فاصلے، چیلنجز اور حل،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند مروجہ روایات، اخلاقی اصول اور وہ معاشرتی اقدار ہوتی ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آتی ہیں۔ اقدار کسی بھی قوم کا وہ فکری اور اخلاقی سرمایہ ہوتی ہیں جو اسے دیگر اقوام سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان اقدار میں بڑوں کا احترام, چھوٹوں سے شفقت، سچائی، دیانت داری، رواداری، صلہ رحمی اور حیا جیسے سنہری اصول شامل ہیں۔ تاہم، موجودہ دور میں گلوبلائزیشن، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور سوشل میڈیا کے طوفان نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، وہاں ہماری معاشرتی اقدار اور نئی نسل کے درمیان ایک گہرا خلیج بھی پیدا کر دیا ہے۔ آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا نئی نسل ان اقدار سے دور ہو رہی ہے، یا پھر وقت کے تقاضوں نے اقدار کے مروجہ پیمانے بدل دیے ہیں؟
اگر ہم ماضی قریب کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے خاندانی نظام میں بچوں کی تربیت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں ہوتی تھی، بلکہ دادا، دادی، نانا، نانی اور محلے کے بزرگ بھی اس عمل میں برابر کے شریک تھے۔ بچوں کو کہانیوں اور بزرگوں کی صحبت کے ذریعے اخلاقیات کا درس دیا جاتا تھا۔ لیکن آج کے تیز رفتار دور میں مشترکہ خاندانی نظام کا خاتمہ اور مادہ پرستی کی دوڑ نے والدین اور بچوں کے درمیان وقت کے فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ اب والدین بچوں کو وقت دینے کے بجائے ان کے ہاتھوں میں سمارٹ فون تھما دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نئی نسل کی تربیت سمارٹ فون کی اسکرین، یوٹیوب ویڈیوز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے مرہونِ منت ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل میں صبر، برداشت اور قناعت پسندی جیسے اوصاف بتدریج کم ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ فوری ردعمل، غصہ اور مادہ پرستی لے رہی ہے۔
اس اخلاقی گراوٹ کا ایک بڑا سبب موجودہ دور کا معاشی بحران بھی ہے۔ آج کے دور میں معاشرتی اقتدار، طاقت اور دولت مند زندگی گزارنے کے لیے حد درجہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری طرف، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور تنگ دستی میں روز بروز خوفناک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عام آدمی سے سکھ چین چھین لیا ہے۔ جب بقا کی جنگ اتنی مشکل ہو جائے، تو معاشرے میں نفسا نفسی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ والدین صبح سے رات تک صرف دو وقت کی روٹی پوری کرنے کی محنت میں مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بچوں کی اخلاقی تربیت کو وقت نہیں دے پاتے۔ جب نئی نسل اپنے اردگرد صرف دولت اور طاقت کی پوجا ہوتے دیکھتی ہے، تو وہ بھی اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر ہر جائز و ناجائز طریقے سے امیر بننے کے خواب دیکھنے لگتی ہے۔
ٹیکنالوجی کے اس بے ہنگم سیلاب نے نئی نسل کو ذہنی طور پر اپنے خاندان اور ثقافت سے کاٹ دیا ہے۔ اب ایک ہی گھر کے ایک ہی کمرے میں بیٹھے چار افراد جسمانی طور پر تو ساتھ ہوتے ہیں، لیکن ذہنی طور پر چار الگ الگ دنیاؤں میں گم ہوتے ہیں۔ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر سستی شہرت اور لائکس کے حصول کے لیے نئی نسل بعض اوقات حیا اور اخلاق کی تمام حدیں پار کر جاتی ہے۔ مغربی تہذیب کے اندھے فیشن کو اپنانا اب جدیدیت کی علامت سمجھا جانے لگا ہے، جبکہ اپنی روایات کو پسماندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بڑوں کے سامنے اونچی آواز میں بات کرنا اور ان کے تجربات کو 'پرانے دور کی باتیں' کہہ کر مسترد کر دینا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔
تاہم، اس تمام صورتحال کا ذمہ دار صرف نئی نسل کو ٹھہرانا سراسر ناانصافی ہوگی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے نئی نسل کو جدید تعلیم تو دی، لیکن اخلاقی تربیت کے اسالیب کو جدید نہ بنا سکے۔ جب بزرگ یا والدین خود عملی طور پر ان اقدار کا نمونہ پیش نہیں کرتے، تو وہ بچوں سے کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ مخلص اور بااخلاق بنیں؟ سچائی کا درس دینے والے والدین جب بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں، تو نئی نسل کے ذہنوں میں اقدار کا تصور دھندلا جاتا ہے۔ اس لیے خرابی کی جڑ صرف نئی نسل نہیں، بلکہ وہ ماحول بھی ہے جو ہم نے انہیں فراہم کیا ہے۔
اس سنگین اخلاقی اور معاشرتی بحران سے نکلنے کے لیے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلا اور اہم قدم خاندانی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ حصہ لازمی طور پر بچوں کے لیے وقف کریں۔ ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی باتیں سنیں اور دوستانہ ماحول میں ان کی رہنمائی کریں۔ اقدار کبھی بھی ڈنڈے کے زور پر یا زبردستی مسلط نہیں کی جا سکتیں، بلکہ یہ محبت، تفہیم اور ذاتی مثال سے منتقل ہوتی ہیں۔
دوسرا بڑا کردار ہمارے تعلیمی اداروں کا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد 'آدمی کو انسان بنانا' ہوتا ہے، جو کہ اب مفقود نظر آتا ہے۔ نصابِ تعلیم میں جہاں جدید علوم شامل ہیں، وہاں اخلاقیات، اسلامی اقدار اور اسلاف کی تاریخ کو بھی لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اساتذہ کو طلبہ کی کردار سازی پر بھی یکساں محنت کرنی چاہیے۔ ایک بااخلاق استاد پوری نسل کو راہِ راست پر لا سکتا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ ہمیں میڈیا اور ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔ ہم نئی نسل کو ٹیکنالوجی سے دور نہیں رکھ سکتے، لیکن ہم انہیں اس کا تعمیری استعمال ضرور سکھا سکتے ہیں۔ ایسے ڈیجیٹل مواد کی تیاری وقت کی ضرورت ہے جو ہماری اسلامی اور مشرقی اقدار کا ترجمان ہو اور نئی نسل کے لیے پرکشش بھی ہو۔
حاصل کلام یہ ہے کہ نئی نسل کسی بھی قوم کا مستقبل اور اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔ اگر آج ہم نے ان کی اخلاقی اور معاشرتی اقدار کی آبیاری نہ کی، تو ہمارا مستقبل بے سمت اور بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا۔ نئی نسل باغی نہیں ہے، وہ صرف توجہ، محبت اور صحیح رہنمائی کی طلبگار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کے تجربات اور حال کے جدید تقاضوں کے درمیان ایک خوبصورت توازن پیدا کیا جائے۔ جب پرانی نسل کا تجربہ اور نئی نسل کا عزم و ولولہ مل کر کام کریں گے، تو ایک مثالی اور بااخلاق معاشرہ تشکیل پائے گا، جہاں اقدار صرف کتابوں کی زینت نہیں ہوں گی بلکہ عملی زندگی کا آئینہ دار ہوں گی۔
مزید پڑھیں



