جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ناانصافی کے نظام میں اہل ہونے کی سزا،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر کسی معاشرے میں قابلیت جرم، دیانت کمزوری اور نااہلی کامیابی کی ضمانت بن جائے تو وہاں سب سے زیادہ سزا کس کو ملتی ہے؟ مجرم کو، نااہل کو یا اُس شخص کو جو اپنی صلاحیتوں کے بل پر آگے بڑھنے کا خواب دیکھتا ہے؟ شاید اُس اہل شخص کو، کیونکہ ناانصافی کے نظام میں سب سے زیادہ خطرہ اُس انسان سے محسوس کیا جاتا ہے جسے آگے بڑھنے کے لیے کسی کی خوشامد، سفارش یا مرہونِ منت ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔


یہ وہ نظام ہے جہاں انسان کی قابلیت اس کے لیے راستہ ہموار کرنے کے بجائے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ جہاں اہل شخص سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کیا کر سکتا ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس کا آدمی ہے۔ اس کی محنت کا وزن اس کی سفارش کے مقابلے میں ہلکا پڑ جاتا ہے، اس کی برسوں کی ریاضت کسی بااثر شخص کے ایک جملے کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے اور اس کی اہلیت ایسے ترازو میں تولی جاتی ہے جس کے پلڑے پہلے ہی کسی کے حق میں جھکے ہوتے ہیں۔


ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرتا ہے، اپنی خواہشات اور آسائشوں کو پسِ پشت ڈال کر خود کو کسی ذمہ داری کے قابل بناتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ علم اس کا سرمایہ اور محنت اس کی پہچان بنے گی۔ مگر عملی زندگی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں قابلیت کے علاوہ کچھ اور درکار ہے؛ تعلقات، سفارش اور خوشامد کے وہ راستے جن سے گزرنے پر اس کا ضمیر آمادہ نہیں ہوتا۔ یوں اس کی ڈگری، تجربہ اور صلاحیت ایک طرف رہ جاتے ہیں اور کسی دوسرے کی قربت اس پر سبقت لے جاتی ہے۔


یہاں المیہ صرف حق دار کو حق نہ ملنا نہیں، بلکہ حق چھیننے کے عمل کو معمول بنا دینا ہے۔ جب نااہل شخص منصب پر فائز ہوتا ہے تو وہ صرف ایک اہل شخص کی جگہ نہیں لیتا بلکہ اس ذمہ داری سے وابستہ بے شمار امکانات بھی ضائع کر دیتا ہے۔ ایک نااہل استاد نسلوں کی فکری تربیت متاثر کر سکتا ہے، ایک غیر موزوں افسر انصاف کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور ایک غیر مستحق فیصلہ ساز پورے ادارے کی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔ اس طرح ایک غلط انتخاب کے اثرات کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اجتماعی مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔


ناانصافی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ مظلوم سے اس کا حق چھیننے کے بعد اسی سے اس کی محرومی کا جواز بھی طلب کرتی ہے۔


اسے سمجھایا جاتا ہے کہ تم میں برداشت نہیں، تمہارے رویے میں لچک نہیں، تم لوگوں کے ساتھ چلنا نہیں جانتے۔ جو خوشامد سے انکار کرے وہ مغرور، جو اصولوں پر قائم رہے وہ ضدی اور جو سوال اٹھائے وہ مسئلہ پیدا کرنے والا قرار پاتا ہے۔ یوں احتساب کا رخ ناانصافی کرنے والے سے ہٹ کر ناانصافی سہنے والے کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں رہتا کہ حق دار کو حق کیوں نہیں ملا، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ محروم شخص نے اپنے لیے راستہ کیوں نہیں بنایا۔


یہ صورتِ حال انسان کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ مسلسل نظرانداز کیا جانا، اپنی محنت کو بے قدر ہوتے دیکھنا اور دوسروں کو محض تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھتے دیکھنا رفتہ رفتہ انسان کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ وہ اپنی قابلیت پر شک کرنے لگتا ہے۔ کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید دیانت داری واقعی کمزوری ہے، شاید اصولوں پر قائم رہنا ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ناانصافی کسی انسان کے حالات ہی نہیں، اس کی سوچ اور خود اعتمادی کو بھی متاثر کرنے لگتی ہے۔


تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر محرومی ناانصافی نہیں اور ہر دعوائے قابلیت درست نہیں ہوتا۔ اہلیت کا تعین علم، تجربے، کردار اور کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے، مگر جب یہی پیمانے افراد کے لیے مختلف ہو جائیں تو انصاف محض ایک خوب صورت لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔ قانون اور اصولوں کی اصل اہمیت اسی وقت ہے جب ان کا اطلاق طاقت ور اور کمزور، پسندیدہ اور غیر پسندیدہ، سب پر یکساں ہو۔


ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی اہل شخص کو اس کا حق دینا اس پر احسان نہیں بلکہ معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ایک قابل انسان کو آگے بڑھنے کا موقع دینا دراصل اجتماعی ترقی کے امکانات کو وسعت دینا ہے۔ ایسے سربراہ جو اپنے سے زیادہ اہل افراد کو خطرہ سمجھتے ہیں، درحقیقت اپنی ذات کے تحفظ کے لیے اداروں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ قیادت کا کمال اپنے سے کم تر لوگوں کو جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے سے بہتر لوگوں کو آگے لانے کا حوصلہ رکھنے میں ہے۔


تاریخ کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اکثر اپنے عہد کے اہل لوگوں کی قدر ان کی غیر موجودگی میں کرتے ہیں۔ زندگی بھر جن کی صلاحیتوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے، ان کے گزر جانے کے بعد انہی کی خدمات کے اعتراف میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرے کو اپنے قابل لوگوں کی اہمیت معلوم ہے، وہ انہیں ان کی زندگی میں وہ مقام دینے سے کیوں قاصر رہتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں؟


کسی معاشرے کی ترقی بلند عمارتوں، بڑے عہدوں اور چمکتے ہوئے اعداد و شمار سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہاں ایک عام انسان کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لیے کتنی بار اپنی عزتِ نفس قربان کرنا پڑتی ہے۔


آخرکار سوال یہ نہیں کہ اہل لوگ اپنے حق کے لیے کب تک لڑتے رہیں گے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایک معاشرہ اپنے اہل لوگوں کو کب تک محروم رکھ کر ان ہی سے اپنی ترقی کی امید وابستہ کرتا رہے گا؟


کیونکہ جس معاشرے میں نااہلی کو تحفظ اور اہلیت کو سزا ملنے لگے، وہاں زوال کسی ایک فرد کا مقدر نہیں بنتا، پوری قوم کا مستقبل اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔