عوام کب تک بوجھ اٹھائیں گے؟ تحریر: مہر بشارت صدیقی
نقطہ نظر
ملک میں مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کر چکی ہے، ایسے میں ایل پی جی (LPG) کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے ایک نئے بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایل پی جی کی مقررہ قیمت تقریباً 309 روپے فی کلو ہے، لیکن مختلف شہروں میں صارفین سے 600 روپے فی کلو یا اس سے بھی زائد قیمت وصول کی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ صارفین کے بنیادی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایل پی جی پاکستان کے لاکھوں گھروں کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی سہولت دستیاب نہیں۔ دیہی علاقوں، چھوٹے شہروں اور دور دراز بستیوں کے مکین کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ جب ایک ضروری شے کی قیمت سرکاری نرخ سے تقریباً دوگنا وصول کی جائے تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کے بجٹ پر پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر حکومت نے قیمت مقرر کر رکھی ہے تو پھر مارکیٹ میں من مانی قیمتیں کیوں وصول کی جا رہی ہیں؟ کیا متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں یا ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیاں صرف کاغذی حد تک محدود ہیں؟ عوام کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ انہیں سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ فراہم کی جائیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے نتیجے میں ہوٹلوں، تندوروں اور دیگر کاروباری مراکز کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عوام کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یوں ایک مصنوعی بحران پورے معاشی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، اوگرا اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کریں۔ ناجائز منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے شکایات درج کرانے کا آسان اور مؤثر نظام بھی متعارف کرایا جائے تاکہ عوام اپنی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچا سکیں۔
جب تک قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہوگا، عوام مہنگائی اور استحصال کے اس چکر میں پستے رہیں گے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ بنیادی ضروریات زندگی کسی طبقے کے لیے ناقابلِ رسائی نہ بن جائیں۔
مزید پڑھیں




