برطانیہ میں پناہ کیلئے تارکینِ وطن کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے والے مبینہ گروہ کے خلاف کارروائی، 3 ملزمان گرفتار

برطانیہ میں امیگریشن انفورسمنٹ حکام نے ایسے مبینہ جرائم پیشہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 3 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جس پر تارکینِ وطن کو ہم جنس پرست ظاہر کرکے پناہ حاصل کرنے کے لیے جعلی دعوے تیار کرنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔
بی بی سی کے مطابق منگل کی صبح لندن میں مختلف مقامات پر کارروائی کے دوران دو افراد کو فراڈ اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے شبے میں گرفتار کیا گیا، جبکہ ایک تیسرے شخص کو برطانیہ میں غیر قانونی طور پر موجود ہونے کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران حکام نے موبائل فونز، زیورات اور ہزاروں پاؤنڈ نقد رقم بھی قبضے میں لی۔
حکام کے مطابق مذکورہ نیٹ ورک تارکینِ وطن سے جعلی شواہد تیار کرنے کے عوض ایک ہزار سے ساڑھے 4 ہزار پاؤنڈ تک وصول کرتا تھا۔ مبینہ طور پر ان شواہد میں ہم جنس پرستی ظاہر کرنے والی مصنوعی تصاویر، جعلی دستاویزات اور ایسے خطوط شامل تھے جن میں درخواست گزاروں کے کسی ہم جنس فرد کے ساتھ دوستی یا جنسی تعلق کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔
برطانوی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک درجنوں بنگلہ دیشی مردوں کی پناہ کی درخواستوں میں معاونت کرچکا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اپنے ملک واپس جانے کی صورت میں انہیں جان کا خطرہ لاحق ہوگا۔ ہوم آفس کے مطابق اس نیٹ ورک سے منسلک 100 سے زائد پناہ کی درخواستوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ جعلی درخواستیں ممکنہ طور پر پہلے ہی منظور بھی ہوچکی ہوں گی۔
ہوم آفس کے علاقائی سربراہ برائے جرائم کی تحقیقات کرس فوسٹر نے بتایا کہ پناہ کی درخواستوں پر کام کرنے والے افسران نے مشتبہ درخواستوں میں ایک جیسے نمونے دیکھے، جس کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں اور کئی ماہ تک جاری رہنے والی تفتیش کے بعد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی لندن کے وائٹ چیپل میں قائم بنگلہ دیشی کمیونٹی کی ایک ایل جی بی ٹی تنظیم ’’اپن جون‘‘ سے منسلک جعلی دعووں کے حوالے سے کی گئی ہے۔ امیگریشن ججز ماضی میں اس تنظیم سے منسلک بعض شواہد کو ناقابلِ اعتبار قرار دے چکے ہیں، جبکہ ایک کیس میں ایک درخواست گزار کی جانب سے تنظیم کی تقریبات میں شرکت ظاہر کرنے والی تصاویر کو مصنوعی قرار دیا گیا تھا۔
ہوم آفس کے مطابق بعض افراد نے سیاسی بنیادوں پر پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اپنی مبینہ ہم جنس شناخت کو بنیاد بنایا۔ ایک کیس میں ایک شخص نے اپنی ابتدائی درخواست کے 9 سال بعد پہلی مرتبہ اپنی جنسی شناخت کا دعویٰ کیا۔
یہ کارروائی بی بی سی کی رواں سال اپریل میں سامنے آنے والی ایک تحقیقات کے بعد کی جانے والی کارروائیوں کا تسلسل ہے، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بعض ایڈوائزرز اور قانونی معاونین تارکینِ وطن کو ہم جنس پرست ظاہر کرکے جعلی پناہ کی درخواستیں تیار کرنے میں مدد فراہم کر رہے تھے۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے جعلی طور پر ظلم و ستم کا شکار ظاہر ہونے والوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد حقیقی متاثرین کا مذاق اڑاتے ہیں جنہیں تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی دعووں سے فائدہ اٹھانے والے گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ان کی غیر قانونی کمائی ضبط کی جائے گی اور انہیں بند کیا جائے گا۔ برطانیہ میں پناہ کے حصول کے لیے فراڈ ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔





