گڈ گورننس کے دعوے اور گوجرخان کے زمینی حقائق،تحریر:قمر شہزاد
نقطہ نظر
راجہ جاوید اخلاص کی درخواست پر انکوائری، پھر بلدیہ کی مہر لگی رسیدوں کا نیا معاملہ، حکام خاموش کیوں؟
گڈ گورننس کے دعوے اور گوجرخان کے زمینی حقائق، بلدیہ و تحصیل آفس سے متعلق شکایات، مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کون کرے گا؟
ضلعی انتظامیہ، گوجرخان انتظامیہ، بلدیہ اور پیرا فورس جواب دیں، عوام کے ٹیکسوں کا بوجھ، مگر عوام کو ریلیف کیوں نہیں؟
گوجرخان (قمرشہزاد)
سابق پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص کی درخواست پر بلدیہ گوجرخان کے بعض معاملات کی تحقیقات کے لیے انکوائری ٹیم نے دو روز قیام کیا، تاہم اس کارروائی کے نتائج اور پیش رفت سے متعلق سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔اس معاملے کے بعد بلدیہ گوجرخان کی مہر لگی رسیدوں سے متعلق ایک الگ اور نیا معاملہ سامنے آیا، جس پر خبریں شائع ہوئیں اور رسیدیں بھی منظرعام پر لائی گئیں۔ یوں پہلے معاملے کے بعد ایک نئے پنڈورا باکس نے جنم لیا، جس نے بلدیہ کے مالیاتی نظام، رسیدوں کے اجرا اور متعلقہ ریکارڈ کی شفافیت پر مزید سوالات اٹھا دیے۔ دونوں معاملات کو الگ الگ دیکھتے ہوئے ان کی نوعیت، ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر تحقیقات ضروری ہیں۔ شہری حلقے سوال کرتے ہیں کہ رسیدوں کے اس معاملے کی باضابطہ جانچ کس سطح پر ہوئی، متعلقہ حکام نے کیا اقدامات کیے اور اب تک کیا نتائج سامنے آئے؟ چیف سیکرٹری پنجاب، محکمہ بلدیات اور کمشنر راولپنڈی کی جانب سے اس حوالے سے واضح پیش رفت سامنے نہ آنے پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اگر کسی مالی بے ضابطگی کا شبہ موجود ہے تو اس کا جواب خاموشی نہیں بلکہ ریکارڈ کی جانچ، شفاف تحقیقات اور حقائق کی اشاعت ہونا چاہیے۔ بلدیہ کے معاملات کے ساتھ تحصیل آفس میں مبینہ کرپشن اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق شہریوں کی شکایات بھی توجہ طلب ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی شکایات اور اس نوعیت کی شائع شدہ خبروں نے متعلقہ دفاتر کے طریقۂ کار، عوامی معاملات نمٹانے کے نظام اور نگرانی کے مؤثر ہونے پر سوالات پیدا کیے ہیں۔ تاہم کسی شکایت یا خبر کو بذاتِ خود جرم کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ریکارڈ کی جانچ ہو، شکایت کنندگان کو سنا جائے اور جہاں بے ضابطگی ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ زمین، انتقالات، فرد، رجسٹری اور دیگر دفتری امور کے لیے آنے والے شہریوں کو اگر غیر ضروری چکروں، تاخیر یا کسی ناجائز مطالبے کا سامنا کرنا پڑے تو یہ محض ایک فرد کی پریشانی نہیں بلکہ پورے انتظامی نظام کی ساکھ کا مسئلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ شہریوں کی شکایات کی نگرانی کون کرتا ہے، ان کی تحقیقات کس کے ذمے ہیں اور شکایت درست ثابت ہونے پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا کیا طریقۂ کار ہے؟ تحصیل آفس اور بلدیہ جیسے اداروں میں شفافیت محض سرکاری ہدایت ناموں سے نہیں، بلکہ ایسے نظام سے قائم ہوگی جس میں شہری کو اپنے جائز کام کے لیے سفارش، غیر ضروری انتظار یا کسی ناجائز دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ صورت حال پنجاب حکومت کے گڈ گورننس کے دعوؤں کا عملی امتحان بھی ہے۔ اگر ایک طرف عوامی خدمت کے نئے منصوبوں اور انتظامی اقدامات کی تشہیر ہو، مگر دوسری طرف شہریوں کو اپنے بنیادی دفتری کاموں، بلدیاتی سہولتوں اور بازاروں میں مناسب قیمتوں پر اشیائے ضروریہ کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا ہو تو کارکردگی کے دعوؤں کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں پسنے والا دیہاڑی دار طبقہ بچوں کی خوراک اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے؛ ایسے میں سرکاری اداروں کی غفلت یا مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث اس کی مشکلات میں اضافہ عوامی اعتماد کو مزید کمزور کرتا ہے۔ گڈ گورننس کا مطلب محض نئے عہدے، دفاتر، فورسز اور اعلانات نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جس میں سرکاری وسائل کا درست استعمال ہو، شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے اور شہری کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔ ضلعی انتظامیہ، گوجرخان انتظامیہ، بلدیہ اور پیرا فورس کو اپنی کارکردگی کے بارے میں عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ بازاروں میں نرخناموں پر عمل درآمد، تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی، شہری سہولتوں کی فراہمی اور شکایات کے ازالے کے لیے ہر ادارے کی ذمہ داری واضح ہونی چاہیے۔ اگر متعدد ادارے اور اہلکار تعینات ہونے کے باوجود عوامی مسائل برقرار ہیں تو ان کی کارکردگی، اخراجات اور عملی نتائج کا جائزہ کیوں نہ لیا جائے؟ سرکاری خزانہ عوام کے ٹیکسوں سے چلتا ہے؛ تنخواہوں، انتظامی اخراجات اور ادارہ جاتی وسائل کا جواز اسی وقت بنتا ہے جب ان کے بدلے عوام کو قابلِ پیمائش سہولتیں حاصل ہوں۔ دوروں، اجلاسوں اور تصویری سرگرمیوں کی تشہیر اپنی جگہ، لیکن شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان سرگرمیوں سے ان کے مسائل کتنے حل ہوئے۔ پیرا فورس سمیت متعلقہ اداروں کی کارکردگی بھی واضح نتائج کی بنیاد پر پرکھی جانی چاہیے، نہ کہ محض ان کے قیام یا موجودگی کو کامیابی سمجھ لیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری، محکمہ بلدیات اور کمشنر راولپنڈی گوجرخان میں سامنے آنے والے ان معاملات کو محض مقامی شکایات سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔ بلدیہ کی مہر لگی رسیدوں کے معاملے کی الگ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، تحصیل آفس سے متعلق شکایات کی جانچ، بازاروں میں سرکاری نرخوں پر عمل درآمد اور انتظامی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ تحقیقات کے نتائج اور کیے گئے اقدامات سے شہریوں کو آگاہ کیا جائے تاکہ افواہوں کے بجائے مستند حقائق سامنے آئیں اور ذمہ داری کا تعین ممکن ہو۔ اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت نے کتنے ادارے قائم کیے، بلکہ یہ ہے کہ ان اداروں نے عوام کو کیا دیا؟ اگر شہری اپنے ہی شہر میں بنیادی سہولتوں کے لیے پریشان ہوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کے سوالات جواب کے منتظر رہیں تو گڈ گورننس کے دعوؤں کو زمینی حقائق پر پرکھنا حکومت اور انتظامیہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔ عوام کو تشہیر نہیں، شفافیت؛ وعدے نہیں، عملی نتائج؛ اور خاموشی نہیں، جواب دہی درکار ہے۔
مزید پڑھیں



