جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک لمحہ اور عمر بھر کا پچھتاوا،تحریر: شمسہ رانی

shamsa rani

بچوں کی ہنسی سے آباد گھر اچانک خاموشی کے ایسے صحرا میں بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ جہاں برسوں گزر جانے کے باوجود کسی کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ کبھی ایک معمولی سی چیز، جسے ہم خوشی کا سامان سمجھتے ہیں، زندگی کا ایسا کرب ناک باب بن جاتی ہے جسے پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔ والدین کے لیے اولاد محض ایک رشتہ نہیں، ان کی زندگی کی سب سے قیمتی امانت ہوتی ہے۔ اسی امانت کی حفاظت کے لیے بعض اوقات ایک چھوٹی سی احتیاط بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

برطانیہ کے شہر ہیلی فیکس سے سامنے آنے والا چھ سالہ بچے سلطان سے متعلق افسوس ناک واقعہ والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے تمام افراد کے لیے ایک اہم تنبیہ ہے۔ سلطان ایک غبارے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ بظاہر یہ ایک عام سی سرگرمی تھی۔ آخر کون سا گھر ایسا ہے جہاں بچوں کے ہاتھوں میں رنگ برنگے غبارے نہ دیکھے گئے ہوں؟ سالگرہ ہو، عید کی خوشیاں ہوں یا گھر میں کسی تقریب کا اہتمام، غبارے بچوں کی مسکراہٹوں میں رنگ بھر دیتے ہیں۔ مگر بعض اوقات یہی بے ضرر دکھائی دینے والی چیز غیر معمولی خطرے کا سبب بن سکتی ہے غبارے سے ہوا نکل جانے کے بعد بچے نے اسے منہ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں غبارے کا ٹکڑا اس کے گلے میں پھنس گیا۔ فوری طبی امداد کی کوششیں کی گئیں، لیکن افسوس کہ سلطان کی جان نہ بچائی جا سکی۔ اس واقعے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق کے بغیر ان کے بارے میں حتمی دعویٰ کرنا مناسب نہیں، تاہم اس سے وابستہ حفاظتی پیغام بالکل واضح ہے: غباروں کے ٹکڑے چھوٹے بچوں کے لیے دم گھٹنے کا خطرہ بن سکتے ہیں۔

ذرا سوچیے، جس گھر میں چند لمحے پہلے ایک بچہ کھیل رہا ہو، وہاں اس کی غیر موجودگی کس قدر گہرا خلا پیدا کر سکتی ہے۔ والدین کے لیے اولاد کی جدائی ایسا دکھ ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے حادثات کے بعد دل میں بار بار یہ خیال آ سکتا ہے کہ کاش پہلے خطرے کا اندازہ ہو جاتا، کاش کسی نے خبردار کر دیا ہوتا، کاش اس معمولی سی چیز کو بروقت ہٹا دیا جاتا۔ مگر حادثہ گزر جانے کے بعد پچھتاوے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ دوسروں کو ایسے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت آگاہ کیا جائے۔

ہم اکثر بچوں کی حفاظت کو بڑے خطرات تک محدود سمجھتے ہیں۔ ہم سڑک پار کرتے وقت ان کا ہاتھ پکڑتے ہیں، گرم چیزوں سے دور رکھتے ہیں، دواؤں کو ان کی پہنچ سے ہٹاتے ہیں، لیکن روزمرہ استعمال کی بعض چیزوں کے خطرات ہماری نگاہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ غبارہ بھی انہی چیزوں میں شامل ہے۔

امریکی اور برطانوی بچوں کی حفاظتی ہدایات سمیت مختلف طبی رہنمائیوں میں غباروں اور ان کے ٹکڑوں کو چھوٹے بچوں کے لیے دم گھٹنے کے خطرے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ خصوصاً پھٹے ہوئے یا ہوا نکل جانے والے غبارے کے ٹکڑے بچے کے منہ اور گلے میں پھنس سکتے ہیں۔ چھوٹے بچے اکثر چیزوں کو منہ میں ڈال کر ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں یہ شعور نہیں ہوتا کہ کون سی چیز محفوظ ہے اور کون سی ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اس لیے چند احتیاطی تدابیر کو معمول بنانا ضروری ہے۔ چھوٹے بچوں کو غبارے ہمیشہ کسی ذمہ دار بالغ کی نگرانی میں دیں۔ پھٹے ہوئے غبارے اور ان کے ٹکڑے فوراً اٹھا کر بچوں کی پہنچ سے دور محفوظ طریقے سے تلف کریں۔ غباروں کو چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں دے کر اکیلا نہ چھوڑیں، اور ان کے قریب پڑے ربڑ کے ٹکڑوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ اگر کسی بچے کا سانس رکنے لگے یا وہ دم گھٹنے کی علامات ظاہر کرے تو فوراً مقامی ایمرجنسی سروس سے رابطہ کریں اور عمر کے مطابق دم گھٹنے کی ابتدائی طبی امداد کے لیے تربیت یافتہ فرد کی مدد حاصل کریں۔

یاد رکھیے، نگرانی کا مطلب یہ نہیں کہ والدین ہر حادثے کو روک سکتے ہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ممکنہ خطرات کو پہچان کر ان کے امکانات کم کر سکتے ہیں۔

آگاہی ہی حفاظت کی پہلی سیڑھی ہے

والدین ہونا صرف بچوں کو محبت دینا، ان کی خواہشات پوری کرنا اور ان کے لیے خوب صورت مستقبل کے خواب دیکھنا نہیں، بلکہ ان کے گرد موجود خطرات کو پہچاننا بھی ہے۔ بعض اوقات ہماری توجہ چند لمحوں کے لیے ہٹتی ہے اور ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ بچے کے ہاتھ میں موجود معمولی سی چیز کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

میں تمام والدین، اساتذہ اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں سے گزارش کرتی ہوں کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ کسی حادثے کی خبر کو محض چند لمحوں کی اداسی سمجھ کر آگے نہ بڑھ جائیں، بلکہ اس سے حاصل ہونے والے سبق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ کسی دوسرے گھر کا دکھ ہمارے لیے یہ موقع بن سکتا ہے کہ ہم اپنے گھر میں پہلے سے زیادہ محتاط ہو جائیں۔

سلطان جیسے بچوں کے المناک واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ بچپن کی حفاظت محض والدین کی نہیں، پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں بچوں کے لیے ایسی فضا بنانی ہے جہاں کھیل خوشی کا ذریعہ ہوں، خطرے کا نہیں۔

کیونکہ بعض اوقات زندگی کا سب سے بڑا سبق کسی موٹی کتاب سے نہیں، ایک چھوٹے سے غبارے سے ملتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم یہ سبق کسی حادثے سے پہلے سیکھ لیں تو شاید کسی گھر کی ہنسی کو ہمیشہ کے لیے خاموش ہونے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔