Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امن اور ادیب کا کردار،تحریر: ثوبیہ راجپوت

نقطہ نظر

امن صرف جنگ کے خاتمے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسے معاشرے کا خواب ہے جہاں انسان کو خوف نفرت تعصب اور ناانصافی سے نجات حاصل ہو۔ جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے۔ جہاں الفاظ دلوں میں فاصلے پیدا کرنے کے بجائے انہیں قریب لائیں اور جہاں انسان۔ انسان ہونے کے ناتے دوسرے انسان کے احترام کو اپنا فرض سمجھے۔ اس خوب صورت خواب کی تعبیر میں ادیب کا کردار نہایت اہم ہے۔ ادیب معاشرے کا حساس ترین فرد ہوتا ہے۔ وہ ان دکھوں کو محسوس کرتا ہے جنہیں اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ خاموش آنکھوں کی زبان سمجھتا ہے اور معاشرے میں پھیلتی ہوئی نفرت کی چاپ دوسروں سے پہلے سن لیتا ہے۔ اسی لیے قلم کار کی ذمہ داری صرف خوب صورت الفاظ لکھنا نہیں۔ بلکہ اپنے قلم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا بھی ہے۔ آج دنیا مختلف قسم کے تنازعات۔ جنگوں۔ مذہبی و لسانی تعصبات۔ معاشرتی تقسیم اور نفرت انگیز رویوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں ادیب کا قلم تلوار کا جواب تلوار سے دینے کے بجائے شعور۔ برداشت اور مکالمے کا راستہ دکھا سکتا ہے۔ ایک مؤثر تحریر کسی کے دل میں نفرت کے بجائے محبت پیدا کر سکتی ہے۔ ایک شعر کسی ٹوٹے ہوئے دل کو امید دے سکتا ہے اور ایک افسانہ انسان کو دوسرے انسان کے دکھ کو سمجھنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ ادیب کو چاہیے کہ وہ اپنے قلم سے جنگ کے خوفناک نتائج بیان کرے۔ مگر صرف جنگ کی مذمت تک محدود نہ رہے۔ وہ امن کی ضرورت۔ برداشت کی اہمیت اور انسانیت کی قدر بھی اجاگر کرے۔ وہ اپنے قارئین کو یہ احساس دلائے کہ اختلاف رائے فطری ہے۔ لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا انسانیت کے لیے نقصان دہ ہے۔

ہمارا ادب ہمیشہ سے معاشرے کے آئینے کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ آئینہ صرف مسائل کی تصویر نہ دکھائے بلکہ ان کے حل کی سمت بھی اشارہ کرے۔ ادیب اپنے کردار اپنے الفاظ اور اپنے رویے سے یہ ثابت کر سکتا ہے کہ قلم معاشرے کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔

امن کی بنیاد صرف معاہدوں اور قراردادوں سے مضبوط نہیں ہوتی۔ اس کے لیے دلوں میں برداشت۔ زبان میں شائستگی۔ رویوں میں احترام اور سوچ میں وسعت پیدا کرنا ضروری ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ادیب کا قلم اپنا حقیقی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہمیں ایسے ادب کی ضرورت ہے جو نفرت کے اندھیروں میں محبت کا چراغ روشن کرے۔ مایوسی کے ماحول میں امید پیدا کرے اور انسان کو اس کی بنیادی پہچان یعنی انسانیت کی طرف واپس لے آئے۔ قلم کار اگر اپنے قلم کو ذمہ داری سچائی اور انسان دوستی کے ساتھ استعمال کرے تو اس کا ایک لفظ بھی امن کی طرف ایک قدم بن سکتا ہے۔ کیونکہ جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی ہیں۔ مگر امن پہلے انسان کے دل میں جنم لیتا ہے۔ اور دلوں کو بدلنے کی طاقت رکھنے والوں میں ایک طاقتور آواز ادیب کی آواز بھی ہے۔