Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اٹک چھا گیا۔۔۔ آصف فوجی سے عسکری روایت تک،تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

نقطہ نظر

اٹک کی مٹی نے صدیوں سے سپاہیوں کے قدموں کی چاپ سنی ہے؛ کبھی دور کے محاذوں سے آنے والی خبروں میں، کبھی شہادت کے بعد لپٹے ہوئے پرچم میں، اور کبھی کسی ایسے سپوت کے نام میں جو اچانک دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جائے۔ پنڈی گھیب کے محمد آصف بھی اسی ضلع اٹک کا نام ایک بار پھر خبروں میں لے آئے ہیں

وہی آصف فوجی عرف موسیٰ، جسے بھارتی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک قرار دیا، لیکن پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس بریفنگ میں وہ زندہ صحافیوں کے سامنے موجود تھا۔ محمد آصف سابق ایس ایس جی کمانڈو ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 2000ء میں پاک فوج میں شامل ہوئے، 2005ء میں اسپیشل سروسز گروپ کا حصہ بنے، تقریباً 18 برس خدمات انجام دیں اور 2023ء میں ریٹائر ہوئے۔

ان کے مطابق انہیں دوستوں سے اپنی ہلاکت کی خبریں گردش کرنے کا علم ہوا اور بھارتی نمبروں سے فون کالز بھی موصول ہوئیں۔ بھارتی میڈیا کی مختلف رپورٹس میں انہیں ’’آصف فوجی‘‘، ’’موسیٰ‘‘ اور ’’ہاشم موسیٰ‘‘ جیسے ناموں سے منسوب کرتے ہوئے کشمیر میں مبینہ سرگرمیوں اور ایک کارروائی میں ہلاکت کی خبر دی گئی، جبکہ پاکستان کی جانب سے ان دعوؤں کو مسترد کیا گیا اور آصف کو خود صحافیوں کے سامنے پیش کردیا گیا

یہاں سے یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں رہتا بلکہ اٹک کی اس طویل عسکری روایت سے جڑ جاتا ہے جس میں اس خطے کے سپوت مختلف ادوار میں مختلف محاذوں پر نمایاں ہوتے رہے ہیں۔برطانوی دور کی جنگوں اور عالمی جنگوں کے فوجی ریکارڈ سے لے کر پاکستان کی اپنی جنگی تاریخ تک، اٹک اور اس کے گردونواح کے سپاہیوں کی خدمات اور قربانیوں کے حوالے ملتے ہیں۔ عالمی جنگوں کے بارے میں برطانوی فوجی دستاویزات اور عالمی عسکری اداروں کے محفوظ ریکارڈ اس وسیع تر خطے کے سپاہیوں کی خدمات کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کے بعد کے ادوار میں بھی اٹک کے کئی نام شہادت اور جرأت کے حوالے سے سامنے آئے کیپٹن اسفندیار بخاری شہید نے 2015ء میں بڈھ بیر ایئر فورس کیمپ پر دہشت گرد حملے کے دوران فوجی دستوں کی قیادت کرتے ہوئے جان دی، جبکہ بولیانوال کے ایس ایس جی نائب صوبیدار احمد خان شہید نے لائن آف کنٹرول پر اپنی جان قربان کی یہ محض چند نام نہیں یہ اس مٹی کی اس روایت کی جھلکیاں ہیں جس میں وردی پہننے والا سپوت اپنے ساتھ پورے علاقے کی شناخت بھی لے کر چلتا ہے۔

اسی لیے محمد آصف کی کہانی کو اٹک سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ پنڈی گھیب کے یہ سابق کمانڈو ایک ایسی خبر کا کردار بنے جس نے سرحد پار میڈیا سے نکل کر پاکستان کی عسکری اور صحافتی بحث تک جگہ بنائی، مگر اس کے پیچھے جو شناخت سب سے پہلے اور سب سے آخر میں باقی رہتی ہے، وہ اٹک کی ہے

اٹک کے لیے یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ اپنی عسکری شناخت کی ایک اور جھلک ہے؛ وہ شناخت جو شہداء کے ناموں، فوجی روایت اور نسل در نسل منتقل ہونے والی یادوں سے بنتی ہے

اٹک نے اپنے سپوتوں کو محاذوں پر جاتے دیکھا ہے، شہادت کے بعد پرچم میں لپٹتے دیکھا ہے اور پھر ان کے نام تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہوتے دیکھے ہیں۔ محمد آصف اس داستان کا ایک نیا باب ہیں—اور شاید اسی لیے آج ایک بار پھر محسوس ہوتا ہے

اٹک چھا گیا۔