ہمارے گھر کے بالکل سامنے ثانیہ کا گھر تھا۔ ثانیہ میری بچپن کی سہیلی۔ ہم دونوں ایک ساتھ سکول گئے، ایک ساتھ بڑے ہوئے۔ میری امی کہتی تھیں کہ سگی بہنوں میں بھی اتنا پیار نہیں ہوتا جتنا تم دونوں میں ہے۔
ثانیہ بہت ہوشیار تھی۔ بات کرنے کا انداز ایسا کہ کوئی بھی اس کا گرویدہ ہو جائے۔ اور میں... میں تھوڑی سادہ تھی۔ جلدی اعتبار کر لیتی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ ہم نے میٹرک کیا۔ ثانیہ کے ابو نے اسے کالج میں داخل کروا دیا، میرے گھر کے حالات کچھ ایسے تھے کہ میں نے گھر پر ہی رہ کر سلائی کڑھائی کا کام سیکھ لیا۔ لیکن ہماری دوستی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وہ روز کالج سے واپس آ کر سیدھا میرے پاس آتی۔
پھر ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ اسے ایک لڑکا پسند ہے۔ اس کا نام فہد تھا، اسی کے کالج میں پڑھتا تھا۔ وہ بہت امیر تھا۔ ثانیہ نے مجھے اس کی تصویریں دکھائیں، اس کے میسجز دکھائے۔ میں اس کے لیے بہت خوش ہوئی۔
کچھ مہینوں بعد ثانیہ کا رشتہ آنا شروع ہو گیا۔ ایک بہت اچھا رشتہ اس کے تایا نے بتایا تھا۔ لڑکا سعودی عرب میں انجینئر تھا۔ گھر والے بہت خوش تھے۔ لیکن ثانیہ اس رشتے سے انکار کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ فہد کو چاہتی تھی۔
اس نے مجھ سے کہا، "دیکھ، تو میری سب سے اچھی دوست ہے۔ تو میرے گھر والوں کو سمجھا کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔"
میں نے اس کی خاطر اس کی امی سے بات کی۔ اس کے ابو سے بات کی۔ میں نے جھوٹ بولا کہ ثانیہ پڑھنے میں بہت اچھی ہے۔ اس کے گھر والوں نے میری بات مان لی اور وہ رشتہ روک دیا۔
اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوئی۔
فہد کے گھر والوں نے صاف انکار کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ ثانیہ کے گھر والے اتنے امیر نہیں تھے۔ فہد نے بھی آہستہ آہستہ ثانیہ سے بات کرنا کم کر دی۔
اسی دوران میرے لیے ایک رشتہ آیا۔ لڑکا کراچی میں ایک اچھی کمپنی میں نوکری کرتا تھا۔ جب یہ خبر ثانیہ کو پتا چلی تو وہ خوشی سے میرے گلے لگ گئی۔ بولی، "اللہ تیرا نصیب اچھا کرے۔"
میری منگنی ہو گئی۔ لڑکے والوں نے مجھے ایک انگوٹھی پہنائی اور کچھ پیسے سلامی کے طور پر دیے۔
دو دن بعد ثانیہ میرے گھر آئی۔ کہنے لگی، "یار، میری ایک سہیلی کو بہت سخت ضرورت ہے، اس کی امی بیمار ہیں۔ اگر تو وہ سلامی والے پیسے کچھ دن کے لیے دے دے تو بڑا احسان ہوگا۔"
میں نے بغیر سوچے سمجھے وہ پیسے اسے دے دیے۔ ایک ہفتہ گزرا، پیسے واپس نہیں آئے۔
پھر میری شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ میں نے اپنا ایک بہت پیارا جوڑا، جو میرے منگیتر نے مجھے تحفے میں دیا تھا، ثانیہ کو دکھایا۔ اس نے کہا، "ذرا مجھے پہن کر دیکھنے دے۔" میں نے اسے دے دیا۔ وہ جوڑا بھی واپس نہیں آیا۔
آہستہ آہستہ مجھے کچھ عجیب لگنے لگا۔ ایک دن میرے منگیتر نے مجھ سے کہا، تمہاری سہیلی ثانیہ مجھے انسٹاگرام پر میسج کیوں کر رہی ہے؟" میرے منگیتر نے سکرین شاٹ بھیجا۔ ثانیہ اسے لکھ رہی تھی، "آپ بہت اچھے ہیں، نوشین تو بہت سادہ ہے۔"
تب مجھے سمجھ آیا۔
ثانیہ کو مجھ سے دوستی نہیں تھی، اسے مجھ سے مطلب تھا۔ جب اسے نوٹس چاہیے ہوتے، تو میں اچھی دوست تھی۔ جب اسے پیسوں کی ضرورت تھی، تو میں اچھی دوست تھی۔ اور اب جب اس کا اپنا رشتہ ٹوٹ گیا تھا، تو اسے میرا رشتہ توڑ کر اپنا مطلب نکالنا تھا۔
میں اس کے گھر گئی۔ وہ صاف مکر گئی۔ کہنے لگی، "کون سے پیسے؟ کون سا جوڑا؟"
اس دن میں بہت روئی۔ صرف پیسوں اور جوڑے کے لیے نہیں، اپنی بیس سالہ دوستی کے لیے۔
میری امی نے مجھے سمجھایا، "بیٹی، یہی مطلب پرستی ہے۔ مطلب پرست انسان شروع میں بہت میٹھا بنتا ہے۔ لیکن اس کا پیار، اس کی دوستی، سب ایک دھوکہ ہوتا ہے۔"
آج میری شادی کو دو سال ہو گئے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے میں اپنے گھر میں خوش ہوں۔
ہر مسکراتا ہوا چہرہ مخلص نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ آپ کی زندگی میں صرف اس لیے آتے ہیں کہ وہ آپ سے اپنا مطلب نکال سکیں۔
مزید پڑھیں






