الفاظ زندہ، احساس کیوں مردہ؟ تحریر:سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
ہوا کی خنکی بڑھ رہی تھی اور باہر سناٹا چھا گیا تھا۔ اس گہری خاموشی میں کچھ آہٹ سنائی دے رہی تھی جو کہ پتوں کی سرسراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ سناٹا سائے سائے کر رہا تھا اور جب دل پر ایک خوف سا طاری ہوا تو کمرے میں جلتے بلب کی روشنی بھی ہوا میں رقص کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ روشنی کے اس رقص اور بیرونی سناٹے میں، مجھے اپنی سہیلی لاریب کا چہرہ یاد آگیا۔ وہ لاریب جو کئی دنوں سے یونیورسٹی کی فیس جمع نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشان تھی اور اس کا فائنل امتحان سر پر تھا، جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے قوانین کے مطابق فیس پہلے جمع کرنا ضروری تھا۔
اس کی بات سننے اور دکھ سمجھنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ پہلے ایک اسکول میں پڑھاتی تھی، لیکن وہاں بھی اس کے ساتھ کچھ ایسی ہی ناانصافی ہوئی کہ اسے وہ اسکول چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد اپنی پڑھائی کے خواب کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اس نے ایک آفس میں صبح سے لے کر شام تک کی طویل اور تھکا دینے والی نوکری شروع کر دی۔ لاریب بہت محنت کرتی تھی، صبح سویرے آفس جاتی، دن بھر کام کرتی اور پھر گھر میں داخل ہو کر گھر کے تمام کاموں کو بھی اکیلے انجام دیتی تھی۔ اس کی بھاگ دوڑ اور خاموش تھکن سب کے سامنے تھی، مگر کسی کے پاس اس کا احساس کرنے کا وقت نہیں تھا۔
لاریب نے اپنی دن رات کی سخت محنت سے رقم جمع کر کے فیس تو ادا کر دی، لیکن کچھ دنوں بعد اس مسلسل ذہنی اور جسمانی تھکن کی وجہ سے لاریب کی طبیعت شدید ناساز ہو گئی۔ وہ بیماری کی وجہ سے آفس نہ جا سکی۔ آفس کی چھٹی ہونے کی وجہ سے وہاں کے انتظامیہ والوں نے ذرا بھی مروت نہ دکھائی اور بیماری کی درخواست دینے کے باوجود اسے نوکری سے نکال دیا۔ لاریب کا رو رو کر بہت برا حال ہو گیا، اس کے آنسو بہتے رہے، وہ اپنی مجبوری کی دہائی دیتی رہی، لیکن قوانین کے خشک الفاظ جیت گئے اور ایک انسان کا احساس ہار گیا۔
میں رات کے اس گہرے سناٹے اور ہوا میں رقص کرتی بلب کی روشنی کو دیکھ رہی ہوں اور سوچ رہی ہوں کہ لاریب کے بہتے آنسو اور سسکیاں سننے والا کوئی کیوں نہیں تھا؟ ہم ایک ایسے پرہجوم معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہر طرف الفاظ کا شور ہے، قوانین کی کتابیں ہیں، مگر انسان کا احساس مر چکا ہے۔ اگر ہم کسی کے گرتے ہوئے آنسو نہیں دیکھ سکتے، کسی کی مجبور سسکیاں نہیں سمجھ سکتے، تو ہمارے ان زندہ الفاظ کا کیا فائدہ؟ کیا ہم واقعی انسان ہیں، یا صرف چلتے پھرتے گوشت کے بت، جن کے الفاظ تو زندہ ہیں پر احساس ہمیشہ کے لیے مردہ ہو چکا ہے؟
مزید پڑھیں




