Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امن اور ادیب کا کردار،تحریر:اظہر سجاد

نقطہ نظر

انسانی شعور نے آنکھ کھولی تو انسان کو قدرتی آفات اور درندوں کا سامنا تھا۔ مگر جلد ہی اُسے اپنے جیسے انسانوں سے بھی نبرد آزما ہونا پڑا۔ اِس طرح انسان کے اندر ہمہ جہت خوف نے جنم لیا۔ شاید یہی خوف تھا جس نے انسان کو جانوروں، مظاہر فطرت اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو زیرِ نگیں کرنے پر اُکسایا۔ اِن جذبات واحساسات کے ساتھ ساتھ روز اوّل سے انسان کے اندر ایک ادیب بھی سانس لے رہا تھا۔ ایک ایسا ادیب جو امن چاہتا تھا۔ جو مظاہر فطرت کا ثناخوان تھا اور مل جل کر پُرامن زندگی بسر کرنے کا خواہاں تھا۔ اُس نے دلکش انداز میں کہانیاں، داستانیں، حکایتیں اور فسانے بیان کر کے اجتماعت کے جذبے کو فروغ دیا اور لوگوں میں قدرتی آفات اور ناگہانی مصائب کا مل جل کر مقابلہ کرنے کا شعور بیدار کیا۔ ادیب نے نہ صرف محبت کو زبان دی، خوبصورتی اور جذبات و احساسات کو بیان کرنے کا سلیقہ دیا بل کہ ظلم کے خلاف آواز بھی بلند کی۔ وہ کوئی ادیب ہی رہا ہو گا جس نے جبر و تشدد کو داستانوں کا حصّہ بنایا، محبت کی لازوال داستانیں اگلی نسلوں تک پہنچائیں۔


وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ادب اور ادیب کو مختلف اصناف میں درجہ بندی کر دی گئی ۔ جہاں دنیا کالونیاں اور مہلک ہتھیار بنانے میں مصروف رہی وہیں ادیب کا مرکزِ نگاہ انسان رہا۔ ادب سے منسلک شعراء، ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں نے روزِ ازل سے امن و آشتی اور رواداری کے فروغ کا پرچار کرکے عالمی امن میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

جاہ و حشم پسند لوگوں نے مادیت کو اپنا پش رو بنایا، کسی نے دُنیا کی تسخیر کرنے کے لیے کرہِ ارض کو تباہی سے دوچار کیا۔ مگر ادیب ہی وہ حساس دل تھا جو اِن بہیمانہ مہم جویوں پر تڑپ اٹھا۔ ادیب نے اپنا نکتہِ نظر بیان کرنے کے لیے کبھی گیتوں کا سہارا لیا، کبھی داستانوں اور کبھی افسانوں کا۔ جہاں کچھ اہلِ علم و دانش نے اپنی توجہ تسخیرِ کائنات اور انسانی صحت کی بہتری پر مرکوز کی وہیں کچھ مفاد پرست مادی سہولیات کی طلب پیدا کر کے دولت جمع کرنے کی حرص میں مبتلا رہے ، مگر ادیب نے اپنی صلاحیتیں نام نہاد ترقی کے مضر اثرات کو آشکار کرنے پر صرف کیں۔ لکھاری نے ہمیشہ انسان کے داخلی و خارجی رجحانات، نفسیات اور وقت کے ساتھ بدلتی صورت حال میں جنم لینے والے مسائل کو کھنگال کر انسانیت کو بچانے کی کوشش کی ۔اِس کٹھن راہ میں پائیدار عالمی امن کے لئے ادب کے متوالوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں بھی پیش کیں۔ صرف برِصغیر میں ہی فیض احمد فیض، مولانا حسرت موہانی، سجاد ظہیر، جوش ملیح آبادی، مولانا محمد علی جوہر، احمد ندیم قاسی اور حبیب جالب جیسے شاعروں اور ادیبوں نے حق گوئی کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ حکومتوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر معاشی عتاب اور دیگر مشکلات کا سامنا کیا۔ اِسی طرح صحافت سے منسلک کئی قلم کار اور جیالے اپنی تحریوں اور رپورٹنگ کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنے۔کچھ کو حق گوئی کے جرم کی پاداش میں قتل تک کر دیا گیا۔ اِن میں مختلف شعبوں سے وابستہ چند صحافیوں میں ؛ تحقیقاتی صحافی ڈینیئل پرل ، مصنف و صحافی فاضل وہاب ، فوٹو جرنلسٹ اور صحافی حیات اللہ خان ، ٹی وی رپورٹر موسیٰ خان خیل ، تحقیقاتی مصنف و صحافی سلیم شہزاد ، ٹی وی صحافی ولی خان بابر ، صحافی جواد نصیر رند ، ادیب و صحافی ہرنت ڈنک اور سماجی کارکن و صحافی نصراللہ گڈانی ایسے چند نام ہیں جِنھوں نے امنِ عالم کے لیے اپنی جانیں قربان کیں یا جبر و تشدد کا سامنا کیا۔


بے شک آج بھی ادیب امنِ عالم کے تحفظ کے محاذ پر ڈٹ کر کھڑا ہے۔ لیکن اب حالات بہت مختلف ہیں۔ ادیب کو اب زیادہ باخبر، باشعور اور وسیع النظرہونا پڑے گا۔ مفاد پرست عناصر کی نشاندہی کر کے کالی بھیڑوں کو اِس مقدس شعبے سے باہر نکالنا ہوگا۔ اب ایک لکھاری کی ذمہ داری اِس لیے بھی زیادہ ہے کہ معلومات، سوشل میڈیا اور فرد سے فرد تک رسائی کے ذرائع میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، کم تعلیم یافتہ، غریب اور سادہ لوح عوام کو بہکانہ آسان ہو گیا ہے۔ ایک قلم کار کی ذمہ داری ہے کہ وہ قلم کی طاقت کا ادراک کرتے ہوئے امنِ عالم کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے کیوں کہ آج دُنیا کو امن کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے۔