پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عورت کے لیے بہترین تحفہ ،تحریر:تابندہ طارق عکس

نقطہ نظر
tabinda tariq

ہر لکھنے والا کبھی نہ کبھی اس سوال سے گزرتا ہے کہ اس کے لفظوں اور کام کی کوئی قدردانی ہو رہی ہے یا نہیں۔ہمیں لکھتے ہوئے چھ سات سال ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں بہت سی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔جس جگہ بھی کام کیا ہے وہاں موجود سربراہان کے اچھے برے رویے اور مزاج سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا ہے۔کہتے ہیں کہ انسان سمجھدار نہیں ہوتا،انسان کو انسان سمجھدار بناتا ہے اور یہ بات حقیقت ہے جو سبق آپ کتابوں سے نہیں سیکھ سکتے وہ سبق آپ کو انسان اور رویے سکھاتے ہیں۔

بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑا ہے مگر طالب نظر رائٹرز فورم پاکستان وہ واحد ادارہ ہے جہاں ہمیں عزت کے ساتھ ساتھ بھرپور قدر و قیمت کا احساس بھی وقتا فوقتا کرایا جاتا ہے۔بے شک عزت ایک مہنگا تحفہ ہے، اسے ہر کوئی نہیں دے سکتا۔ یہ اعلیٰ ظرف لوگوں کی خاصیت ہوتی ہے اور اس ادارے میں ہمیں ایسے ہی سرپرست اعلی سر شہزاد خان سے جہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے وہی انھوں نے ثابت کیا ہے کہ اس مادیت پرستی کے دور میں،اس پر فتن دور میں ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو عورت کی عزت کرنا بخوبی جانتے ہیں جن کی نظر میں عورت یا تو بہن ہوتی ہے یا پھر بیٹی ہوتی ہے۔چاہیے اس عورت سے خون کا رشتہ ہے یا نہیں ہے لیکن اس کی حقیقت صرف یہی ہے وہ بہن ہے وہ بیٹی ہے۔

آج جب طالب نظر رائٹرز فورم پاکستان کی جانب سے ایک خوبصورت چادر یعنی شال کا تحفہ موصول ہوا ہے اور ہم دیر تک اسے دیکھتے رہے ذہن میں ایک ہی جواب تھا یہ محض ایک شال نہیں ہے یہ وہ عزت و احترام کا منہ بولتا ثبوت ہے جو یا تو ایک بھائی اپنی بہن کو دیتا ہے یا پھر ایک باپ اپنی بیٹی کو یہ انمول تحفہ ہے۔یہ اس اعتماد اس اپنائیت اور اس قدر دانی کی نشانی ہے جو اس ادارے نے ہمیشہ ہمیں دی ہے۔ اس تحفے کے لیے شکریہ کا لفظ ہمیں بہت چھوٹا محسوس ہو رہا ہے۔ مگر ہمارت پاس اظہار کا یہی ایک راستہ ہے کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں کا ہدیہ پیش کر سکیں۔

ہمیں اس فورم کے ساتھ کام کرتے ہوئے کم و بیش دو سال ہو گئے ہیں۔ یہ مدت اتنی لمبی نہیں کہ اسے برسوں کا ساتھ کہا جا سکے مگر عزت، حوصلہ افزائی، قدر دانی اور پذیرائی جتنی اس ادارے سے ملی ہے اتنی کہیں اور سے کبھی نہیں ملی۔چوں کہ ابھی طفل مکتب ہیں بہت کچھ سیکھنا ہے اور سیکھنے کے مراحل میں ہیں۔لیکن سر ہمیشہ یہی کہتے ہیں ملک کے نام ور،معروف سماجی کارکن ہیں آپ سب انھوں نے ہمیشہ بیٹا کہہ کر بلایا کبھی کسی کام پر شاباش ملی، کبھی کسی کمزوری پر نرمی سے رہنمائی کر دی اور ایسے کی کہ کبھی ہمیں محسوس نہیں ہونے دیا اور کبھی بغیر کہے یہ احساس ملا کہ ہماری محنت دیکھی جا رہی ہے۔ ایک لکھنے والے کو اور کیا چاہیے ہوتا ہے؟ شاید بس یہی کہ کوئی اس کی کوشش کو پہچان لے،اس کے کام کو سراہا جائے۔اس کی ہمت اس کا حوصلہ بڑھایا جائے۔

سر شہزاد خان کے بارے میں ہم نے اکثر لوگوں سے سنا تھا کہ وہ بہت سخت طبیعت کے مالک ہیں۔ دل میں ایک جھجک سی رہتی تھی، مگر جب ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ لوگ انہیں پوری طرح سمجھ ہی نہیں پائے ہیں۔ سختی ان کے مزاج کا حصہ نہیں ہے، یہ ان کی اصول پسندی کا حصہ ہے۔ جو انسان حق اور سچ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنے اصولوں کا پابند ہوتا ہے اور ایسے لوگ اکثر دور سے سخت دکھائی دیتے ہیں۔جب ان کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تو جانا ہے کہ وہ ایک نرم دل، مخلص اور بے حد منکسر انسان ہیں۔جتنی عاجزی سر کے مزاج میں ہے، شاید ہی کسی ادارے یا تنظیم کے سربراہ میں ہو۔ وہ سربراہ کم اور ایک شفیق بڑے بابا جی زیادہ لگتے ہیں جو اپنے بچوں کی غلطیوں پر ڈانٹتا بھی ہے اور ان کی کامیابی پر سب سے پہلے خوش بھی ہوتا ہے۔

اسلام میں چادر اور دوپٹے کی بڑی اہمیت ہے۔ اسے عزت، حیا اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہماری روایت میں بھی کسی کے سر پر چادر رکھنا اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ ہم تمہاری عزت کرتے ہیں اور تمہارا مان رکھتے ہیں۔ سر نے یہ بیش قیمت تحفہ بھیج کر ہم سب بچوں کو جو عزت اور وقار بخشا ہے، وہ ان کی اعلیٰ ظرفی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ چادر ہمارے لیے تہہ کر کے رکھ دینے والی چیز نہیں ہے یہ ایک ذمہ داری ہے۔ جب بھی اسے اوڑھوں گی تو ہمیں یاد رہے گا کہ ایک بابا جیسے شفیق شخصیت کی طرف سے بھیجا گیا انمول تحفہ ہے کہ انھوں نے اس لائق سمجھا اور ہمیں اس مان کی لاج رکھنی ہے۔

سر شہزاد خان کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور طالب نظر رائٹرز فورم پاکستان کی پوری ٹیم کا بھی، جن کی محبت اور دعائیں اس سفر میں ہمارے ساتھ رہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سر کو صحت، سلامتی اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اس ادارے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب ہو اور ہم سب مل کر اپنے قلم سے اردو زبان و ادب کی خدمت کرتے رہیں۔

آخر میں بس اتنا کہیں گے گی کہ تحفے کی قیمت اس کی مالیت سے نہیں ہوتی ہے اس کے پیچھے چھپے خلوص سے طے ہوتی ہے اور اس چادر کے پیچھے جو خلوص ہے، وہ ہمارے لیے بہت انمول ہے۔

آپ کی دعاؤں کی آرزو مند