Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

الفاظ کے گھاؤ،تحریر: سائرہ علی

نقطہ نظر

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا ہتھیار کیا ہے؟ یہ نہ تلوار ہے، نہ بندوق۔ انسان کا سب سے بڑا ہتھیار اس کی زبان سے نکلنے والا ایک لفظ ہے۔ تلوار کا زخم تو وقت کے ساتھ بھر جاتا ہے، اس پر مرہم لگ جاتا ہے، نشان بھی مٹ جاتا ہے، لیکن زبان سے نکلا ہوا ایک زہریلا جملہ، ایک طعنہ، ایک گالی، ایک جھوٹا الزام نسلوں تک دل میں پیوست رہتا ہے۔ ہم جسم کے زخموں کا علاج ڈھونڈ لیتے ہیں، مگر الفاظ کے گھاؤ کا کوئی ہسپتال نہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں ہم نے ہاتھوں سے مارنا تو جرم سمجھ لیا ہے، لیکن زبان سے مارنا ہنر سمجھ لیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو بات منہ سے نکل گئی وہ ہوا میں تحلیل ہوگئی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بات کسی کے دل میں کیل کی طرح ٹھونک دی گئی ہے۔

(اسلام میں زبان کا مقام)

اسلام نے زبان کی حفاظت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص مجھے اپنی زبان اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔" (بخاری) ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "انسان اپنی زبان سے ایک ایسا لفظ نکالتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کی گہرائیوں میں ستر سال تک گرتا چلا جاتا ہے۔"

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ" یعنی انسان کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان لکھنے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ (سورۃ ق)

اسلام نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر کہا، طعنے دینے کو، جھوٹے الزام کو، چغلی کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔ کیوں؟ کیونکہ اسلام جانتا تھا کہ معاشرہ بموں سے نہیں ٹوٹتا، الفاظ سے ٹوٹتا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہم اپنی زبان کی باتوں پر بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: "اے معاذ! لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتی کے سوا اور کیا ہے؟"

(ہمارے رشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟)

آج طلاق کی شرح دیکھ لیں، بھائی بھائی سے جدا ہے، باپ بیٹے سے ناراض ہے، دوست دوست کا دشمن ہے۔ وجہ کیا ہے؟ زیادہ تر جھگڑوں کی بنیاد میں کوئی بڑی وجہ نہیں ہوتی، ایک زہریلا جملہ ہوتا ہے۔

1. میاں بیوی کا رشتہ: شوہر غصے میں بیوی کو کہہ دیتا ہے "تم تو ہو ہی نکمی، تمہارے ماں باپ نے تمہیں کچھ سکھایا ہی نہیں۔" بیوی جواب میں کہتی ہے "تم مرد ہی کیا ہو؟" بس ایک جملے نے بیس سال کی محبت کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔ وہ عورت جو سارا دن اس کے بچے پالتی ہے، اب اسے اپنے آپ سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ مرد جو سارا دن باہر رزق کماتا ہے، اسے لگتا ہے اس کی محنت کی کوئی قدر ہی نہیں۔ الفاظ نے دو جسموں کو ایک چھت میں اجنبی بنا دیا۔

2. ماں باپ اور اولاد: ہماری مائیں اکثر انجانے میں کہہ دیتی ہیں "تو تو منحوس ہے، جب سے تو پیدا ہوا ہے سکون ہی نہیں ملا۔" باپ کہہ دیتا ہے "تو میرے لیے مر گیا ہے۔" یہ جملے بچے کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح لگتے ہیں۔ وہ بچہ جو ماں باپ کی عزت کرنا چاہتا تھا، اب احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ کل کو جب وہی بچہ ماں باپ کو جواب دیتا ہے تو ہم کہتے ہیں نسل بگڑ گئی، حالانکہ نسل کو ہم نے اپنے الفاظ سے بگاڑا ہے۔

3. بہن بھائی اور خاندان: جائیداد کے جھگڑے میں ہم بھائی کو کہہ دیتے ہیں "تو نے تو ہمیشہ باپ کا مال کھایا ہے"۔ یہ ایک جملہ خون کے رشتے کو عدالتی فائلوں میں بدل دیتا ہے۔ شادی بیاہ میں ایک خاتون دوسری سے کہہ دیتی ہے "تمہاری بیٹی کا رنگ تو کالا ہے"۔ یہ ایک فقرہ دو خاندانوں میں ایسی دیوار کھڑی کر دیتا ہے جو پھر کبھی نہیں گرتی۔

(سوشل میڈیا نے زخموں کو ناسور بنا دیا)

پہلے الفاظ صرف چار دیواری میں رہتے تھے، اب سوشل میڈیا نے انہیں امر کر دیا ہے۔ واٹس ایپ کے ایک گروپ میں ہم کسی کی عزت کا جنازہ نکال دیتے ہیں، فیس بک پر کمنٹ میں کسی کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں یہ صرف ایک کمنٹ ہے، لیکن جس پر کیا گیا ہے اس کے لیے وہ پوری دنیا کے سامنے رسوائی ہے۔ کتنے ہی بچے اور بچیاں صرف اس طنز اور ٹرولنگ کی وجہ سے خودکشی تک پہنچ گئے۔ نفسیاتی تحقیق کہتی ہے کہ منفی الفاظ انسانی دماغ میں مثبت الفاظ سے سات گنا زیادہ دیر تک رہتے ہیں۔ آپ کسی کو سو بار کہیں آپ اچھے ہیں، وہ بھول جائے گا، ایک بار کہہ دیں آپ برے ہیں، وہ ساری زندگی نہیں بھولے گا۔

(تو حل کیا ہے؟)

پہلا حل: سوچ کر بولو۔ عرب کہتے ہیں "بات کو منہ میں اس وقت تک گھماؤ جب تک وہ میٹھی نہ ہو جائے۔" بولنے سے پہلے تین سوال خود سے پوچھیں: کیا یہ سچ ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟ کیا یہ نرم لہجے میں کہا جا سکتا ہے؟ اگر ان میں سے ایک کا بھی جواب نفی میں ہے تو خاموشی بہتر ہے۔

دوسرا حل: غصے میں فیصلہ اور الفاظ دونوں حرام سمجھو۔ جب غصہ آئے تو اسلام نے وضو کا حکم دیا، جگہ بدلنے کا حکم دیا۔ کیونکہ غصے میں نکلا ہوا لفظ تیر ہے جو کمان سے نکل کر واپس نہیں آتا۔ تیسرا حل: معافی مانگنا سیکھیں۔ ہم سمجھتے ہیں معافی مانگنے سے ہم چھوٹے ہو جائیں گے۔ حالانکہ معافی مانگنے والا بڑا ہوتا ہے۔ اگر آپ سے کسی کو الفاظ کا گھاؤ لگا ہے تو آج ہی جا کر کہیں "مجھ سے زیادتی ہوئی"۔ یقین مانیں آپ کا ایک نرم لفظ اس کے دل کے ناسور کو بھر دے گا۔ چوتھا حل: گھروں میں تعریف کا کلچر عام کریں۔ ہم تنقید میں تو پی ایچ ڈی ہیں، تعریف میں کنجوس ہیں۔ اپنے بیٹے کو کہیں "شاباش"، اپنی بیوی کو کہیں "کھانا اچھا بنا ہے"، اپنی ماں کو کہیں "آپ دعا دیتی ہیں تو سکون ملتا ہے"۔ یہ چھوٹے چھوٹے میٹھے الفاظ رشتوں میں سیمنٹ کا کام کرتے ہیں۔

آخری بات: یاد رکھیں، قیامت کے دن انسان کے ہاتھ پاؤں نہیں، اس کی زبان سب سے پہلے گواہی دے گی۔ ہم اپنی زبان سے کسی کو جنت کا راستہ بھی دکھا سکتے ہیں اور جہنم کا ایندھن بھی بنا سکتے ہیں۔

الفاظ مفت میں ملتے ہیں، لیکن ان کی قیمت بہت بھاری ہے۔ کوشش کریں کہ آپ کے الفاظ کسی کے زخموں پر نمک نہ بنیں، مرہم بنیں۔ کسی کے راستے میں کانٹا نہ بنیں، پھول بنیں۔ کیونکہ آخر میں لوگ آپ کی دولت، آپ کی ڈگری، آپ کا عہدہ نہیں یاد رکھیں گے، وہ صرف یہ یاد رکھیں گے کہ آپ کے الفاظ نے انہیں کیسا محسوس کرایا تھا۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے جانے کے بعد لوگ کہیں کہ اس کی زبان بہت کڑوی تھی، یا یہ کہیں کہ اس کے الفاظ میں شفا تھی؟ فیصلہ آج آپ کی زبان پر ہے۔