جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اولڈ ایج ہوم،تحریر:نمرہ امین

نقطہ نظر
nimra amin

"اولڈ ایج ہوم" ایک ایسا ادارہ جہاں جا کر ان بزرگوں کو چند پل کی خوشیاں دینا ان سے باتیں کرنے کا جذبہ ہر انسان میں نہیں ہوتا ہے۔ لوگ تو اولڈ ایج ہوم جانا پسند ہی نہیں کرتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں میں احساس، محبت اور ہمدردی ہوتی ہے وہ ضرور "اولڈ ایج ہوم" جاتے ہیں ان بزرگوں سے باتیں کر کے ان کو زندگی کی بہاریں اور چند پل خوشی کے دیتے ہیں۔ جس سے سب بزرگوں کے چہروں پر خوبصورت پھولوں جیسی تبسم بکھر جاتی ہے۔ جو سب کے دلوں کو بہت سکون میسر کرتی ہے۔ لیکن افسوس ! آج کل کی اولاد اپنے والدین کو بوجھ سمجھ کر اپنے گھر سے بے دخل کر کے ان کو "اولڈ ایج ہوم" چھوڑ آتے ہیں۔

اس اولاد کو پتا ہی نہیں ہے کہ والدین کا سایہ انسان کی زندگی میں کتنا قیمتی اور ضروری ہوتا ہے۔ کتنی رونق ہوتی ہے ان کے گھر میں ہونے سے لیکن وہ بد نصیب اولاد اپنے والدین کو تنہا اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتے ہیں اور خود کی زندگی کو پرسکون سمجھ لیتے ہیں جیسے ان کو زندگی میں بے شمار خوشیاں مل جائیں گی۔


زندگی کی ایک ایسی تلخ حقیقت جو انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ ایک اولاد کیسے اپنے والدین کو خود سے دور کر سکتے ہیں؟ کیسے ان کو اتنا بوجھ سمجھ کر "اولڈ ایج ہوم" میں تنہا چھوڑ دیتے ہیں؟ جہاں ان کو ہر آسائش میسر تو ہوتی ہے لیکن اپنی اولاد کی محبت ان کی قربت نہیں ملتی ہے۔ اپنی اولاد کو وہ اپنی نظروں کے سامنے دیکھ نہیں سکتے ہیں۔ ان سے باتیں نہیں کر سکتے ہیں۔ وہ اولاد جس کو انہوں نے اتنی دعاؤں کے بعد مانگا ہو، اس کے ناز نخرے اٹھا کر اس کو اتنی محبت دے کر پالا ہو۔ ہر طرح کی سہولیات میسر کر کے ان کی بہترین پرورش بھی کی ہو اور وہی اولاد کل کو ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے کی بجائے، ان کی خدمات کرنے کی بجائے ان کو خود سے الگ کر دیتے ہیں۔ ان کے زندگی کے آخری ایام میں ان کو خوشیاں، محبتیں دینے کی بجائے ان کو تنہا اس جگہ چھوڑ آتے ہیں جہاں سے ان کی واپسی بھی ممکن نہیں ہوتی ہے۔ ان کو اپنے ہی گھر سے بے گھر کر دیتے ہیں جہاں انہوں نے اپنے زندگی کے خوبصورت پل گزارے ہوتے ہیں۔ اپنی محنت سے بنائے ہوئے گھر اور اپنی اولاد کی محبتیں سمیٹی ہوتی ہیں۔ اسی گھر سے ان کی اولاد ان کو نکال دیتی ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ وہ بڑھاپے کو پہنچ گئے ہوتے ہیں۔ ان کو پیار، خلوص، چاہت کی توجہ چاہیے ہوتی ہے اور اولاد کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ہے ان کے لیے۔ وہ صرف بوجھ سمجھ لیتے ہیں اپنے والدین اور ان کی خدمت کرنے کو جس وجہ سے وہ اپنے والدین کو تنہا "اولڈ ایج ہوم" چھوڑ دیتے ہیں اور پلٹ کر ان کی خبر تک نہیں لیتے ہیں۔


ان بزرگوں کی باقی جتنی زندگی ہوتی ہے بس اسی بیعت الضعیف میں گزر جاتی ہے۔ وہی ان کا آخری سفر زیست ہوتا ہے جہاں ان کے آخری ایام گزرتے ہیں۔

کون سی ایسی اولاد ہوتی ہے جس کے دل میں احساس ہی نہیں ہوتا ہے؟ کیسے ان کا دل اس بات کے لیے مانتا اور راضی ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کو خود سے الگ تنہا کہیں چھوڑ دیں؟ کیسے اولاد اپنے والدین کو بوجھ سمجھ سکتی ہے؟ کیا انسان اتنا بے حس ہوگیا ہے اور اس کی انسانیت ختم ہوگئی ہے جو وہ اپنے والدین کو ہی بوجھ سمجھ کے چھوڑ دیتے ہیں؟


یہ نہیں سوچتے کہ آج دنیا میں وہ جس بھی مقام پر ہیں صرف اپنے والدین کی وجہ سے ہیں۔ ان کی بے جا قربانیوں اور خون پسینے کی محنتوں سے پالی ہوئی اولاد جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی، اپنی ہر خوشی داؤ پر لگا کر اس اولاد کی پرورش کی، اس کو اعلیٰ تعلیم دلاوائی، جس کی بدولت وہ آج اعلیٰ مقام حاصل کر سکے ہیں۔ آج اس اولاد کے لیے والدین بوجھ بن گئے ہیں وہ ان کو محبت، چاہت نہیں دے سکتے ہیں۔ ان کی خدمت نہیں کر سکتے ہیں۔ کتنی بد قسمت ہوتی ہے ایسی اولاد جو والدین کو بڑھاپے میں سنبھال نہیں سکتے ہیں۔ ان کی خدمت، ان کی قدر نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کو چند خوشی کے پل نہیں دے سکتے ہیں۔


والدین تو اولاد سے کوئی فرمائش ہی نہیں کرتے ہیں ان کی دلی تمنا، چاہت بس یہی ہوتی ہے ان کی اولاد ان کے سامنے رہے۔ ان کے ساتھ رہے، پیار، محبت سے باتیں کر سکے اور بس کچھ وقت ساتھ گزار سکے۔ لیکن بد نصیب اولاد یہ بھی نہیں کر سکتی اور بس والدین کو تنہا چھوڑ آتے ہیں۔


انسان کی زندگی کے سب سے قیمتی لمحات ہی وہ ہوتے ہیں جب وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتا ہے، ان کی محبت، چاہت، خلوص اور دعائیں سمیٹتا ہے تاکہ اس کی دنیا و آخرت سنور سکے۔ اس کا روشن مستقبل بن سکے۔ یہ وہ خوبصورت اور قیمتی لمحے ہوتے ہیں جو زندگی میں دوبارہ کبھی نہیں مل سکتے ہیں۔ والدین ایک بار اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے تو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ کبھی ان کی کمی پوری نہیں ہوگی۔ والدین کا نعم البدل ہی کوئی نہیں ہے۔ کبھی وہ دعائیں، چاہت، پیار، ہنسی نہیں مل سکے گی۔ تب صرف پچھتاوا اور کاش رہ جاتا ہے انسان کی زندگی کے ہر لمحے میں اور اس وقت انسان بے بس و لاچار ہو جاتا ہے اپنی تا عمر زندگی میں اس کے پاس صرف دکھ، درد اور آنسو رہ جاتے ہیں۔


خدارا ! اپنے والدین کی قدر کریں، ان کی عزت کریں، بے انتہا محبت کریں کیوں کہ والدین سے بڑھ کر کوئی بھی آپ کا اپنا نہیں ہے۔ کوئی بھی آپ کی ضروریات زندگی پوری نہیں کر سکتا ہے۔ جب والدین کا سایہ موجود ہے ان کی دل سے خدمت کریں، ان کو بوجھ نہ سمجھیں۔ یہی آپ کی کل کائنات ہے جس کی خدمت کر کے آپ کو دونوں جہانوں کی کامیابیاں ملیں گی۔ آپ اپنے رب کو راضی کر سکیں گے جس سے آپ کی دین و دنیا منور ہوگی اور آپ کا سفر زیست مکمل ہو سکے گا۔