دشواری کے درمیان آسانی کا سفر،تحریر: عائشہ گُل
نقطہ نظر
اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا
قرآنِ پاک اللہ رب العزت کی وہ واحد کتاب ہے جس کے آغاز میں ہی اعلان فرما دیا گیا: ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ، ترجمہ: "یہ وہ کتاب ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔" علماء فرماتے ہیں کہ قرآن کا بنیادی موضوع انسان کی ہدایت ہے۔ اے انسان! ذرا ٹھہر کر سوچ تو سہی کہ تیرا رب تجھ سے کیا کہنا چاہتا ہے۔
اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ، "اے محبوب ﷺ! کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کر دیا؟" مفسرین فرماتے ہیں اس سے مراد دل کو وسیع کرنا اور حوصلہ بڑھانا ہے۔ اس کی تفسیر میں واقعہ شقِ صدر کا حوالہ بھی سیرت کی مستند کتب میں ملتا ہے۔ اور باطنی تفسیر یہ ہے کہ جب کفار کے ستانے کی شدت بڑھتی تو اللہ پاک نبی ﷺ کا سینہ اور حوصلہ کشادہ فرما دیتا تاکہ آپ ﷺ وہ بوجھ برداشت کر سکیں۔ بے شک یہ آیت نبی ﷺ کے لیے تسکین ہے، لیکن اس میں پوری انسانیت کے لیے درس ہے۔ آج ہمارا سینہ نفرت، حسد، غصے اور مایوسی سے تنگ ہو چکا ہے۔ ہم کسی کو معاف نہیں کر پاتے، کسی کی خوشی برداشت نہیں کر پاتے۔ تو اللہ ہمیں بتا رہا ہے کہ جیسے ہم نے اپنے محبوب کا سینہ کشادہ کیا، ویسے تمہارا سینہ بھی ذکر، قرآن اور سجدے سے کشادہ کر دیں گے۔
وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ، ترجمہ: "اور ہم نے آپ سے وہ بوجھ اتار دیا جس نے آپ ﷺ کی کمر جھکا رکھی تھی۔" مفسرین فرماتے ہیں یہاں "وزر" سے مراد گناہ نہیں، کیونکہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ اس سے مراد وہ عظیم فکری اور دعوتی بوجھ ہے جو نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ کے دل پر تھا۔ اپنی قوم کو بتوں کی پوجا میں گمراہ دیکھ کر تڑپنا، غارِ حرا میں بیٹھ کر امت کی فکر کرنا۔ اور نبوت کے بعد دعوت کی ذمہ داری کا بوجھ، طائف میں پتھر کھانا، مکہ میں اپنوں کے طعنے سننا کہ یہ جادوگر ہے، مجنوں ہے۔ تو اللہ نے فرمایا: "اے محبوب! آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے، ہدایت دینا ہمارا کام ہے۔" آج ہماری پیٹھ بھی بوجھ سے جھکی ہوئی ہے۔ کسی پر قرض کا بوجھ ہے جو راتوں کی نیند اڑا دیتا ہے۔ کسی پر اولاد کے غم کا بوجھ ہے۔ کسی پر لوگوں کی باتوں کا بوجھ ہے۔ تو اللہ ہمیں بھی کہہ رہا ہے کہ "اے میرے بندے! اپنا بوجھ مجھے دے دے، سر سجدے میں رکھ دے، میں اتار دوں گا۔"
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، "پس بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔" اللہ رب العزت کا کلام ہے۔ اللہ ایک بات ایک دفعہ بھی فرما دے تو وہ حرفِ آخر ہے، کسی میں اس کے انکار کی جرات ہی نہیں۔ لیکن یہاں میرے رب کی رحمت دیکھیں کہ اس نے اسی ایک حقیقت کو دو مرتبہ ارشاد فرمایا۔ دو بار کیوں فرمایا؟ تاکہ وہ دل جو ٹوٹ چکا ہے، اسے دو بار تسلی ملے۔ اور اللہ نے "بعد" نہیں کہا، "مع" کہا ہے۔ "مع" کا مطلب ہے "ساتھ"۔ تنگی کے بعد نہیں، تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے۔ جب بھی کوئی مشکل آتی ہے تو اسی کے ساتھ آسانی بھی اترتی ہے۔ لیکن ہم اپنی مشکل میں اس قدر گم ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اس ساتھ والی آسانی کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا، کیونکہ ہم نے قرآن کو اس نظر سے پڑھا ہی نہیں جیسا صحابہ نے پڑھا۔
اگر ہم ان کی زندگیوں کو دیکھیں تو یہ "مع العسر یسرا" ہمیں قدم قدم پر نظر آئے گا۔ مکہ میں صحابہ کرام نے تیرہ سال تک بے پناہ تنگی برداشت کی، بھوک، بائیکاٹ، پتھر، طعنے، ہجرت کا دکھ۔ یہ تنگی تھی۔ لیکن اسی تنگی کے ساتھ اللہ نے مدینہ کی ہجرت اور پھر فتحِ مکہ کی آسانی بھی لکھ رکھی تھی۔ وہی مکہ جس سے نکالے گئے تھے، اسی میں فاتح بن کر داخل ہوئے۔ بدر میں تنگی تھی، تعداد کم تھی، وسائل کم تھے، تو ساتھ ہی فرشتوں کی مدد کی آسانی تھی۔
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو دیکھیں، تپتے ہوئے صحرا میں، جلتی ریت پر لٹایا گیا، سینے پر بھاری پتھر رکھا گیا، زبان پر احد احد تھا۔ تنگی انتہا پر تھی۔ لیکن اسی تنگی کے ساتھ آسانی بھی تھی کہ اللہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں ڈال دیا اور انہوں نے حضرت بلال کو خرید کر آزاد کرا دیا۔ وہی بلال جو کل غلام تھے، آج موذنِ رسول ﷺ بن گئے۔ حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا، جو اسلام لائیں تو انہیں اتنا مارا گیا، اتنا ستایا گیا۔ تنگی انتہا پر تھی۔ لیکن اسی تنگی کے ساتھ اللہ نے آسانی رکھی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعے انہیں آزادی نصیب ہوئی۔
اور سب سے خوبصورت مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ سوچیں، سب دروازے بند تھے۔ بھائیوں نے کنویں میں پھینکا، بازار میں غلام بنا کر بیچا گیا، الزام لگا کر قید خانے میں ڈالا گیا۔ چاروں طرف تنگی ہی تنگی تھی۔ لیکن یوسف علیہ السلام نے کسی انسان پر بھروسہ نہیں کیا، اللہ پر توکل کیا۔ جب تمام دروازے بند کر دیے گئے تو انہوں نے بند دروازوں کی طرف دوڑ لگائی۔ بظاہر عقل کہتی ہے بند دروازے کی طرف کیوں دوڑنا؟ لیکن جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ بند دروازوں میں بھی راستے نکال دیتا ہے۔ اور اللہ نے اسی تنگی کے ساتھ آسانی رکھ دی، تمام بند دروازے خود بخود کھلتے چلے گئے۔ وہی یوسف جو قیدی تھے، مصر کے خزانوں کے مالک بن گئے۔
اور ہماری روزمرہ زندگی کی مثال۔ جب کسی گھر سے کسی کا بہت اپنا، بہت پیارا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس گھر میں قیامتِ صغریٰ برپا ہو جاتی ہے۔ انسان اس صدمے کو قبول ہی نہیں کر پاتا۔ لیکن اسی قیامتِ صغریٰ میں بھی اللہ نے "مع العسر یسرا" کا قانون رکھا ہے۔ تنگی صدمے کی ہے، اور ساتھ آسانی یہ ہے کہ اللہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس دل کو ایسا حوصلہ، ایسا وقار، ایسا صبرِ جمیل عطا فرما دیتا ہے کہ وہی انسان جو کل چیخ رہا تھا، آج زبان پر یہی کلمہ لاتا ہے: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک قول ہے کہ جو تکلیف تمہیں اللہ کے قریب کر دے وہ آزمائش ہے، اور جو تکلیف تمہیں اللہ سے دور کر دے اس پر غور کرنا چاہیے۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مومن کا معاملہ عجیب ہے، اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور اس میں بھی اس کے لیے اجر ہے، اور اگر اسے خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور اس میں بھی اس کے لیے اجر ہے۔"
تو میرے پیارو! اس پوری سورت کا خلاصہ اور اس تحریر کا نچوڑ صرف یہ ہے کہ اگر تمہارا سینہ تنگ ہے تو اسے کھولنے والا موجود ہے، اگر تمہاری پیٹھ بوجھ سے جھکی ہے تو اسے اتارنے والا موجود ہے، اور اگر تم تنگی میں گھرے ہو تو اسی تنگی کے اندر تمہارے لیے آسانی رکھنے والا بھی موجود ہے۔ اس لیے شکوہ چھوڑ دو، سجدہ تھام لو۔ تنگی میں لوگوں کے سامنے رونے سے تنگی کم نہیں ہوتی، اللہ کے سامنے رونے سے ختم ہوتی ہے۔ قرآن کو اپنا ساتھی بنا لو، یہ وہ کتاب ہے جو قبر کے اندھیرے میں بھی روشنی دے گی۔ آزمائش کو نعمت سمجھو، ہر تنگی تمہارے گناہوں کو مٹانے آئی ہے۔ اور بند دروازوں سے مت ڈرو، یوسف علیہ السلام کی طرح جب سب دروازے بند لگیں تو بھی اللہ پر بھروسہ کر کے دوڑ لگاتے رہو۔ تمہارا کام دوڑنا ہے، دروازے کھولنا اس رب کا کام ہے۔۔۔
آخر میں بس اتنا یاد رکھنا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے، دارالجزا نہیں۔ جس رب نے تنگی کے ساتھ آسانی کا وعدہ کیا ہے، وہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ ان مشکلات کے اندر ہی تمہاری آسانی چھپی ہے، بس اسے تلاش کرنا ہے۔ اور تلاش کا واحد راستہ ہے قرآن، صبر، اور سجدہ۔ اللہ ہم سب کے تنگ سینوں کو کشادہ کر دے، ہماری جھکی ہوئی پیٹھوں سے بوجھ اتار دے، اور ہر تنگی کے ساتھ ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرما دے۔ (آمین یا رب العلمین)
مزید پڑھیں





