Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اخلاقیات اور روزمرہ زندگی،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

ہم میں سے اکثر اخلاقیات کو کسی فلسفے کی کتاب یا مسجد و منبر کی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ اس کا اصل امتحان صبح گھر سے نکلتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ سڑک پر سگنل توڑنا یا رکنا، دکان پر ناپ تول میں ایمانداری برتنا یا ڈنڈی مارنا، دفتر میں وقت پر پہنچنا یا حاضری لگوا کر غائب ہو جانا، یہ سب اخلاقی فیصلے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم انہیں "معمولی باتیں" کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

اخلاقیات دراصل بڑے کارناموں کا نام نہیں، چھوٹے فیصلوں کے تسلسل کا نام ہے۔ کوئی شخص ایک دن میں نہ ایماندار بنتا ہے نہ بددیانت۔ جو آدمی بیس روپے کی رعایت ناجائز طور پر لینے میں شرم محسوس نہیں کرتا، وہ آگے چل کر بڑی خیانت میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ کردار اینٹ اینٹ کر کے بنتا ہے، اور اسی طرح بگڑتا بھی ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم نے اخلاق کو دکھاوے سے جوڑ دیا ہے۔ رمضان میں دسترخوان سجانا، عید پر قربانی کی تصویریں لگانا اور مذہبی تقریبات میں پیش پیش رہنا آسان ہے، مگر اسی دوران ملازم کی تنخواہ روک لینا، پڑوسی کا حق مار لینا یا بازار میں ملاوٹ شدہ مال بیچنا ہمیں کھٹکتا نہیں۔ عبادات اور معاملات کا یہ فاصلہ ہماری اجتماعی منافقت کی علامت ہے۔ دین نے تو معاملات کو عبادت کا لازمی حصہ قرار دیا تھا، مگر ہم نے دونوں کو الگ خانوں میں بند کر دیا۔

روزمرہ زندگی میں اخلاقیات کا پہلا میدان زبان ہے۔ ہم بات کرتے ہوئے کتنی آسانی سے جھوٹ بول جاتے ہیں: "ابھی راستے میں ہوں" جب کہ گھر سے نکلے ہی نہیں ہوتے، یا "میٹنگ میں ہوں" جب کہ ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم اسے مصلحت یا سماجی آداب کا نام دیتے ہیں، لیکن یہی چھوٹے جھوٹ اعتماد کی بنیاد کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ پھر غیبت اور افواہ سازی ہے جو ہماری محفلوں کا مستقل مشغلہ بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس بیماری کو اور تیز کر دیا ہے، جہاں بغیر تصدیق کے خبر آگے بڑھانا اور کسی کی عزت اچھالنا ایک کلک کا کھیل ہے۔

دوسرا میدان ہمارا رویہ کمزور کے ساتھ ہے۔ کسی معاشرے کی اخلاقی حالت جانچنی ہو تو دیکھیے کہ وہ اپنے گھریلو ملازمین، ریڑھی بانوں، رکشہ ڈرائیوروں اور بزرگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ طاقتور کے سامنے تو ہر شخص مہذب بن جاتا ہے، اصل کردار وہاں ظاہر ہوتا ہے جہاں کوئی جواب طلب کرنے والا نہ ہو۔ جو شخص اپنے کم حیثیت ملازم کو "آپ" کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور اس کی بات سنتا ہے، وہی حقیقت میں باوقار ہے۔

تیسرا میدان قانون اور اصول کی پاسداری ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سوچ کر قطار توڑ دیتے ہیں کہ "سب ہی تو یہی کرتے ہیں۔" یہ جملہ اخلاقی زوال کا سب سے خطرناک بہانہ ہے۔ اگر ہر شخص دوسرے کی بددیانتی کو اپنی بددیانتی کا جواز بنا لے تو اصلاح کا آغاز کبھی نہ ہو۔ تبدیلی ہمیشہ کسی ایک فرد کے اس فیصلے سے شروع ہوتی ہے کہ "کوئی کرے یا نہ کرے، میں نہیں کروں گا۔"

یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ اخلاقی ہونے کا مطلب خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا یا ہر وقت نصیحت جھاڑنا نہیں۔ بہت سے لوگ اصولوں کو دوسروں پر تنقید کا ہتھیار بنا لیتے ہیں اور اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں۔ حقیقی اخلاقیات انکسار سکھاتی ہے، اصل کوشش دوسروں کو سدھارنے سے پہلے اپنے آپ کو سدھارنے کی ہونی چاہیے۔

گھر وہ پہلی درس گاہ ہے جہاں اخلاق سیکھا جاتا ہے، اور بچے نصیحت سے کم اور مشاہدے سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ جو باپ بچے سے کہلواتا ہے کہ "کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں"، وہ دراصل جھوٹ کا سبق دے رہا ہوتا ہے، چاہے لیکچر سچ پر ہی کیوں نہ دے۔ ہم اپنے بچوں کو وہ نہیں بناتے جو ہم انہیں بتاتے ہیں، وہ بنتے ہیں جو ہم خود ہوتے ہیں۔

آخر میں سوال یہ ہے کہ اخلاقی زندگی کا فائدہ کیا ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں بددیانت اکثر کامیاب نظر آتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ اس کا پہلا انعام ضمیر کا سکون ہے، جو کسی دولت سے خریدا نہیں جا سکتا۔ دوسرا انعام اعتبار ہے، جو آہستہ آہستہ کمایا جاتا ہے مگر پوری زندگی کام آتا ہے۔ اور تیسرا یہ کہ آپ کی ذات سے ایک چھوٹا سا دائرہ ضرور بہتر ہوتا ہے، چاہے وہ گھر ہو، دفتر ہو یا محلہ۔

معاشرے اسمبلیوں کے قوانین سے نہیں، افراد کے روزمرہ رویوں سے بنتے اور بگڑتے ہیں۔ اگر ہم واقعی بہتر پاکستان یا بہتر دنیا چاہتے ہیں تو آغاز آج، ابھی، اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے کرنا ہو گا۔،