میں نے اپنے سائے سے بھی معافی مانگ لی،تحریر: سمیرا اکرام
نقطہ نظریہ جملہ نہیں، یہ ایک زخم کی گواہی ہے۔ یہ اعلان نہیں، یہ اعتراف ہے۔ یہ وہ اعتراف ہے، جو انسان آئینے کے سامنے بھی کرنے سے ڈرتا ہے۔ سایہ، وہ خاموش ساتھی، جو دھوپ میں میرے ساتھ چلا، جو طوفان میں میرے ساتھ کھڑا رہا، جو تنہائی کے اندھیرے میں بھی مجھے چھوڑ کر نہ گیا، میں نے اسی کو سب سے زیادہ دکھ دیا تھا۔ میں نے اسے نظر انداز کیا۔ میں نے اسے پامال کیا۔ میں نے اس کے سامنے اپنے آپ کو جھوٹا ثابت کیا۔ میں نے اسے کبھی اہمیت نہیں دی، حالانکہ سایہ ہی تھا، جو میرے ہر روپ سے واقف تھا۔ میرا ہنستا ہوا چہرہ بھی اس نے دیکھا، اور میرا روتا ہوا دل بھی اس نے سنا۔ میری محفل کی رونق بھی اس نے دیکھی، اور میری تنہائی کی سسکیاں بھی اس نے گنیں۔
میں نے زندگی میں بہت لوگوں سے معافی مانگی ہے۔ ماں سے، باپ سے، دوستوں سے، رشتوں سے۔ مگر میں نے کبھی اپنے آپ سے معافی نہیں مانگی تھی۔ میں نے کبھی اپنے سائے سے معافی نہیں مانگی تھی۔ میں سمجھتی تھی، معافی تو دوسروں سے مانگی جاتی ہے، اپنے آپ سے نہیں۔ مگر مجھے دیر سے سمجھ آیا کہ سب سے بڑا ظلم میں نے اپنے ہی ساتھ کیا تھا۔ میں نے اپنے دل کو توڑا، اپنی روح کو تھکایا، اپنے سائے کو بے عزت کیا۔ میں نے اپنے سائے کو ان جگہوں پر لے جا کر کھڑا کیا، جہاں اسے کھڑا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں نے اپنے سائے کو ان محفلوں میں لے گئی، جہاں اس کی قدر نہیں تھی۔ میں نے اپنے سائے کو ان دروازوں پر جھکایا، جہاں اسے سر بلند رکھنا تھا۔
سایہ وہ ہے، جو آپ کے ساتھ ہر حال میں رہتا ہے۔ جب سب چلے جاتے ہیں، سایہ رہ جاتا ہے۔ جب دنیا آپ کو چھوڑ دیتی ہے، سایہ آپ کو نہیں چھوڑتا۔ جب آپ کی آواز کوئی نہیں سنتا، سایہ آپ کی خاموشی سنتا ہے۔ مگر میں نے اپنے سائے کی قدر نہیں کی۔ میں نے اپنے سائے کو دوسروں کی پسند کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ میں نے اپنے سائے کو چھوٹا کرنے کی کوشش کی، تاکہ لوگ مجھے پسند کریں۔ میں نے اپنے سائے کو چھپانے کی کوشش کی، تاکہ دنیا مجھے قبول کرے۔ میں نے اپنے سائے کو مٹانے کی کوشش کی، تاکہ میں کسی اور جیسی لگوں۔ یہی میری سب سے بڑی خطا تھی، یہی میرا سب سے بڑا گناہ تھا۔
ایک دن میں آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ میں نے اپنے آپ کو دیکھا۔ میں نے اپنے سائے کو دیکھا۔ وہ سایہ، جو میرا ہی تھا، مگر وہ مجھ سے خفا لگ رہا تھا۔ وہ سایہ مجھ سے کہہ رہا تھا: "تم نے مجھے کہاں کہاں نہیں رلایا؟ تم نے مجھے کس کس کے سامنے جھکایا؟ تم نے میری عزت کیوں نہیں کی؟" میں نے اس دن اپنے سائے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا، اور مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے سائے کی قرض دار ہوں۔ میں نے اپنے سائے کو راتوں میں رلایا ہے۔ میں نے اپنے سائے کو دن میں تھکایا ہے۔ میں نے اپنے سائے کو تنہائی میں چھوڑا ہے۔ میں نے اپنے سائے کو دنیا کے سامنے شرمندہ کیا ہے۔ میں نے اپنے سائے کے ساتھ وہ سلوک کیا، جو میں کسی دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اس دن میں نے اپنے سائے سے معافی مانگی۔ میں نے کہا: "اے میرے سائے! مجھے معاف کر دے۔ میں نے تجھے بہت دکھ دیا ہے۔ میں نے تجھے وہ مقام نہیں دیا، جو تجھے ملنا چاہیے تھا۔ میں نے تجھے دوسروں کے قدموں میں رکھا، حالانکہ تجھے میرے ساتھ کھڑا ہونا تھا۔ میں نے تجھے اپنے خوابوں سے دور کیا، حالانکہ تجھے میرے خوابوں میں رہنا تھا۔ میں نے تجھے اپنی ہی نظروں میں گرایا، حالانکہ تجھے میری نظروں میں بلند ہونا تھا۔ آج میں تجھ سے معافی مانگتی ہوں، اور وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ میں تجھے کبھی شرمندہ نہیں کروں گی۔ آئندہ میں تجھے کبھی کسی کے سامنے جھکنے نہیں دوں گی۔"
سائے سے معافی مانگنا، اپنے آپ سے معافی مانگنا ہے۔ یہ وہ معافی ہے، جو کوئی اور نہیں دے سکتا۔ یہ وہ معافی ہے، جو صرف آپ خود اپنے آپ کو دے سکتے ہیں۔ جب میں نے اپنے سائے سے معافی مانگی، تو مجھے لگا جیسے میرے سینے سے ایک بہت بڑا پتھر ہٹ گیا ہے۔ مجھے لگا جیسے میں نے اپنے آپ کو آزاد کر دیا ہے۔ مجھے لگا جیسے میرا سایہ اب مجھ سے راضی ہو گیا ہے۔ اب میرا سایہ میرے ساتھ ہنستا ہے۔ اب میرا سایہ میرے ساتھ چلتا ہے۔ اب میرا سایہ مجھے شرمندہ نہیں کرتا۔ اب میرا سایہ میرا فخر ہے، میری طاقت ہے، میری پہچان ہے۔
میں نے اپنے سائے سے معافی مانگ کر، اپنے آپ کو پہچان لیا۔ میں نے جان لیا کہ میں کون ہوں، اور میں کیا ہوں۔ میں نے جان لیا کہ میں دوسروں کے لیے نہیں، اپنے لیے جیتی ہوں۔ میں نے جان لیا کہ میرا سایہ میری عزت ہے، میری پہچان ہے، میری حقیقت ہے۔ میں نے اپنے سائے کو سینے سے لگا لیا۔ میں نے اپنے سائے کو اپنا دوست بنا لیا۔ اب میں جہاں بھی جاتی ہوں، میرا سایہ میرے ساتھ ہوتا ہے، اور میں اسے فخر سے ساتھ لے کر چلتی ہوں۔
آج میں اپنے سائے کے ساتھ خوش ہوں۔ آج میں اپنے سائے کو کبھی نہیں چھپاتی۔ آج میں اپنے سائے کو کبھی نہیں چھوڑتی۔ میں نے اپنے سائے سے وعدہ کیا ہے کہ میں اسے کبھی کسی کے سامنے جھکنے نہیں دوں گی۔ میں اسے کبھی کسی کے لیے چھوٹا نہیں کروں گی۔ میں اسے کبھی کسی کی پسند کے لیے نہیں بدلوں گی۔ میرا سایہ میرا ہے، اور میں اس کی ہوں۔
اگر آپ نے بھی اپنے آپ کو دکھ دیا ہے، اگر آپ نے بھی اپنے سائے کو نظر انداز کیا ہے، تو ایک بار اپنے سائے کے سامنے کھڑے ہو کر، اس سے معافی مانگ لیں۔ کیوں کہ سایہ آپ کا سب سے سچا ساتھی ہے۔ وہ آپ کے ساتھ اس وقت بھی رہتا ہے، جب کوئی نہیں رہتا۔ اس سے معافی مانگنا، اپنی روح کو سکون دینا ہے۔ میں نے اپنے سائے سے بھی معافی مانگ لی ہے، اور اب میں جان گئی ہوں کہ معافی مانگنا کمزوری نہیں، طاقت ہے۔ معافی مانگنا ہار نہیں، جیت ہے۔ معافی مانگنا اپنے آپ کو معاف کرنا ہے، اور اپنے آپ کو معاف کرنا، اللہ کی طرف پہلا قدم ہے۔
مزید پڑھیں





