ایک ہی دنیا، کسی کے لیے جنت، کسی کے لیے جہنم،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
نقطہ نظر
مہدی حسن کی آواز میں غزل سنتے سنتے آج قلم اٹھایا تو ایک شعر دل میں اترتا چلا گیا:
دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں
ایک دلربا ہے دل میں جو حوروں سے کم نہیں
غزل آگے بڑھتی رہی اور میں دو زندگیوں کا موازنہ کرتا چلا گیا۔ سوچتا رہا کہ آخر ایک ہی دنیا میں رہنے والے دو انسانوں کی زندگیوں میں اتنا فرق کیسے آ جاتا ہے؟ ایک ہی سورج دونوں کے لیے طلوع ہوتا ہے، ایک ہی چاند دونوں کی راتوں میں نکلتا ہے، موسم بھی ایک جیسے ہوتے ہیں، راستے بھی وہی اور شہر بھی وہی، مگر ایک شخص کے لیے یہ دنیا جنت ہے اور دوسرے کے لیے کسی طویل عذاب سے کم نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کے دل میں کوئی بستا ہے اور دوسرا اپنے دل میں خود بھی تنہا رہتا ہے۔
ایک شخص کی زندگی میں کوئی ایسا ہوتا ہے جس کے ایک پیغام سے اس کی صبح خوبصورت ہو جاتی ہے۔ جس کی آواز سن کر دن بھر کی تھکن اتر جاتی ہے۔ جس کے ناراض ہونے پر وہ بے چین ہو جاتا ہے اور جس کے مسکرانے پر اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کی تمام خوشیاں اس کے حصے میں آ گئی ہوں۔ اس کے لیے موسم کا اچھا ہونا ضروری نہیں، محبوب کی آواز ہی بہار بن جاتی ہے۔ اسے کسی بڑی کامیابی کا انتظار نہیں ہوتا، کبھی ایک مختصر سی گفتگو بھی اس کے پورے دن کو یادگار بنا دیتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا میں ایک شخص ایسا ضرور ہے جس کے لیے اس کا ہونا اہمیت رکھتا ہے۔
اب ذرا دوسری زندگی دیکھیے۔ ایک ایسا شخص جس کے پاس شاید پہلی شخصیت سے زیادہ دولت ہے، بہتر گھر ہے، اچھا لباس ہے، دوستوں کی محفلیں ہیں اور معاشرے میں ایک مقام بھی ہے، لیکن جب رات کے آخری پہر وہ اپنے کمرے میں واپس آتا ہے تو اس کے پاس اپنی خوشی بانٹنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ بھی دن بھر مسکراتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، کامیابیوں کا جشن مناتا ہے، مگر اسے معلوم ہے کہ اس کی خوشی کا کوئی مستقل گواہ نہیں۔ اسے بخار ہو تو دوا خریدنے میں مشکل نہیں ہوتی، مگر کوئی ایسا نہیں جو رات بھر اس کی طبیعت پوچھتا رہے۔ اس کے پاس گفتگو کے لیے سینکڑوں رابطے ہیں، لیکن دل کی بات کہنے کے لیے شاید ایک بھی نہیں۔
یہ دونوں انسان ایک ہی سڑک سے گزرتے ہیں۔ ایک کے کانوں میں محبوب کی آواز گونج رہی ہوتی ہے، وہ راستے کی ٹریفک میں بھی مسکرا رہا ہوتا ہے۔ دوسرا اسی سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ کاش کوئی ہوتا جسے گھر پہنچنے کی اطلاع دینا ضروری محسوس ہوتا۔ ایک کے لیے موبائل فون پر آنے والی معمولی سی اطلاع بھی خوشی کا پیغام ہے، دوسرے کے لیے سینکڑوں نوٹیفکیشن بھی بے معنی ہیں۔ ایک کو کسی کی ناراضی کا خوف ہے، دوسرے کو اس بات کا دکھ کہ کوئی ناراض ہونے والا بھی نہیں۔
محبت دراصل زندگی کی آسائشوں میں ایک ایسی آسائش ہے جسے دولت سے خریدا نہیں جا سکتا۔ یہ انسان کو معمولی چیزوں کی قدر سکھاتی ہے۔ کسی کے ساتھ چائے پینا، بے مقصد باتیں کرنا، ایک دوسرے کی پسند یاد رکھنا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنسنا اور کبھی خاموش بیٹھ کر بھی ایک دوسرے کی موجودگی محسوس کرنا، یہ وہ نعمتیں ہیں جن کی قیمت تنہائی میں رہنے والا انسان زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے۔ محبت میں انسان کو ہر روز کوئی معجزہ نہیں چاہیے ہوتا، کبھی کسی کا یہ پوچھ لینا ہی کافی ہوتا ہے کہ آج کا دن کیسا گزرا؟
البتہ محبت صرف خوبصورت لمحوں کا نام بھی نہیں۔ اس میں اختلاف ہے، انتظار ہے، ناراضی ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی مسلسل کوشش بھی ہے۔ مگر شاید اس کا سب سے بڑا حسن یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کی جنگ اکیلے نہیں لڑ رہا ہوتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں کوئی ایسا ہے جس کے سامنے اسے مضبوط بننے کا ڈرامہ نہیں کرنا پڑے گا، جہاں وہ اپنی ناکامی، خوف اور کمزوری سمیت قبول کیا جا سکتا ہے۔
ہم اکثر کامیابی کو دولت، عہدے اور شہرت کے پیمانے پر ناپتے ہیں، مگر کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس شخص کے پاس اپنی خوشی بانٹنے والا کوئی نہیں، اس کی کامیابی کتنی ادھوری ہو سکتی ہے؟ دنیا کی مہنگی ترین گاڑی میں بیٹھا ہوا انسان بھی کبھی اس شخص سے محروم ہو سکتا ہے جو پیدل چلتے ہوئے کسی کا ہاتھ تھامے ہوئے ہے۔ ایک کے پاس منزل تک پہنچنے کے ذرائع ہیں، دوسرے کے پاس سفر کو خوبصورت بنانے والا ہم سفر۔
شاید زندگی کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہی ہے کہ کوئی آپ کو چاہنے والا ہو، کوئی آپ کی غیر موجودگی محسوس کرے، کوئی آپ کے لوٹنے کا انتظار کرے اور کوئی ایسا ہو جس کے لیے آپ دنیا کے تمام خوبصورت انسانوں سے زیادہ خوبصورت ہوں۔
مہدی حسن کی غزل ختم ہو چکی تھی، مگر وہ شعر اب بھی ذہن میں گردش کر رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ دنیا کو بدلنے کے لیے ہمیشہ کسی انقلاب کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی ایک محبت کرنے والا دل بھی انسان کی پوری کائنات بدل دیتا ہے۔
ایک ہی دنیا ہے، مگر کسی کے لیے محبوب کی آنکھوں میں جنت آباد ہے اور کوئی اسی دنیا میں اپنے حصے کی ایک مسکراہٹ تلاش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں





