Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

23ستمبر ، ارض حرمین کے استحکام کا تاریخی دن،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

hafi masood ahar

سعودی عرب کا قومی دن محض ایک ملکی فتح یا سیاسی تاریخی واقعے کا نام نہیں، بلکہ یہ توحید کی نصرت، سنتِ نبوی کے احیا اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک محفوظ، مستحکم اور طاقتور ترین مرکز کے وجود میں آنے کی یادگار ہے۔ مملکتِ سعودیہ عربیہ کے قیام کا سب سے بنیادی اور اولین مقصد اس مقدس سرزمین پر اللہ تعالی کی توحید کو قائم کرنا اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنا تھا۔ شاہ عبدالعزیز آل سعود رحمہ اللہ نے جب اس خطے کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت خطہ نجد و حجاز شدید سیاسی انتشار، قبائلی بدامنی اور مذہبی بے راہ روی کا شکار تھا۔ بانیِ مملکت نے بکھرے قبائیل کو پرچم اسلام تلے متحد کیا ۔ آج اگر ہم ماضی کی تاریخ کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مملکتِ سعودیہ عربیہ نے اپنے قیام کے مقاصد کو آج تک قائم رکھا ہے ۔

سعودی عرب کی تاریخ اسلامی اخوت، امتِ مسلمہ کو متحد کرنے اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کے ساتھ عملی ہمدردی کے لازوال داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ اللہ تعالی نے آلِ سعود کو "خادمِ حرمین الشریفین" کا جو مقدس ترین منصب عطا فرمایا اس کا حق انہوں نے انتہائی اخلاص اور بے دریغ وسائل کے ذریعے ادا کیا ہے۔ شاہ فہد سے لے کر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تک، ہر دور میں حرمین کی توسیع کے وہ تاریخ ساز منصوبے مکمل کیے گئے جن کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مملکتِ سعودیہ عربیہ نے عالمی سطح پر اتحادِ امت کے لیے جو کارنامے انجام دیے وہ بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں:

امتِ مسلمہ کے علما اور مفکرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور مسلم ممالک کے درمیان فکری و عقائد کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے رابطہ عالمِ اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مدینہ منورہ میں قائم "شاہ فہد قرآن کمپلیکس" کے ذریعے دنیا کی تمام اہم زبانوں میں قرآن مجید کے کروڑوں نسخے بلا معاوضہ ترجمے و تفسیر کے ساتھ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ ، او آئی سی اور دیگر تمام بین الاقوامی ایوانوں میں اگر کسی ملک نے فلسطینیوں، کشمیریوں، روہنگیا اور دیگر مظلوم مسلم اقلیتوں کے حقوق کی کھل کر بے باکانہ وکالت کی تو وہ ہمیشہ سعودی عرب ہی رہا ہے۔

دنیا کے کسی بھی کونے میں زلزلہ، سیلاب یا جنگی حالات پیدا ہوں، "کنگ سلمان ریلیف سینٹر" بغیر کسی نسل و رنگ کے تعصب کے سب سے پہلے امدادی سامان لے کر پہنچتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض دو ممالک کے سفارتی یا سیاسی تعلقات کی طرح نہیں ہیں، بلکہ ان کی بنیادوں میں گہرا اسلامی رشتہ، باہمی محبت، اور اٹوٹ بھروسہ شامل ہے۔ یہ ایک ایسا لازوال تعلق ہے جسے وقت کی کسی بھی گردش یا بین الاقوامی سیاسی جوڑ توڑ نے کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہماری سرزمین پر کوئی کٹھن وقت، معاشی بحران یا بیرونی جارحیت کا خطرہ منڈلایا، سعودی عرب سب سے پہلے پاکستان کا سہارا بن کر کھڑا ہوا ہے ۔

پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کی حدود، سیکیورٹی اور حرمین الشریفین کی حفاظت کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کا عہد کر رکھا ہے۔ لاکھوں پاکستانی محنت کش سعودی عرب کی ترقی و تعمیر میں اپنا خون پسینہ بہا رہے ہیں۔

آج جب سعودی عرب اپنا قومی دن منا رہا ہے تو دوسری جانب استعماری طاقتوں، اسلام دشمن عناصر اور علاقائی شرپسندوں کو سعودی عرب کی یہ خود مختاری اور ترقی سخت ناگوار گزر رہی ہے۔ عصرِ حاضر کی بین الاقوامی سیاست میں جو سب سے بڑا موڑ آیا، وہ "ابراہم اکارڈ" ہے جس کا مقصد تمام مسلم دنیا کو اسرائیل کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنا اور فلسطین کے موقف کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دینا تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ جب کئی ممالک پنے مفادات کے تحت اس معاہدے پر دستخط کر رہے تھے تو ارضِ حرمین الشریفین کے حکمرانوں نے جرأ ت اور دینی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا!

سعودی عرب نے اپنا دو ٹوک اور اصولی موقف دنیا کے سامنے دہرایا کہ:"جب تک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی جس کا دارالحکومت قدس شریف ہو، اس وقت تک اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی نام نہاد معاہدہ قبول کیا جائے گا۔"

سعودی عرب کا یہ جرأت مندانہ اور تاریخی انکار بین الاقوامی صیہونی لابی اور مغرب کے سامراجی منصوبوں کے منہ پر ایک کاری تھپڑ تھا۔ اسی اصولی موقف کی سزا کے طور پر آج سعودی عرب کو مختلف محاذوں پر گھیرنے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ابراہم اکارڈ کو تسلیم نہ کرنے کے اسی ردِعمل کے طور پر یمن کے حوثی باغیوں کو جدید ترین ڈرونز، بیلسٹک میزائلوں اور خطرناک اسلحے سے لیس کر کے سعودی عرب کی شہری آبادیوں، معاشی تنصیبات اور تیل کے مراکز پر پے در پے حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان حوثی حملوں کا مقصد محض یمن کی جنگ نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد سعودی عرب کی معیشت کو اپاہج کرنا، ارضِ مقدس کے امن کو تاراج کرنا اور سعودی حکومت کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ فلسطین اور امت کے دیگر مفادات سے دستبردار ہو کر مغربی ایجنڈے کے سامنے گھٹنے ٹیک دے۔ لیکن ارضِ حرمین کے غیرت مند حکمرانوں اور سیکیورٹی فورسز نے دشمن کی ان تمام چالوں کو مٹی میں ملا دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ حق و صداقت کی اس راہ میں وہ کسی بھی قسم کے سیاسی یا معاشی دبا کو قبول نہیں کریں گے۔

ہم اس تاریخی اور مبارک دن کے موقع پر دنیا کی تمام استعماری طاقتوں، حوثی شرپسندوں اور صیہونی سازش کاروں کو یہ واضح اور جرأ ت مندانہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب تنہا نہیں ہے!اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ معاشی بائیکاٹ، میزائل حملوں یا ڈرون اسٹرائیکس کے ذریعے سعودی عرب کو اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹا لے گا، تو یہ اس کی خام خیالی اور تاریخی بھول ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی صرف سعودی شہریوں کی نہیں بلکہ دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے دل کی دھڑکن اور عقیدے کا حصہ ہے۔ ارضِ حرمین کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو امتِ مسلمہ کا جلال و غضب اندھا کر دے گا۔

پاکستان کی عوام، افواج اور قیادت کا یہ روزِ اول سے حتمی اور غیر متزلزل فیصلہ ہے کہ سعودی عرب کی جغرافیائی سالمیت، امن اور ارضِ مقدس کی حرمت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ڈی آئی ایس پی آر لفٹینیٹ جنرل شریف چوہدری نے جس طرح دوٹوک الفاظ میں ارض حرمین کے تحفظ کا اعادہ کیا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ پوری پاکستانی قوم کے دل کی آواز ہے ۔ پاکستان کا ہر بچہ، جوان اور بوڑھا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اگر سعودی عرب کی پاک سرزمین کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو 25 کروڑ پاکستانی اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوں گے اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے ان شاء اللہ ۔