عدالتوں کے باہر کا منظر ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ کہیں کسی کے چہرے پر امید ہوتی ہے، کہیں برسوں سے لٹکے مقدمے کی تھکن، کہیں کسی ماں کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کی ضمانت کی دعا اور کہیں کسی باپ کے ہاتھ میں فائل، جس کے اندر اس کی پوری زندگی کے فیصلے بند ہوتے ہیں۔ اسی ہجوم میں ملک طارق بھی روزانہ دکھائی دیتا تھا۔شہر کا ایک معروف فوجداری وکیل۔ پندرہ برس سے عدالتوں میں مقدمات لڑ رہا تھا اور اپنی غیر معمولی جرح کے باعث خاصی شہرت حاصل کر چکا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ طارق کے ہاتھ میں اگر کوئی مقدمہ آ جائے تو ہار کو جیت میں بدلنا اسے خوب آتا ہے اس کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور تھی، مگر بڑے مجرم، بااثر لوگ اور دولت مند کاروباری افراد اس کے چیمبر کا راستہ جانتے تھے۔ طارق کے نزدیک وکالت کا مطلب صرف ایک چیز تھا: اپنے مؤکل کو بچانا۔وہ اکثر اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا:
"میرا کام کسی کو مجرم ثابت کرنا نہیں، اپنے مؤکل کا دفاع کرنا ہے۔ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ عدالت کرے گی۔"
یہ جملہ بظاہر بڑا اصولی تھا، مگر مسئلہ یہ تھا کہ طارق نے کبھی اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہونے کی کوشش نہیں کی تھی۔ پھر ایک دن اس کے پاس ایک ایسا مقدمہ آیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک معروف دوا ساز کمپنی پر الزام تھا کہ اس نے بچوں کے لیے تیار کیے جانے والے اینٹی بائیوٹک شربت میں غیر معیاری اور نقصان دہ کیمیکل استعمال کیے۔ متعدد بچے اس دوا کے استعمال کے بعد شدید بیمار ہوئے اور کئی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کی موت بیماری سے نہیں، اس دوا سے ہوئی تھی۔کمپنی کا مالک گرفتار ہوا تو طارق نے اس کا مقدمہ اپنے ہاتھ میں لے لیا مقدمہ آسان نہیں تھا۔ تین سال تک عدالت میں سماعتیں چلتی رہیں۔ کبھی لیبارٹری رپورٹ پر سوال اٹھایا گیا، کبھی گواہ کے بیان میں تضاد تلاش کیا گیا اور کبھی قانونی نکات کی ایسی گرہیں ڈالی گئیں کہ اصل معاملہ ان کے نیچے دب کر رہ گیا۔ طارق جانتا تھا کہ معاملہ کیا ہے، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ عدالت میں صرف جاننا کافی نہیں ہوتا، اسے ثابت بھی کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ ثابت کرنے کے بجائے شک پیدا کرنے میں ماہر تھا۔بالآخر فیصلہ سنانے کا دن آ گیا۔عدالت بھری ہوئی تھی۔ متاثرہ بچوں کے والدین بھی موجود تھے اور ملزم کے خاندان والے بھی۔طارق نے آخری دلائل دیے۔اس نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ اپنے الزامات کو شک سے بالاتر ثابت نہیں کر سکا۔ اس نے رپورٹس پر سوال اٹھائے، گواہوں کے بیانات میں تضادات گنوائے اور آخر میں کہا:"جنابِ والا، قانون میں شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔"جج نے فیصلہ سنایا۔ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔عدالت کے ایک حصے میں خوشی پھیل گئی۔ملزم کے رشتہ دار طارق سے ہاتھ ملانے لگے۔ کسی نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور کسی نے مبارک باد دی۔چیمبر واپس پہنچنے سے پہلے ہی اسے اس کی فیس کا بھاری چیک مل چکا تھا۔طارق کے چہرے پر اطمینان تھا۔اسے لگ رہا تھا کہ اس نے ایک اور مقدمہ جیت لیا ہے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ زندگی اس کے لیے بھی ایک مقدمہ تیار کر چکی ہے، جس میں نہ کوئی وکیل ہوگا، نہ قانونی موشگافیاں اور نہ شک کا فائدہ۔چیمبر پہنچ کر وہ ابھی صوفے پر بیٹھا ہی تھا کہ موبائل فون بج اٹھا۔دوسری طرف اس کی بیوی تھی۔اس کی آواز کانپ رہی تھی۔"طارق... فوراً اسپتال آؤ۔ ہارون کی طبیعت بہت خراب ہے۔"ہارون اس کا سات سالہ بیٹا تھا۔طارق کے ہاتھ سے موبائل تقریباً چھوٹ گیا۔وہ چند ہی منٹوں میں اسپتال پہنچا۔ ایمرجنسی کے باہر ڈاکٹرز کی ایک ٹیم موجود تھی۔ طارق نے گھبرا کر پوچھا:"میرا بیٹا کیسا ہے؟"ڈاکٹر نے کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا:"ہم پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن انفیکشن بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔""تو علاج کریں نا!" طارق تقریباً چیخ پڑا۔ "میں اسے شہر کے بہترین اسپتال میں لایا ہوں۔ جو دوا چاہیے، جو علاج چاہیے، کریں۔ پیسوں کی فکر نہ کریں۔"ڈاکٹر نے اس کی طرف دیکھا۔"مسئلہ پیسوں کا نہیں ہے۔"
"پھر کیا مسئلہ ہے؟"
ڈاکٹر نے ایک شیشی اس کے ہاتھ میں دے دی۔
"یہ دوا بچے کو دی گئی تھی۔ لیکن اس میں مطلوبہ اینٹی بائیوٹک مؤثر مقدار میں موجود نہیں۔"طارق نے شیشی کو غور سے دیکھا۔ڈاکٹر بولتا رہا: "ایسی جعلی اور غیر معیاری ادویات کے بارے میں کافی عرصے سے شکایات آ رہی ہیں۔ اگر دوا میں اصل جزو موجود نہ ہو تو انفیکشن قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔"طارق کی نظریں شیشی پر جم گئیں۔اس پر درج کمپنی کا نام دیکھ کر جیسے اس کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔وہی کمپنی۔وہی دوا۔وہی مقدمہ۔وہی مالک، جسے وہ چند لمحے پہلے عدالت سے بری کروا کر آیا تھا۔ طارق کے ذہن میں عدالت کا منظر دوبارہ زندہ ہو گیا۔ اسے وہ والدین یاد آئے جو اپنے بچوں کی تصویریں اٹھائے عدالت میں کھڑے تھے۔اسے وہ باپ یاد آیا جو فیصلہ سن کر خاموشی سے سر جھکا کر باہر چلا گیا تھا۔اسے اپنی آواز یاد آئی: "شک کا فائدہ ملزم کو دیا جائے۔"اس نے شیشی کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ بعض اوقات انسان دوسروں کے لیے جو راستہ کھولتا ہے، زندگی اسے ایک دن اسی راستے پر لا کھڑا کرتی ہے۔ اس کی جیب میں وہی لاکھوں روپے کا چیک موجود تھا۔جس رقم کو کچھ دیر پہلے وہ اپنی کامیابی سمجھ رہا تھا، اب وہ اسے اپنی زندگی کا سب سے بھاری بوجھ محسوس ہو رہی تھی۔وہ اسپتال کے کوریڈور میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔اس کے سامنے نہ کوئی جج تھا، نہ مخالف وکیل اور نہ کوئی قانون کی کتاب۔ صرف ایک باپ تھا۔ایک بیمار بچہ تھا۔اور ایک سوال تھا، جس کا جواب کسی عدالت میں نہیں مل سکتا تھا: اگر کسی دوسرے کے بچے کی زندگی کے بدلے ملنے والا پیسہ ہمارے اپنے گھر کی دہلیز تک پہنچ جائے، تو کیا وہ رزق رہتا ہے؟طارق نے پہلی بار اپنے پیشے، اپنی کامیابی اور اپنی کمائی کو ایک ساتھ دیکھا۔ اور شاید پہلی بار اسے سمجھ آیا کہ انسان عدالت میں دوسروں کے جھوٹ کو دلیل بنا کر جیت سکتا ہے، مگر زندگی کی عدالت میں اپنے ضمیر سے مقدمہ نہیں جیت سکتا۔ جھوٹ سے کمائی ہوئی دولت شاید جیب بھر دے، مگر دل کو کبھی سکون نہیں دے سکتی۔ کیونکہ رزق صرف وہ نہیں جو دسترخوان پر آتا ہے۔رزق وہ بھی ہے جس میں کسی مظلوم کی آہ شامل نہ ہو، کسی بے گناہ کا حق نہ دبایا گیا ہو اور کسی ماں کی گود اجڑنے کی قیمت ادا نہ کی گئی ہو۔ ورنہ کبھی کبھی انسان ساری عمر دولت کماتا رہتا ہے... اور آخر میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے دولت نہیں، اپنے ہی گھر کے لیے ایک آزمائش کمائی تھی۔






