Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عورت کھلونا نہیں….انسان ہے،تحریر: عارفین عائشہ

نقطہ نظر

عورت کھلونا نہیں ہوتی وہ ایک مکمل انسان ہے جس کے جذبات خواب عزتِ نفس اور اپنے خاندان خصوصاً بچوں کے بہتر مستقبل کی خواہش موجود ہے بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اب بھی بہت سے لوگ عورت کو اس کی محنت اور قابلیت کے بجائے اپنی ضرورت اور مطلب کی نظر سے دیکھتے ہیں جب کوئی عورت گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھتی ہے تو اکثر اس کے پیچھے پورے گھر کی ذمہ داریاں جڑی ہوتی ہیں بچوں کی تعلیمی فیس گھر کا کرایہ والدین کی دیکھ بھال یا دو وقت کی روٹی کا بندوبست جیسے معاملات اسے کام کی تلاش پر مجبور کرتے ہیں وہ امید کے ساتھ نکلتی ہے کہ شاید آج اس کی محنت کی قدر ہوگی مگر راستے میں جھوٹے وعدے بار بار کے انکار اور وقت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ صرف وقت کا نقصان نہیں بلکہ ایک عورت کی امیدوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے

کام کی تلاش میں عورت کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی کہا جاتا ہے کہ پروجیکٹ آرہا ہے کبھی انتظار کی ہدایت دی جاتی ہے اور کبھی محض بلا کر وقت ضائع کیا جاتا ہے جو عورت گھر سے نکلتے وقت بچوں سے کہتی ہے کہ ان شاء اللہ کچھ لے کر آئے گی جب خالی ہاتھ لوٹتی ہے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے یہ شاید کم ہی لوگ محسوس کر پاتے ہیں وہ بچوں کے سامنے مسکراتی ہے مگر اندر سے پریشان ہوتی ہے اگلے دن پھر کوشش کرتی ہے کیونکہ عورت ہار ماننے کے لیے نہیں بنی وہ دھوپ سفر کم معاوضے اور انکار کو برداشت کرتی ہے سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب اس کی محنت کے بجائے اس کی مجبوری کو دیکھا جائے کام مانگنا کمزوری نہیں بلکہ مضبوطی کی علامت ہے وہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہے اور بار بار مسترد ہونے کے باوجود دوبارہ کوشش کرتی ہے بدقسمتی سے کچھ افراد اسی جدوجہد کو موقع سمجھ کر جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور بعض اوقات عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتے ہیں عورت کی مجبوری کسی کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ اس کے جذبات سے کھیلے یا اسے مذاق کا نشانہ بنائے

عورت جب کام کرتی ہے تو اکثر صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پوری نسل کا مستقبل بدل رہی ہوتی ہے وہ بچوں کو تعلیم دلاتی ہے ان کی ضروریات پوری کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ وہ مشکلات نہ دیکھیں جو اس نے دیکھی ہیں اسی مقصد کے لیے وہ اپنی خواہشیں نیند اور صحت قربان کرتی ہے معاشرہ اسے صرف ایک عورت سمجھتا ہے حالانکہ وہ ماں بیٹی بہن اور انسان بھی ہے اسے عزت اعتماد اور ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں جنس کی بنیاد پر اسے کمزور نہ سمجھا جائے ہمیں سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کام دیں تو قابلیت کی بنیاد پر دیں

یاد رکھنا چاہیے کہ جس عورت کو آج معمولی سمجھا جا رہا ہے وہ شاید اپنے بچوں کے لیے ایک پوری دنیا بنا رہی ہو کل اسی کی محنت اس کے بچوں کی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے عورت کھلونا نہیں کسی کے وقت گزاری کا ذریعہ نہیں اور جھوٹے وعدوں کا شکار بننے کے لیے دنیا میں نہیں آئی وہ مکمل انسان ہے جسے عزت موقع اور کام چاہیے اگر وہ محنت کے بل پر آگے بڑھنا چاہتی ہے تو معاشرے کا فرض ہے کہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے راستہ ہموار کرے

لہٰذا عورت کو کھلونا نہ بنائیں اور اس کی مجبوری کا مذاق نہ اڑائیں کام ہے تو دیں نہیں ہے تو صاف کہہ دیں جھوٹی امید دے کر وقت لے کر یا عزتِ نفس سے کھیل کر بڑا بننے کی کوشش نہ کریں عورت کمزور نہیں ہوتی وہ اکثر خاموش ہوتی ہے اس خاموشی کو کمزوری سمجھنا معاشرے کی بڑی غلطی ہے عورت کو انسان سمجھیں اس کی محنت کی قدر کریں اور عزت دیں کیونکہ جب ایک عورت اپنے بچوں کے لیے لڑتی ہے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل بدل رہی ہوتی ہے