دنیا ہر سال 21 ستمبر کو عالمی یومِ امن مناتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن محض ایک خوبصورت لفظ، تقریر یا قرارداد کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی اجتماعی ذمہ داری ہے جس کا تعلق ہر انسان کی زندگی، عزت، آزادی اور مستقبل سے ہے۔ آج جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگیں، مسلح تنازعات، دہشت گردی، نفرت اور عدم برداشت کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، عالمی یومِ امن کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
امن کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کہیں گولیاں نہ چل رہی ہوں یا توپیں خاموش ہوں۔ حقیقی امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب انسان کو انصاف میسر ہو، اس کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں، اسے مذہب، رنگ، نسل، زبان یا قومیت کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا نہ ہو اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں خوف کے بجائے امید رکھتا ہو۔ اگر کسی معاشرے میں بظاہر خاموشی ہو لیکن وہاں ناانصافی، محرومی اور خوف موجود ہو تو اسے مکمل امن قرار دینا مشکل ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں نے صرف سرحدیں تبدیل نہیں کیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی زندگیاں بھی اجاڑ دیں۔ گھروں کے گھر تباہ ہوئے، بچے یتیم ہوئے، خواتین نے اپنے پیاروں کو کھویا اور نسلوں تک نفسیاتی اور معاشی اثرات منتقل ہوئے۔ اس کے برعکس امن نے معاشروں کو تعلیم، صحت، معیشت اور ترقی کے راستے پر آگے بڑھنے کا موقع دیا۔
ہمارے معاشرے میں بھی امن کی بنیاد صرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ ہر شہری اپنے رویے سے امن یا بے چینی کو فروغ دے سکتا ہے۔ گھر میں برداشت، محلے میں احترام، تعلیمی اداروں میں رواداری، سوشل میڈیا پر ذمہ دارانہ گفتگو اور اختلافِ رائے میں شائستگی—یہ سب امن کے عملی مظاہر ہیں۔
آج سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اظہارِ رائے کا موقع دیا ہے، لیکن یہی سہولت بعض اوقات نفرت، افواہوں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک غیر ذمہ دارانہ پوسٹ یا تبصرہ بھی معاشرے میں تقسیم پیدا کر سکتا ہے۔ اختلاف کرنا ہمارا حق ہے، مگر اختلاف کے ساتھ دوسروں کے احترام کو برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری بھی ہے۔
مذہبی اور بین المذاہب ہم آہنگی بھی پائیدار امن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ انسانی اقدار پر متحد ہو سکتے ہیں۔ انسانیت، رحم، انصاف، خدمت اور عزتِ نفس ایسی اقدار ہیں جو معاشرے کو جوڑتی ہیں، تقسیم نہیں کرتیں۔
امن کے لیے انصاف بھی ضروری ہے۔ جہاں کمزور کو انصاف نہیں ملتا، وہاں محرومی اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ اس لیے امن کے قیام کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کا تحفظ اور ہر شہری کے لیے مساوی انصاف کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔
عالمی یومِ امن ہمیں یہ سوال کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے حصے کا امن قائم کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ شاید ہم دنیا کی تمام جنگیں ختم نہ کر سکیں، لیکن ہم اپنے گھر، محلے، ادارے اور معاشرے میں نفرت کم کر سکتے ہیں۔ ہم کسی مظلوم کی آواز بن سکتے ہیں، کسی اختلاف کو مکالمے میں تبدیل کر سکتے ہیں اور کسی انسان کے ساتھ صرف اس لیے اچھا برتاؤ کر سکتے ہیں کہ وہ بھی ہماری طرح عزت اور امن کا حق رکھتا ہے۔
آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ امن کسی ایک ملک، مذہب یا ادارے کی ضرورت نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ضرورت ہے۔ اگر ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں جنگ کی زبان کے بجائے مکالمے، نفرت کے بجائے برداشت اور ناانصافی کے بجائے انصاف کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ عالمی یومِ امن کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ امن کو ایک دن کی تقریب نہیں بلکہ زندگی کا مستقل اصول بنایا جائے۔
مزید پڑھیں





