Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خزاں رت،تحریر:نمرہ امین

نقطہ نظر
nimra amin

کبھی کبھی انسان کو لگتا ہے جیسے زندگی ایک جگہ رک سی گئی ہے۔ بالکل اس خزاں کے موسم کی طرح جس کے پتے خاموشی سے بغیر کسی شور اور شکایت کے درخت سے جدا ہو جاتے ہیں اسی طرح انسان بھی خالی درخت کی مانند تنہا رہ جاتا ہے۔ اس کا ساتھ دینے کے لیے کوئی موجود نہیں ہے۔ اس کو لگتا ہے جب ایک بار گر کر ٹھوکر لگتی ہے تو دوبارہ اس کو کوئی تھامنے والا نہیں ہوتا۔ ایک بار جب وہ زندگی کے ہر مقام پر ہار جاتا ہے تب اس کو سنمبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ایک بار جب سب ختم ہو جاتا ہے تو دوبارہ کبھی کچھ نہیں ملتا۔ سب کچھ اجڑ جاتا ہے۔ ہر چیز فنا ہو جاتی ہے۔ ہر رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہر خواب ادھورا رہ جاتا ہے کسی خواب کی تعبیر نہیں ہوتی۔ کوئی خواب پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا ہے۔ دل پھول کی مانند مرجھا جاتا ہے جو دوبارہ کبھی نہیں کھلتا۔


جب زمین پر قدم بڑھاؤ تو زرد، نارنجی پتے درخت سے ٹوٹ کر ایسے گرتے ہیں جس طرح فرش پر قالین بچھایا ہوتا ہے اس پر چلتے کرچی کرچی کی آواز خزاں کے موسم کی وہ سہانی آواز ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہر خوبصورت چیز ہمیشہ نہیں رہتی۔ پھول بھی ایک وقت میں مرجھا جاتے ہیں، درخت سے پتے بھی اپنے وقت پر، اپنی عمر پوری کر کے گر جاتے ہیں لیکن درخت پھر بھی پر امید اور خوش کھڑے رہتے ہیں۔ کیوں کہ اسے پتا ہے کہ خزاں کے بعد بہار آئے گی۔ جس سے اس پر نئے پتے اگ جائیں گے اور ایک ہرا بھرا درخت پھل، پھول سے پھر تیار ہو کر مکمل ہو جائے گا۔ اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جائے گا۔

خزاں کے آنے سے تو کسی کا بھی دل نہیں ٹوٹنا چاہیے، نہ مرجھانا چاہیے۔ بے شک وہ درخت ہوں یا انسان اس کو تو یہ امید ہونی چاہیے کہ بہار ضرور آئے گی اور اپنے ساتھ بہت ساری خوشیاں لائے گی۔ اس کو خزاں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اچانک سب کچھ ختم ہوگیا تو دوبارہ کچھ ملے گا نہیں۔ جیسے درخت کی صفائی ہوتی ہے اس کے پرانے پتے جھڑنے سے اسی طرح اپنے دل میں سے بھی ہر پرانی اور غلط باتوں کو نکال دینا چاہیے۔ دل میں مثبت خیالات اور سوچ رکھنی چاہیے کہ ایک دن اللہ ضرور مقررہ وقت پر کامیابی اور بے شمار نعمتوں سے نوازے گا۔ جو ہمارے حق میں بہترین ہوں گی۔ اس خاموش خزاں کی طرح ہماری زندگی میں بھی بے شمار خوشیاں اور تبدیلیاں لے کر بہار آئے گی۔ کیوں کہ ہر چیز کا وقت مقرر ہے۔ کھلنے کا، مرجھانے کا، سکون کا اور وہ تب ہی انسان کو میسر ہوگا جب اس کی قسمت میں لکھا ہوگا۔ اس لیے تو خزاں کا موسم آتا ہے کہ انسان خود کو ہر چیز کے لیے تیار کر سکے، وقت کے بدلنے سے لے کر، مرجھانے اور بہار کی خوشیاں حاصل کرنے تک وہ خود کو ہر ماحول کے مطابق ڈھال سکے اور تیار رہے۔ صرف منفی سوچیں ہی نہ سوچتا رہے کہ سب ختم ہوگیا تو دوبارہ کبھی کچھ ملے گا نہیں۔ ہر بار گر کر اٹھنا اور سنمبھلنا ہی انسان کو اس کی منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔ خزاں ہی ہمیں سیکھاتی ہے گر کر سنمبھلنا برا نہیں ہوتا بلکہ جو آج گرا ہے وہی کل کو بہار کا خوش دلی سے استقبال کرتا ہے۔


خزاں کے آنے سے جب دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں تو یہ راتیں اپنے ساتھ ایک سکون لاتی ہیں۔ ایسی پر سکون خاموشی جس میں انسان خود کو اپنے رب کے قریب کر لیتا ہے۔ اپنے دل کی ہر بات اپنے رب سے کر کے خود کو اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ سارے دن کی تھکن، بے چینی ایک لمحے میں ختم ہو جاتی ہے اور انسان خود کو اتنا ہلکا محسوس کرتا ہے جیسے ہر پریشانی سے اس کو آزادی مل گئی ہو اور واقعی اس خزاں کے بعد جو بہار آتی ہے وہ انسان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتی ہے جس میں صرف سکون ہی سکون ہوتا ہے۔