فلاحِ انسانیت ہی بقائے انسانیت ہے،تحریر: جان ایم رمضان
نقطہ نظر
انسانیت کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف بلند و بالا عمارتوں، دولت کے انبار، طاقتور معیشت اور جدید ٹیکنالوجی سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ قوموں کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب ان کے افراد ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں، بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں، بے سہارا لوگوں کا سہارا بنتے ہیں اور مایوس دلوں میں امید کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ یہی فلاحِ انسانیت ہے، اور حقیقت یہی ہے کہ فلاحِ انسانیت ہی بقاۓ انسانیت ہے۔
آج کا انسان ترقی کی دوڑ میں اس قدر مصروف ہو چکا ہے کہ اکثر اسے اپنے اردگرد بسنے والے ضرورت مند انسانوں کی مشکلات دکھائی نہیں دیتیں۔ ایک طرف دولت کی فراوانی ہے تو دوسری طرف ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جہاں دو وقت کی روٹی کا حصول ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ کہیں معصوم بچے تعلیم سے محروم ہیں، کہیں بیمار افراد علاج کے لیے پریشان ہیں، کہیں بزرگ تنہائی میں زندگی گزار رہے ہیں اور کہیں بے روزگار نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ ایسے حالات میں معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد، مخیر حضرات، سماجی تنظیموں اور صاحبِ اختیار لوگوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو صرف اپنی ذات کے لیے جینے کا نہیں بلکہ دوسروں کے کام آنے کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے نیکی کے حقیقی مفہوم کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’اور نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لائے، اور مال کی محبت کے باوجود اسے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے۔‘‘
(سورۃ البقرہ، آیت 177 کا مفہوم)
یہ قرآنی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ نیکی محض دعووں، نعروں اور ظاہری عبادات تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ایک اہم پہلو ضرورت مندوں کے حقوق ادا کرنا اور دکھی انسانیت کے کام آنا بھی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی انسانوں کے ساتھ بھلائی اور ہمدردی کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ (صحیح مسلم)
یہ تعلیم ہمیں احساس دلاتی ہے کہ کسی پریشان حال شخص کی مدد کرنا صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عظیم دینی اور اخلاقی عمل بھی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ انسانیت کی خدمت صرف وہی کر سکتا ہے جس کے پاس بہت زیادہ دولت ہو، مگر یہ تصور درست نہیں۔ خدمتِ خلق کے لیے بڑے وسائل سے زیادہ بڑا دل، خلوصِ نیت اور احساسِ ذمہ داری ضروری ہے۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی پیاسے کو پانی پلانا، کسی طالب علم کو کتاب خرید کر دینا، کسی مریض کو ہسپتال پہنچانا، کسی پریشان شخص کی بات سننا اور کسی مایوس انسان کو حوصلہ دینا بھی خدمتِ انسانیت ہے۔
کبھی ایک نرم لفظ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے دیتا ہے۔ کبھی کسی غریب بچے کی فیس ادا کرنے سے اس کا مستقبل سنور جاتا ہے۔ کبھی کسی بے روزگار نوجوان کو روزگار کا موقع فراہم کرنا پورے خاندان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انسانیت کی خدمت کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس میں حصہ لے سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کی کمی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں محض تنقید کرنا کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کی بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔ مخیر حضرات کو چاہیے کہ خیرات اور عطیات کو منظم انداز میں مستحق افراد تک پہنچائیں۔ سماجی تنظیمیں ضرورت مند خاندانوں کی نشاندہی کرکے ان کی مستقل مدد کا نظام بنائیں، جبکہ معاشرے کے ہر فرد کو چاہیے کہ اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں سے غافل نہ ہو۔
ہمیں خیرات کے ساتھ ساتھ خود کفالت کے مواقع بھی پیدا کرنے چاہییں۔ کسی غریب کو وقتی طور پر مالی مدد دینا یقیناً نیکی ہے، لیکن اسے ہنر سکھانا، روزگار فراہم کرنا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا ایک پائیدار حل ثابت ہو سکتا ہے۔
انسانیت کی خدمت میں رنگ، نسل، زبان، علاقے، مذہب، مسلک اور طبقے کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ مصیبت میں مبتلا انسان سب سے پہلے انسان ہے، اور اس کی تکلیف کو محسوس کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔
جب کسی علاقے میں سیلاب آتا ہے، زلزلہ تباہی مچاتا ہے یا کوئی حادثہ قیمتی جانیں لے لیتا ہے تو ہمیں اختلافات بھلا کر متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے ھم کرتے بھی ہیں ۔ قدرتی آفات اور انسانی مشکلات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ زندگی عارضی ہے، دولت یہیں رہ جاتی ہے اور انسان کی اصل پہچان اس کے کردار اور دوسروں کے ساتھ اس کے رویے سے بنتی ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں کمزور کو تحفظ، غریب کو سہارا، یتیم کو شفقت، مریض کو علاج اور نوجوان کو آگے بڑھنے کا موقع ملے، وہ معاشرہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔
اگر ہم ایک پُرامن، خوشحال اور مضبوط پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں خدمتِ انسانیت کو قومی کردار کا حصہ بنانا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو سماجی خدمت کی ترغیب دی جائے، کاروباری افراد اپنے منافع میں سے مستحق لوگوں کے لیے حصہ مختص کریں، نوجوان رضاکارانہ سرگرمیوں میں حصہ لیں اور معاشرتی تنظیمیں شفافیت کے ساتھ فلاحی منصوبے شروع کریں۔
ہمیں ایسے پاکستان کی تعمیر کرنی ہے جہاں کوئی بچہ بھوک کی وجہ سے تعلیم نہ چھوڑے، کوئی مریض غربت کے باعث علاج سے محروم نہ رہے، کوئی بزرگ بے یار و مددگار نہ ہو اور کوئی مجبور خاندان صرف اس لیے مایوس نہ ہو کہ اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔
یہ کام صرف حکومت یا کسی ایک تنظیم کا نہیں؛ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہر شخص اپنے محلے، گلی یا خاندان کے ایک ضرورت مند فرد کی مدد کرنے کا عزم کر لے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی کی ایک مضبوط بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
انسان کی عظمت اس کے عہدے، دولت، شہرت یا اختیارات سے نہیں بلکہ اس کے کردار، احساس اور خدمت سے پہچانی جاتی ہے۔ وہ ہاتھ جو کسی گرتے ہوئے انسان کو سہارا دیتے ہیں، وہ دل جو دوسروں کے درد پر تڑپتے ہیں اور وہ قدم جو کسی مجبور کی مدد کے لیے اٹھتے ہیں، درحقیقت ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
ہمیں نفرتوں کے بجائے محبت، خود غرضی کے بجائے ایثار، بے حسی کے بجائے ہمدردی اور زبانی دعووں کے بجائے عملی خدمت کو اپنانا ہوگا۔
ہم انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن بنائیں گے، ضرورت مندوں کا سہارا بنیں گے اور معاشرے میں امید، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیں گے۔ کیونکہ جب انسان انسان کے کام آتا ہے تو معاشرہ زندہ رہتا ہے، اور جب انسانیت دم توڑتی ہے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں





