل پر آتا ہو، گھر سادہ ہو اور لباس معمولی، تو کیا اس کا علم بھی معمولی سمجھ لیا جائے؟ اور کوئی شخصیت بڑی گاڑی، نمایاں تعلقات اور ہجوم کے ساتھ آئے تو کیا یہ سب علمی اہلیت کا ثبوت بن جائے؟ خوش حالی بذاتِ خود عیب نہیں، مگر تنگ دستی بھی نااہلی کی دلیل نہیں۔ تقرری، معاوضے اور احترام کا معیار علم، کردار، صلاحیت اور ذمہ داری ہونا چاہیے۔ ظاہری شان سے مرعوب معاشرہ اپنے خاموش اہلِ علم کو پہچاننے میں دیر کردیتا ہے۔
ایک استاد حج اور عمرے کے فضائل پڑھاتے ہوئے خود بھی بیت اللہ کی حاضری کی تمنا رکھ سکتا ہے۔ دوسروں کو رخصت کرتے ہوئے اس کے دل میں بھی یہ خواہش جاگ سکتی ہے کہ کبھی اپنے گھر والوں کے ساتھ جائے۔ اس خواہش میں کیا نامناسب ہے؟ دینی خدمت کرنے والا انسان احساسات، ضروریات اور آرزوؤں سے خالی نہیں ہوجاتا۔ اس سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کی انسانی زندگی کو بھی سمجھیں، صرف منبر پر ادا کیے جانے والے کردار تک اسے محدود نہ رکھیں۔
اگر ناکافی آمدنی کے باعث کوئی عالم دکان کھولے، تجارت کرے یا کوئی ہنر اختیار کرے تو اس پر اعتراض کیسا؟ حلال روزگار باعزت راستہ ہے۔ لیکن جس استاد کی تدریس سے ادارہ فائدہ اٹھاتا ہو، اسے معاشی مجبوری کے سبب تدریسی وقت کم کرنا پڑے تو ادارے کو اپنے انتظام کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہم اس کے پورے وقت اور یکسوئی کے خواہاں ہوں تو اس کے گھر کی ضروریات کو بھی معاوضے کے تعین میں جگہ دینی ہوگی۔ خدمت کا جذبہ قابلِ قدر ہے؛ اسے کم اجرت برقرار رکھنے کا جواز نہ بنایا جائے۔
مساجد کی کمیٹیوں، مدارس کی انتظامیہ، اہلِ ثروت اور سابق طلبہ کو مل کر مستقل راستے نکالنے چاہییں۔ تنخواہوں کا باقاعدہ جائزہ ہو، ادائیگی کی تاریخ مقرر ہو، رہائش اور علاج میں تعاون ہو اور بچوں کی تعلیم کے لیے الگ انتظام بنایا جائے۔ عمارت کی توسیع کے ساتھ استاد کے گھر کی گنجائش بھی سوچی جائے۔ ریاست سے بھی مطالبہ ہونا چاہیے کہ دینی معلمین کے لیے شفاف، منصفانہ فلاحی سہولتوں اور ان کے بچوں کی تعلیمی معاونت پر کام کرے۔ تعاون ایسا ہو جس میں عزت محفوظ رہے اور غیر ضروری محتاجی پیدا نہ ہو۔
کسی استاد کو اتنا مجبور نہ ہونے دیجیے کہ اس کا بچہ اپنے ادھورے خوابوں کا سبب باپ کی دینی خدمت کو سمجھنے لگے۔ یہ جملہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے: ابو، کیا میں اس لیے نہیں پڑھ سکتا کہ میں آپ کا بچہ ہوں؟
آئیے، اپنے معلم کی خدمت کی قدر کریں، اس کے گھر کی فکر کریں اور اس کے بچوں کے خواب بچائیں۔
مزید پڑھیں

