عورت نے دروازہ نہیں، تاریخ کھولی،تحریر:ایم زیڈ کنول
نقطہ نظر
تاریخ کبھی ایک ہی دن میں نہیں بدلتی۔کبھی وہ کسی خاموش عورت کی آنکھ میں پلتی ہے، کبھی کسی ماں کے خواب میں، کبھی کسی بیٹی کے سوال میں اور کبھی کسی ایسی عورت کے قدموں کی چاپ میں جو صدیوں سے مردوں کے لیے مخصوص سمجھے جانے والے اقتدار کے ایوان میں داخل ہوتی ہے۔
1988 میں پاکستان نے وہ قدم سنا تھا۔
دو دسمبر کو بے نظیر بھٹو نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو یہ محض پاکستان کی سیاسی تاریخ کا واقعہ نہیں تھا۔ وہ جدید دور میں کسی مسلم اکثریتی ملک کی حکومت کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔
اور اب تقریباً اڑتیس برس بعد، 29 ستمبر 2026 کو مراکش سے ایک اور خبر آئی ہے۔ بادشاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرا المنصوری کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ یوں وہ مراکش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور عرب دنیا میں اس منصب تک پہنچنے والی دوسری خاتون بن گئیں۔ ان سے پہلے تیونس کی نجلا بودن 2021 سے 2023 تک وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہی ہیں۔
یہ ان دو واقعات کے درمیان محض اعداد کا فاصلہ نہیں۔ یہ تاریخ کے دو کناروں کے درمیان پھیلا ہوا ایک پل ہے۔
بے نظیر نے ایک بند دروازے پر دستک دی تھی ۔ان کا سیاسی سفر کسی آرام دہ قالین پر چلنے کا نام نہیں تھا۔ ان کے سامنے ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں عورت کو سیاسی اقتدار کے اعلیٰ ترین منصب پر دیکھنا بہت سے لوگوں کے لیے ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا۔
1988 میں جب وہ اقتدار میں آئیں تو پاکستان گیارہ سالہ فوجی حکمرانی کے بعد جمہوری دور کی طرف واپس آ رہا تھا۔ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، اگرچہ اسے مجموعی اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی ۔ تاہم اتحادی سیاست کے ذریعے حکومت تشکیل پائی۔
یوں بے نظیر کی وزارتِ عظمیٰ محض ایک خاتون کی ذاتی کامیابی نہیں تھی۔
وہ اس تصور کے سامنے ایک سیاسی دلیل تھی کہ ریاست کی قیادت جنس کی جاگیر نہیں۔
ان کے حلف نے ایک ایسے سوال کو عملی جواب دیا جس پر معاشرہ طویل عرصے سے بحث کرتا آیا تھا۔
کیا عورت صرف گھر کی تقدیر لکھ سکتی ہے، ریاست کی نہیں؟
پاکستان نے 1988 میں اس کا جواب یوں دیا:
ہاں وہ دونوں لکھ سکتی ہے۔
یہ جواب اپنی تمام تاریخی پیچیدگیوں، سیاسی تنازعات اور بعد کے اختلافات کے باوجود اپنی علامتی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔
پھر تاریخ نے مراکش کا رخ کیا
29 ستمبر 2026 کو رباط سے آنے والی خبر نے اسی تاریخی سلسلے میں ایک نیا ورق جوڑ دیا۔
فاطمہ زہرا المنصوری کو مراکش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم مقرر کیا گیا۔ وہ اس سے قبل مراکش کی وزیرِ شہری منصوبہ بندی و ہاؤسنگ اور مراكش کی میئر رہ چکی تھیں۔
یہاں ایک اہم فرق بھی سمجھنا چاہیے۔
بے نظیر ایک منتخب پارلیمانی عمل کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ تک پہنچی تھیں۔ مراکش میں آئینی نظام کے تحت بادشاہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سے حکومت کے سربراہ کا انتخاب کرتا ہے۔ 2026 کے انتخابات میں المنصوری کی جماعت، اصالت و معاصرت پارٹی (PAM)، 395 رکنی ایوان میں 97 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بنی، مگر اسے سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ چنانچہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اتحاد سازی ضروری ہے۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
کیونکہ عورت کی سیاسی پیش رفت کا مطالعہ صرف اس سوال سے نہیں ہونا چاہیے کہ عورت اقتدار تک پہنچی یا نہیں؟
اس سے اگلا سوال زیادہ اہم ہے:
وہ اقتدار کے اندر کس حد تک فیصلہ سازی کرتی ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں جشن کو تجزیے میں تبدیل ہونا چاہیے۔
کسی ملک کی سربراہِ حکومت کا عورت ہونا یقیناً تاریخی علامت ہے، مگر صرف علامت معاشرے نہیں بدلتی۔ ایک عورت کا وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنا چھت میں بننے والی پہلی کھڑکی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کھڑکی سے روشنی کتنے گھروں تک پہنچتی ہے؟
اگر عورت اقتدار میں آ جائے مگر عام عورت تعلیم، صحت، روزگار، سیاسی نمائندگی، قانونی تحفظ اور معاشی خود مختاری سے محروم رہے تو تاریخ کا یہ خوب صورت عنوان ایک ادھورا جملہ بن کر رہ جاتا ہے۔
اس لیے بے نظیر بھٹو اور فاطمہ زہرا المنصوری کی سیاسی اہمیت کو صرف صنفی علامت کے طور پر دیکھنا بھی محدود زاویہ ہوگا۔
دونوں واقعات ہمیں ایک وسیع تر سوال کی طرف لے جاتے ہیں۔
کیا معاشرے عورت کو اقتدار میں صرف اس وقت قبول کرتے ہیں جب وہ غیر معمولی ہو، یا اب عام عورت کے لیے بھی سیاسی راستے کشادہ ہو رہے ہیں؟
یہ فرق بنیادی ہے۔
کیونکہ اگر ہر کامیاب عورت کو صرف ’’استثنا‘‘ بنا کر پیش کیا جائے تو معاشرہ لا شعوری طور پر یہ تسلیم کرتا رہتا ہے کہ اصل نظام ابھی بھی مرد کے لیے ہے۔
مسلم دنیا کی کہانی اتنی سادہ بھی نہیں
یہاں ایک اور تاریخی احتیاط ضروری ہے۔
مسلم اکثریتی معاشروں کو ایک ہی سانچے میں رکھنا درست نہیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش، ترکی، انڈونیشیا، مراکش اور تیونس کے آئینی، سیاسی، سماجی اور تاریخی ڈھانچے مختلف ہیں۔
اسی طرح عورت کی سیاسی قیادت کو صرف مذہب کے تناظر میں سمجھنا بھی ایک سطحی تجزیہ ہوگا۔
بے نظیر بھٹو کے اقتدار کے زمانے میں ہی یہ بحث موجود تھی کہ عورت کی سیاسی قیادت کو مذہبی اصولوں سے کس طرح دیکھا جائے۔ اس وقت مختلف مذہبی اور سیاسی حلقوں میں شدید اختلافات بھی سامنے آئے تھے۔
مگر تاریخ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات سماجی سوال کا جواب نظریاتی مناظرے سے نہیں، عملی تجربے سے نکلتا ہے۔
جب ایک عورت ریاستی منصب سنبھالتی ہے تو بحث ’’کیا عورت کر سکتی ہے؟‘‘ سے نکل کر ’’اس نے کیا کیا؟‘‘ پر آ جاتی ہے۔
اور یہی شاید سب سے بڑی تبدیلی ہے۔
بے نظیر بھٹو نے ایک دروازہ کھولا تھا۔ فاطمہ زہرا المنصوری نے اسی خطے کی سیاسی تاریخ میں ایک اور دروازہ کھولا ہے۔
مگر دروازہ کھل جانا منزل نہیں۔
المنصوری کے سامنے اب مہنگائی، روزگار، اجرتوں، نوجوانوں کی بے اطمینانی، ہجرت اور 2030 کے عالمی فٹ بال کپ سے وابستہ بڑے ترقیاتی منصوبوں جیسے چیلنجز ہیں۔
یعنی تاریخ نے انہیں صرف ایک اعزاز نہیں دیا۔ اس کے ساتھ ایک بھاری ذمہ داری بھی رکھ دی ہے۔
یہی اقتدار کا اصل چہرہ ہے۔
حلف کی تقریب میں تالیاں مختصر ہوتی ہیں، لیکن حکمرانی کے سوالات طویل۔
کسی خاتون کا وزارتِ عظمیٰ تک پہنچ جانا تاریخ کا واقعہ ہے۔
اس منصب کو عوامی زندگی میں بامعنی تبدیلی میں بدل دینا سیاست کا امتحان ہے۔
ایک بیٹی سے دوسری بیٹی تک
1988 میں پاکستان کی سڑکوں پر ایک نئی سیاسی علامت ابھری تھی۔
2026 میں مراکش کے افق پر ایک نئی علامت نمودار ہوئی ہے۔
درمیان میں تاریخ نے کئی کروٹیں بدلیں، کئی عورتیں پارلیمانوں میں پہنچیں، کئی نے وزارتیں سنبھالیں، کئی نے بلدیاتی اداروں کی قیادت کی، کئی نے مزاحمت کی اور کئی خاموشی سے وہ کام کرتی رہیں جنہیں تاریخ نے کبھی عنوان نہیں بنایا۔
بے نظیر بھٹو اور فاطمہ زہرا المنصوری کی کہانی اسی بڑے سفر کے دو نمایاں سنگِ میل ہیں۔
ایک نے مسلم اکثریتی ملک میں عورت کی وزارتِ عظمیٰ کا پہلا باب لکھا۔ دوسری نے مراکش میں پہلی خاتون سربراہِ حکومت بن کر عرب دنیا میں اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ لیکن تاریخ کی اصل خوب صورتی یہ نہیں کہ کتنی عورتیں اقتدار تک پہنچیں۔
اصل خوب صورتی تب ہوگی جب ایک دن کسی بچی کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہ پڑے کہ:
’’دیکھو! ایک عورت بھی وزیرِ اعظم بن سکتی ہے۔‘‘
بلکہ وہ اپنے خواب کے بارے میں یہ کہہ سکے:
’’میں جو بننا چاہوں، بن سکتی ہوں۔‘‘
تب شاید تاریخ واقعی بدل چکی ہوگی۔
کیونکہ بے نظیر نے جو دروازہ کھولا تھا، فاطمہ زہرا نے اس پر ایک اور چراغ رکھ دیا ہے۔
اب منزل یہ ہے کہ اس روشنی کو ایوانوں سے نکال کر ہر اس گھر تک پہنچایا جائے جہاں کوئی بیٹی ابھی تک اپنے خواب کا دروازہ اندر سے بند کیے بیٹھی ہے۔





