Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عام آدمی کی کفالت: ریاست، معیشت اور باعزت زندگی،تحریر: سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

پاکستان میں عام آدمی کی سب سے بڑی خواہش کوئی شاہانہ زندگی نہیں، بلکہ اتنی آمدن ہے جس سے وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے، خاندان کو مناسب خوراک فراہم کرے، گھر کا کرایہ ادا کرے، علاج کروا سکے اور مستقبل کے لیے کچھ بچت بھی کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ معاشی حالات میں ایک محنت کش شہری کے لیے یہ بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن ہے؟

ایک عام خاندان کی بنیادی ضروریات میں باعزت روزگار، مناسب اجرت، سستی خوراک، محفوظ رہائش، صاف پانی، بجلی، صحت کی سہولتیں، تعلیم، آمدورفت، قانونی تحفظ اور بڑھاپے یا بے روزگاری کے لیے سماجی تحفظ شامل ہیں۔ ان ضروریات کو محض خواہشات سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ان کا تعلق انسانی وقار، معاشی استحکام اور معاشرتی انصاف سے ہے۔

آئینِ پاکستان بھی شہریوں کی بنیادی ضروریات اور حقوق کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 9 شخصی تحفظ، آرٹیکل 14 انسانی وقار، آرٹیکل 25 شہریوں کی مساوات اور آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 18 جائز پیشے، تجارت اور کاروبار کرنے کی آزادی تسلیم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 38 ریاست کو سماجی و معاشی بہبود کے فروغ اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے رہنما اصول دیتا ہے۔ تاہم، ان دفعات کی قانونی نوعیت اور نفاذ کے طریقے مختلف ہیں۔

قومی معیشت کی حقیقی صورتِ حال جاننے کے لیے سرکاری اعدادوشمار اہم ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے گھریلو آمدن و اخراجات کے سروے 2024-25 کے مطابق، ملک میں ایک گھرانے کی اوسط ماہانہ آمدن 82,179 روپے اور اوسط ماہانہ اخراجات 79,150 روپے رپورٹ ہوئے۔ یہ قومی اوسط ہے، ہر خاندان کی آمدن یا ضروری اخراجات کا پیمانہ نہیں۔ اسی طرح پاکستان اکنامک سروے 2025-26 میں سروے پر مبنی قومی غربت کی شرح 28.9 فیصد رپورٹ کی گئی، جو معاشی مشکلات کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔

روزگار کا مسئلہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ محض ملازمت ہونا کافی نہیں؛ آمدن اتنی ہونی چاہیے کہ ضروری اخراجات پورے ہو سکیں۔ بین الاقوامی ادارۂ محنت کے پاکستان سے متعلق پروگرام میں روزگار کے مواقع، سماجی تحفظ، کارکنوں کے حقوق اور محفوظ حالاتِ کار کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہنرمندی کی تعلیم، چھوٹے کاروباروں کی معاونت، صنعتی ترقی اور میرٹ پر ملازمتوں کے مواقع بڑھائے جائیں۔

صحت اور تعلیم پر اخراجات بھی عام گھرانے کے بجٹ پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر بیماری کے باعث گھر کا واحد کمانے والا کام نہ کر سکے، یا بچوں کی تعلیم فیس اور سفری اخراجات کی وجہ سے رک جائے، تو خاندان کی معاشی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی طرح صاف پانی، نکاسیٔ آب، مناسب رہائش اور قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی انسانی صحت اور پیداواری صلاحیت کے لیے ضروری ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی حکمرانی، شفاف طرزِ حکمرانی، مؤثر ٹیکس نظام اور عوامی وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنائے۔ مستحق خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ، معیاری سرکاری تعلیم، قابلِ رسائی علاج اور روزگار کے مؤثر پروگرام بھی ناگزیر ہیں۔ دوسری طرف شہریوں کو بھی قانون کی پابندی، ہنر کے حصول، مالی منصوبہ بندی اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کو اپنانا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ مضبوط پاکستان کی بنیاد خوش حال اور خودکفیل خاندان ہیں۔ جب محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ، بچے کو تعلیم، بیمار کو علاج اور شہری کو انصاف میسر ہوگا، تب ہی معاشی ترقی عام آدمی کی زندگی میں حقیقی بہتری لائے گی۔ ریاست کی کامیابی کا اصل معیار محض ترقی کے اعدادوشمار نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک عام پاکستانی کتنی عزت، تحفظ اور اطمینان کے ساتھ اپنے خاندان کی کفالت کر سکتا ہے۔