مجھے ایک عجیب سی عادت لاحق ہو گئی ہے اور اب تو یہ عادت میری شخصیت کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جب بھی میں کسی واٹس ایپ گروپ میں، کسی ادبی فورم پر، یا کسی معزز شخصیت کو کوئی پیغام بھیجتی ہوں تو بھیجنے کے فوراً بعد ایک بے چینی سی دل میں جاگ اٹھتی ہے۔ میں فوراً اسی پیغام کو دوبارہ پڑھتی ہوں، پہلی نظر میں ہی مجھے لگتا ہے کہ نہیں، یہ تو بہت سادہ، بہت پھیکا اور بے رنگ لکھ دیا ہے، اس میں وہ ادبی چاشنی کہاں ہے، وہ تاثیر کہاں ہے جو دل میں اتر جائے؟ یہ سوچتے ہی میری انگلی بے اختیار موبائل کی اسکرین پر موجود ایڈٹ کے بٹن کی طرف بڑھتی ہے، میں جلدی سے اسے دباتی ہوں اور لفظوں کو تراش خراش کر، جوڑ توڑ کر نئے پیرائے میں ڈھال دیتی ہوں، کبھی کسی لفظ کو زیادہ شائستہ کر دیتی ہوں، کبھی جملے کی ترتیب بدل دیتی ہوں، کبھی ایک نیا استعارہ ڈال دیتی ہوں۔ کچھ لمحے بعد پھر وہی بے چینی لوٹ آتی ہے، میں پھر وہی ترمیم شدہ پیغام پڑھتی ہوں، پھر لگتا ہے کہ ابھی بھی بات میں وہ گہرائی پیدا نہیں ہوئی جو میں چاہتی تھی، پھر دوسری بار ایڈٹ کرتی ہوں۔ کبھی کبھی یہ سلسلہ دو سے تین بار یونہی چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ دل پوری طرح مطمئن ہو جائے کہ اب پیغام درست ہے۔ یہ سہولت مجھے بہت اچھی لگتی ہے، لگتا ہے جیسے غلطی کو سدھارنے کا ایک دوسرا موقع مل گیا ہو، انسان سے خطا تو ہو ہی جاتی ہے، لیکن ٹیکنالوجی نے ہمیں اپنی خطا کو چھپانے، سنوارنے کا موقع دے دیا ہے۔
لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں ذرا دیر کر دیتی ہوں، مصروفیت میں یا خیالوں میں گم ہونے کی وجہ سے وقت گزر جاتا ہے اور واٹس ایپ پر سے ایڈٹ کا آپشن خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اس لمحے جو پریشانی اور بے بسی محسوس ہوتی ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے، دل میں صرف ایک ہی جملہ گونجتا ہے کہ اب تو تیر کمان سے نکل چکا ہے
اب یہ واپس نہیں آ سکتا۔ اب چاہے اس میں کتنی ہی املا کی غلطی ہو، یا لہجے کی سختی ہو، وہ ہمیشہ کے لیے وہیں ثبت ہو چکی ہے۔ اسی پریشانی اور بے بسی کے عالم میں ایک شام میرے ذہن میں ایک عجیب خیال بجلی کی طرح کوندا، میں کھڑکی کے پاس بیٹھی باہر برستی بارش کو دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ کاش! کاش ہماری زبان پر بھی ایسا ہی ایک ایڈٹ کا بٹن ہوتا، کاش زندگی میں بھی ہمارے پاس ایسا کوئی بٹن ہوتا کہ ہم غصے میں، جلد بازی میں، حسد میں یا بے خیالی میں جو تلخ اور زہر آلود بات کہہ دیتے ہیں، اسے فوراً ایڈٹ کر سکتے، ہم اس کے نوکیلے اور کانٹے دار لہجے کو نرم کر سکتے، اس کے کڑوے اور کھرے الفاظ کو میٹھا اور شیریں بنا سکتے، کاش ہم کسی کا دل دکھانے کے بعد فوراً اپنے لفظوں کو واپس لے کر انہیں محبت میں بدل سکتے۔
مگر یہ تو صرف ایک خواہش ہے، ایک ایسی حسرت ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی، حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری زبان پر کوئی ایڈٹ کا بٹن نصب نہیں ہے، نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہوگا، قدرت نے زبان کو ایسی ہی بے لگام بنایا ہے۔ زبان سے نکلا ہوا لفظ ایک آزاد پرندے کی طرح ہے، جو ایک بار پنجرے سے نکل جائے تو دوبارہ کبھی ہاتھ نہیں آتا، وہ ہوا میں تحلیل نہیں ہوتا، وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ سیدھا کسی کے دل کی نرم و نازک زمین پر جا کر پیوست ہو جاتا ہے اور وہاں اپنا گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ سمندر میں پھینکا گیا پتھر کتنی گہرائی تک گیا ہے، یہ صرف سمندر کی خاموش اور تاریک تہہ ہی جانتی ہے۔ پتھر پھینکنے والے کو اس کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا، بالکل اسی طرح ہماری زبان سے نکلنے والا ایک سخت، ایک طنزیہ، ایک حقارت بھرا جملہ کسی کے دل کو کتنا گہرا زخمی کر گیا، اس کا اندازہ صرف اس زخم کو سہنے والا ہی لگا سکتا ہے۔ کہنے والے کو اس کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا، کہنے والا تو کہہ کر بھول جاتا ہے، مگر سننے والا اسے عمر بھر یاد رکھتا ہے۔
اسی لیے تو میرے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے چودہ سو سال پہلے فرما دیا تھا: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ خاموشی میں کتنی بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ الفاظ میں بے پناہ طاقت ہوتی ہے۔ الفاظ آب حیات بھی ہیں اور زہر قاتل بھی، یہی الفاظ کسی ٹوٹے ہوئے دل کے لیے مرہم بن جاتے ہیں، کسی مایوس انسان کے لیے امید کی کرن بن جاتے ہیں، اور یہی الفاظ کسی ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیتے ہیں، کسی محبت بھرے دل میں نفرت کا بیج بو دیتے ہیں اور کسی ہنستے مسکراتے چہرے سے مسکراہٹ ہمیشہ کے لیے چھین لیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی زبان کو ایڈٹ کے بٹن کا محتاج نہیں بنانا چاہیے! بلکہ ہمیں بولنے سے پہلے ہی سوچ لینا چاہیے۔ تول لینا چاہیے، کیونکہ واٹس ایپ کا میسج تو ایڈٹ ہو جاتا ہے، اس کی غلطی سدھر جاتی ہے، مگر دل پر لگا ہوا زخم کبھی ایڈٹ نہیں ہوتا، وہ کبھی ڈیلیٹ نہیں ہوتا، وہ تو بس انسان کے ساتھ اس کی قبر تک چلا جاتا ہے، اور قبر میں پہنچ کر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کاش ہم نے اپنی زبان سے پہلے اپنے دل کو ایڈٹ کر لیا ہوتا، اپنے غصے کو ایڈٹ کر لیا ہوتا۔تو آج اس ملامت کا سامنا نا کرنا پڑتا۔
مزید پڑھیں





