آگے بڑھنے کے لیے منافقت چھوڑنا ہوگی۔تحریر: انجینئر علی رضوان چودھری
نقطہ نظر
ہم اکثر معاشرے کی پسماندگی، بے روزگاری، مہنگائی، ناانصافی اور زوال کا شکوہ کرتے ہیں، لیکن کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال نہیں کرتے کہ ان مسائل کے حل میں ہمارا اپنا کردار کیا ہے؟ ہم دوسروں سے سچائی، دیانت، اخلاص اور اچھے کردار کی توقع رکھتے ہیں، مگر کیا ہم خود بھی ان اصولوں پر قائم ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے کردار، سچائی، اعتماد اور باہمی اخلاص بھی ضروری ہے ۔
ہم اکثر معاشرے کی پسماندگی، بے روزگاری، مہنگائی، ناانصافی اور زوال کا شکوہ کرتے ہیں، لیکن کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال نہیں کرتے کہ ان مسائل کے حل میں ہمارا اپنا کردار کیا ہے؟ ہم دوسروں سے سچائی، دیانت، اخلاص اور اچھے کردار کی توقع رکھتے ہیں، مگر کیا ہم خود بھی ان اصولوں پر قائم ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے کردار، سچائی، اعتماد اور باہمی اخلاص بھی ضروری ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ منافقت ہے۔ ہم بسا اوقات سامنے کچھ اور اور پیچھے کچھ اور ہوتے ہیں۔ کسی کے سامنے اس کی تعریف کرتے ہیں، لیکن اس کی غیر موجودگی میں اسی شخص کی برائیاں بیان کرتے ہیں۔ ہم رشتوں میں محبت کے دعوے کرتے ہیں، مگر مفاد سامنے آئے تو تعلقات کی حقیقت بدل جاتی ہے۔ یہی رویہ معاشرے میں اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور انسان کو انسان سے دور کرتا چلا جاتا ہے۔
منافقت صرف دوغلے الفاظ کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا رویہ ہے جس میں انسان اپنے اصل خیالات اور کردار کو چھپا کر دوسروں کے سامنے ایک مختلف چہرہ پیش کرتا ہے۔ جب یہی رویہ اجتماعی زندگی کا حصہ بن جائے تو پھر اداروں، تنظیموں، کاروبار، دوستیوں اور رشتوں میں اعتماد کا بحران پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آخر ہم کب تک دوسروں کو خوش کرنے، اپنے مفادات حاصل کرنے اور وقتی فائدے کے لیے مصنوعی رویے اختیار کرتے رہیں گے؟ اگر کسی سے اختلاف ہے تو شائستگی سے اختلاف کریں، اگر کسی کی بات غلط لگتی ہے تو دلیل سے بات کریں، اگر کسی سے ناراضی ہے تو سامنے بیٹھ کر مسئلہ حل کریں۔ پیٹھ پیچھے باتیں کرنے اور دل میں بغض رکھنے سے نہ انسان بڑا بنتا ہے اور نہ معاشرہ ترقی کرتا ہے۔
آگے بڑھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنے رویوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر انسان کامل نہیں ہوتا۔ کسی کی غلطی پر اسے ہمیشہ کے لیے برا سمجھ لینا مسئلے کا حل نہیں۔ اسی طرح اپنی غلطی تسلیم کرنا بھی کمزوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی ہے۔ معافی مانگنے اور معاف کرنے کا حوصلہ رکھنے والے معاشرے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
ہمیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ اگر کوئی شخص اچھا کام کر رہا ہے تو صرف اس لیے اس کی مخالفت نہ کی جائے کہ وہ ہمارا دوست نہیں۔ اگر کسی کی صلاحیت معاشرے کے لیے فائدہ مند ہے تو اسے آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ قابلیت کو تعلقات، گروہی مفادات اور ذاتی پسند و ناپسند کی بھینٹ چڑھانا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کی تربیت میں بھی اس پہلو کو شامل کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف دوسروں کو پیچھے چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے، سچ بولنے، وعدہ پورا کرنے اور اپنے کردار کو مضبوط بنانے کا نام بھی ہے۔ اگر نئی نسل کو اخلاص، برداشت اور سچائی کا راستہ دکھایا جائے تو مستقبل میں ایک بہتر معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔
معاشرے میں اختلافات ہمیشہ رہیں گے۔ ہر شخص کی سوچ، پسند اور ترجیحات ایک جیسی نہیں ہوسکتیں، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرسکتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی کامیابی پر خوش ہوسکتے ہیں۔ ہم دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہی رویہ معاشرے میں برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں کوئی شخص اکیلا ترقی نہیں کرسکتا۔ ایک فرد کی کامیابی اس وقت معاشرے کے لیے زیادہ مفید بنتی ہے جب وہ دوسروں کے لیے بھی راستے کھولے۔ کاروبار ہو، تعلیم ہو، ادب ہو، صحافت ہو یا سماجی خدمت، ہر شعبے میں باہمی اعتماد اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر ہم واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں چہروں کے بجائے کردار دیکھنا ہوگا، مفاد کے بجائے اصولوں کو اہمیت دینا ہوگی اور منافقت کے بجائے اخلاص کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں دوسروں سے تبدیلی کی توقع کرنے سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔ ہم دلوں میں موجود نفرت، حسد، بغض اور ذاتی مفادات کی دیواریں گرا دیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے ایک دوسرے کو اٹھانے کی کوشش کریں۔ کسی کی کامیابی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے اپنی کامیابی سمجھیں۔ اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں اور غلطیوں کو اصلاح کا موقع سمجھیں۔
معاشرے عمارتوں سے نہیں، کرداروں سے بنتے ہیں۔ اگر ہم سچائی، اخلاص، برداشت اور اعتماد کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ترقی کا سفر خود آسان ہوجائے گا۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے تو منافقت چھوڑنا ہوگی، کیونکہ صاف نیت، سچا کردار اور باہمی احترام ہی ایک مضبوط اور کامیاب معاشرے کی بنیاد ہیں۔
مزید پڑھیں




