عالمی یوم امن، امن اور ادیب کا کردار ،تحریر: فائزہ شہزاد
نقطہ نظر
21 ستمبر کو اقوامِ متحدہ نے 1981 میں عالمی یوم امن کا اعلان کیا تھاـ جس کا مقصد پوری دُنیا میں امن کا پیغام پہنچانا تو تھا ہی، مگر اِس کے ساتھ ساتھ تین مقصد کی یاددہانی بھی تھا:
1: چوبیس گھنٹوں کے لئے جنگ بندی
2: امن صرف حکومتوں کا کام نہیں
3: نفرت کے مقابلہ میں مکالمہ
اب اگر دیکھا جائے تو امن صرف فوج اور سیاستدانوں سے قائم نہیں ہوسکتا، جب تک کہ استاد، ادیب ، والدین، طالب علم، ڈاکٹر یہاں تک کہ عام عوام بھی، اپنا حصہ نہ ڈالے، اپنا کردار ادا نہ کرےـ امن سب کے مشترکہ عمل سے قائم ہوتا ہےـ امن کا مطلب صرف جنگ کا نہ ہونا نہیں ہے، بلکہ بھوک کا خاتمہ ہے، تعلیم کا حق ہے، عورتوں اور بچوں کا تحفظ، انصاف اور برداشت ہےـ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم لڑنے کے لئے پیدا نہیں ہوئے، ہم ایک دوسرے سے پیار، محبت اور برداشت کے لئے اِس دنیا میں آئے ہیں ـ اِس سال کا تھیم ہے:
" Act now for a peaceful world "
میرا خیال ہے کہ امن کے سلسلے میں " ادیب " بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہےـ اُس کا قلم ہی اُس کا اصل ہتھیار ہےـ امن سوچ کی وسعت، دل کا سکون اور پیار محبت بھری زندگی کا نام ہے اور یہ کام ادیب سب سے بہتر انداز میں کرسکتا ہےـ
تاریخ گواہ ہے کہ جہاں تلوار ناکام ہوئی، وہاں قلم ہی کامیاب ہوا ـ ادیب کا قلم اُس کے ہاتھ میں اللہ کی امانت ہے اور قلم کی حرمت کی قسم تو قرآن پاک میں اللہ پاک نے خود اٹھائی ہے: " قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں اُس کی قسم " ( سورہ القلم آیت: 1) اِس قلم کا ہم سے حساب لیا جائے گا ـ ادیب معاشرے کا آئینہ ہے، جس کا مقصد صرف کہانیاں اور مضامین لکھنا نہیں ہے بلکہ اِس قلم کے ذریعے امن و آتشی کا پیغام پوری دُنیا میں پہنچانا ہےـ قلم اگرچہ نازک ہتھیار ہے مگر بے حد طاقتور، تلوار زخم دیتی ہے جب کہ قلم سوچ اور شعور کے دروازے کھولتا ہے جس سے راستے خود بہ خود بنتے جاتے ہیں ـ ہمارا دین اسلام ہمیں امن و سلامتی کا درس دیتا ہے، جنگ سے مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوتے، بلکہ مزید بگڑ جاتے ہیں، نسلیں تک تباہ ہوجاتی ہیں ـ فتح مکہ کے موقع پر نہ کوئی تلوار اُٹھی نہ کوئی خون بہا اور یہ پوری دنیا میں امن کی ایک ایسی مثال ہے جس کے غیر مسلم تک معترف ہیں ـ
ادیب امن کے کا پیغام اپنے قلم کے ذریعے بہت مؤثر انداز میں اقوام عالم تک پہنچا سکتا ہے لیکن ادیب کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ جھوٹ اورنفرت کے مقابلے میں سچ لکھےـ اصل امن نہ تو قراردادوں سے آتا ہے اور نہ ہی صرف گفتار سے بلکہ اِس کے لئے کردار کا غازی بننا پڑتا ہےـ بچہ پہلا سبق ماں کی گود( گھر سے) اور کتاب سے سیکھتا ہےـ گھر میں اگر بدامنی اور جھگڑا ہوگا تو بچہ وہی سیکھے گاـ اسی طرح اگر کہانیوں میں ہیرو صرف بندوق والا ہوگا تو بچہ تشدد کو ہی بہادری سمجھے گاـ ادیب قلم سے دیواریں کھڑی نہیں کرتا، بلکہ وہ محبت اور امن و آتشی کے پل بناتا ہےـ نفرت، گالی اور تشدد کی جگہ شائشتگی اور پرامن طریقے سے حل بتاتا ہےـ وہ جنگ کے خلاف ہے مگر بزدلی کے نہیں بلکہ ظلم اور جبر کے خلاف آواز اٹھاتا ہےـ لوگوں کو قلم کے ذریعے بدلہ لینا نہیں، بلکہ انصاف مانگنا سکھاتا ہےـ نہ صرف بچوں بلکہ نوجوانوں کی تربیت میں ادیب کا کردار بہت اہم اور بنیادی ہےـ اُنہیں اپنی شاعری، مضامین، کہانیوں کے ذریعے ہیرو بنا کر دکھانا ہےـ مصور پاکستان علامہ محمد اقبال نے جیسے اپنے قلم کے ذریعے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا اور کرگس کی بجائے نوجوانوں کو شاہین بننے کا شعور اور آگاہی دی ـ ادیب کو کبھی بھی تعصب پسند نہیں ہونا چاہئے، بلکہ صرف یہ پیغام قلم کے ذریعے دینا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہیں ـ
آئیں آج کے دن ہم ادیب یہ عہد کریں کہ ہمارا قلم نفرت اور تعصب نہیں لکھے گاـ ہمارا قلم خواب، محبت، امن و استحکام لکھے گا اور دُنیا کو بدلے گا( اِن شاء اللہ)
امن کی خوشبو پھیلے گی
اب نفرت کا نام نہ ہوگا
ہر انسان کا دل بدلے گا
کوئی بھی بدنام نہ ہوگا
آو مل کر ہاتھ بڑھائیں
نفرت کی دیوار گرائیں
امن کے گیت سنائیں سبکو
محبت کا نغمہ سنائیں سبكو
امن کے گیت گاتے جائیں گے
دُنیا کو جنت بناتے جائیں گے
مزید پڑھیں




