ایک آزاد قلم کا انتظار،تحریر : فاطمہ زہراء
نقطہ نظراگر کبھی میرے قلم کو آزادی دے دی جائے تو میں اس معاشرے کے چہرے سے شرافت کا نقاب نوچ کر اس کے پیچھے چھپے ہوئے ظلم کو لکھوں گی
میں لکھوں گی ان معصوم بچیوں کے بارے میں جن کے لیے یہ دنیا خوف کی وادی بن چکی ہے جہاں ان کا بچپن بھی محفوظ نہیں اور ان کی معصومیت بھی درندوں کی ہوس سے محفوظ نہیں
میں ان جاگیرداروں کے قصے لکھوں گی جن کے لیے قتل جیسے سنگین جرم کے بعد بھی معافیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان غریبوں کی داستانیں لکھوں گی جن کے لیے معمولی سی خطا بھی ناقابلِ معافی جرم بن جاتی ہے
میں لکھوں گی کہ اس سرزمین پر انصاف کا ترازو آخر کس کے ہاتھ میں ہے جہاں طاقتور کے جرم پر مصلحت کی چادر ڈال دی جاتی ہے اور کمزور کی بے بسی کو قانون کی گرفت میں جکڑ دیا جاتا ہے
میں صلاح الدین کو بھی یاد کروں گی جس کے نام کے ساتھ پانچ ہزار روپے اٹھانے کا واقعہ جوڑ کر اس کے انجام کو انصاف کے نام پر بیان کیا جاتا ہے۔ میں پوچھوں گی کہ اگر جرم کی سزا ضروری ہے تو کیا انصاف کا معیار سب کے لیے یکساں نہیں ہونا چاہیے؟ کیا انسان کی جان کی قیمت اس کی حیثیت، دولت اور اثر و رسوخ کے مطابق طے ہوگی؟
میرا قلم پوچھے گا کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہے یا طاقت کی بادشاہت؟ یہاں انصاف ہوتا ہے یا صرف کمزور کو اس کی اوقات یاد دلائی جاتی ہے؟
میں ان ماؤں کی آہیں لکھوں گی جن کی بیٹیاں گھروں سے نکلتے ہوئے بھی خوف زدہ رہتی ہیں۔ ان باپوں کی بے بسی لکھوں گی جو اپنی اولاد کے لیے انصاف مانگتے مانگتے تھک جاتے ہیں۔ ان مظلوموں کی خاموشی لکھوں گی جن کی آواز طاقتور ایوانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی ہے۔
میں فلسطین کے ان بچوں کا نوحہ لکھوں گی جن کے ہاتھوں میں کھلونے ہونے چاہییں تھے مگر ان کے حصے میں ملبہ، بارود، بھوک اور لاشوں کے درمیان زندگی تلاش کرنا آیا۔ میں ان ننھی آنکھوں کی ویرانی لکھوں گی جنہوں نے عمر سے پہلے موت کے منظر دیکھے۔ میں ان ماؤں کی چیخیں لکھوں گی جن کے سینے سے ان کے جگر گوشے چھین لیے گئے۔
اور پھر میں ان ستاون مسلم ممالک کے حکمرانوں سے سوال کروں گی کہ آخر کب تک فلسطین کے بچوں کا خون بہتا رہے گا اور امتِ مسلمہ کے ایوانوں میں مذمتوں کے الفاظ ہی گونجتے رہیں گے؟ کب تک سفارتی بیانات انسانی جانوں کا نعم البدل بنتے رہیں گے؟ اگر مظلوم کے حق میں آواز اٹھانا ممکن ہے تو اس آواز کو عملی مدد اور مؤثر اقدام میں بدلنے کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے؟
میں لکھوں گی کہ ظلم صرف وہ نہیں جو مظلوم کے جسم پر زخم بن کر اترتا ہے بلکہ ظلم وہ بھی ہے جو مظلوم کی آواز دبانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ بھی میرے قلم کا موضوع ہوں گے جو اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں اور خود جبری گمشدگیوں کے خوف میں زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ میں ان خاندانوں کی بے بسی لکھوں گی جو اپنے عزیزوں کی واپسی کے انتظار میں ہر آہٹ پر دروازے کی طرف دیکھتے ہیں اور جنہیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے پیارے کس حال میں ہیں اور کہاں ہیں۔
میں ان لوگوں کے لیے بھی لکھوں گی جو مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ جن کے گھروں میں چولہا جلانا مشکل ہو چکا ہے، جن کی مزدوری ان کی ضروریات سے ہار چکی ہے اور جن کے بچوں کی خواہشیں والدین کی خالی جیبوں میں دم توڑ دیتی ہیں۔ میں پوچھوں گی کہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا جرم کب سے بن گیا؟ غریب کی فریاد سننے کے بجائے اس کی آواز کچل دینا آخر کس انصاف کا نام ہے؟
اور اگر میرا قلم پھر بھی آزاد رہا تو میں لکھوں گی کہ کسی معاشرے کی تباہی اس وقت شروع نہیں ہوتی جب وہاں جرم جنم لیتا ہے بلکہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب جرم کرنے والے کی حیثیت اس کے احتساب سے بڑی ہو جاتی ہے اور مظلوم کی بے بسی اس کے لیے انصاف کے دروازے بند کر دیتی ہے۔
کیونکہ مجھے صرف ظلم لکھنا نہیں بلکہ اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرنا ہے جہاں غریب کے لیے قانون تلوار اور طاقتور کے لیے ڈھال بن جاتا ہے۔
میرا قلم کسی ایک طبقے قوم یا گروہ کے خلاف نہیں بلکہ ہر اس ظلم کے خلاف اٹھے گا جس کے سامنے انسانیت سر جھکانے پر مجبور ہو۔ میں مظلوم کی شناخت نہیں پوچھوں گی، اس کا مذہب نہیں دیکھوں گی، اس کی قومیت نہیں پرکھوں گی۔ میں صرف اس کے زخم دیکھوں گی اور اس ہاتھ کو پہچانوں گی جو اسے زخمی کرتا ہے۔
مگر سچ یہ ہے کہ میں سچ بولنے سے گھبراتی ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ اس معاشرے میں سچ لکھنے والے کو صرف الفاظ کی نہیں بلکہ ان الفاظ کی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے قلم کی آواز کو خاموش نہ کر دیا جائے کہیں میرے سوالوں کو گستاخی اور میرے احتجاج کو بغاوت کا نام نہ دے دیا جائے۔
شاید اسی لیے میں اپنے قلم کو ابھی خاموش رکھتی ہوں اور اس دن کی منتظر ہوں جب سچ بولنے کے لیے حوصلے سے زیادہ تحفظ کی ضرورت ہوگی، جب اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں سمجھا جائے گا، جب قلم پر پہرے نہیں بٹھائے جائیں گے اور جب کسی لکھنے والے کو اپنے لفظوں کی قیمت اپنی آزادی سے ادا نہیں کرنی پڑے گی۔
میں ظلم کے خلاف ضرور لکھوں گی، مگر اس دن جب میرا قلم آزاد ہوگا، جب میری آواز کو دبانے کے بجائے سنا جائے گا اور جب آزادیِ اظہار محض آئینی کتابوں میں درج ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہوگی۔
کیونکہ میں خاموش رہنا نہیں چاہتی میں صرف اس دن کا انتظار کر رہی ہوں جب سچ لکھنے کے لیے اپنے قلم کو آزادی مانگنی نہ پڑے گی۔
مزید پڑھیں




