بدلتی دنیا اور ہمارا مستقبل،تحریر: شازیہ یاسین
نقطہ نظر
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ طاقت کے مراکز منتقل ہو رہے ہیں۔ عالمی سیاست نئے اتحادوں اور مفادات کی تشکیل سے گزر رہی ہے اور معیشت سے لے کر ٹیکنالوجی تک ہر شعبے میں تبدیلی کی رفتار بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک طرف سائنسی ترقی نے انسانی زندگی کو نئی سہولتیں دی ہیں تو دوسری طرف جنگوں، معاشی ناہمواری، ماحولیاتی تبدیلی اور سیاسی کشیدگی نے انسانیت کو سنگین چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ آج اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اپنی طاقت کو انسانی فلاح کے لیے استعمال کرے گی یا مفادات کی کشمکش اسے مزید عدم استحکام کی طرف لے جائے گی۔
موجودہ عالمی حالات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، فلسطین کا انسانی المیہ، روس اور یوکرین کی جنگ اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی رقابت عالمی امن کے لیے سنگین خطرات ہیں۔ ان تنازعات کے اثرات توانائی کی قیمتوں، عالمی تجارت، خوراک کی فراہمی اور سفارتی تعلقات تک پھیل جاتے ہیں۔ جنگ میں تباہ ہونے والی عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں لیکن معصوم بچوں کا چھن جانے والا بچپن اور بکھرتے خاندانوں کا درد آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔ افسوس کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی جانوں پر سیاسی مفادات اور تزویراتی برتری کو ترجیح دی جاتی ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا مقابلہ بھی عالمی سیاست کی سمت متعین کر رہا ہے۔ تجارت، ٹیکنالوجی، دفاع اور عالمی اثر و رسوخ کے میدان میں دونوں ممالک کی رقابت نے دیگر ریاستوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ ایسے حالات میں ترقی پذیر ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے متوازن خارجہ پالیسی اپنائیں۔ کسی ایک طاقت پر غیر ضروری انحصار کے بجائے مختلف ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
معاشی اور تکنیکی میدان میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور جدید صنعت نے ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ مستقبل انہی قوموں کا ہوگا جو تعلیم، تحقیق اور جدت کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں گی۔ نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا اور تعلیمی اداروں کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ناگزیر ہے۔ قدرتی وسائل اپنی جگہ اہم ہیں لیکن آج کسی قوم کی اصل قوت اس کا علم، انسانی سرمایہ اور ٹیکنالوجی میں مہارت ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی بھی دنیا کے مستقبل کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سیلاب، خشک سالی اور پانی کی قلت انسانی زندگی اور معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک اس بحران سے شدید متاثر ہوتے ہیں، حالاں کہ عالمی کاربن اخراج میں ان کا حصہ نسبتاً کم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ موسمیاتی ذمہ داریاں پوری کریں اور متاثرہ ریاستوں کو مالی و تکنیکی تعاون فراہم کریں۔ ماحولیاتی تحفظ کسی ایک ملک کا نہیں بل کہ پوری انسانیت کا مشترکہ فریضہ ہے۔
پاکستان کے لیے بدلتی دنیا میں چیلنجز کے ساتھ اہم مواقع بھی موجود ہیں۔ اس کا جغرافیائی محل وقوع، نوجوان آبادی، زرعی وسائل اور علاقائی روابط کی صلاحیت اسے نمایاں مقام دیتے ہیں۔ تاہم ان امکانات کو حقیقت بنانے کے لیے معاشی استحکام، سیاسی تسلسل، معیاری تعلیم، صنعتی ترقی اور مؤثر سفارت کاری ضروری ہے۔ پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ عالمی سطح پر اس کا کردار ایسا ہونا چاہیے جو قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ امن اور علاقائی تعاون کو بھی فروغ دے۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے مراکز ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ وہ قومیں آگے بڑھتی ہیں جو تبدیلی کو سمجھتی ہیں، علم کو اہمیت دیتی ہیں اور داخلی اختلافات کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیتیں۔ آج دنیا کو جنگ کے بجائے امن، نفرت کے بجائے برداشت اور الزام تراشی کے بجائے عملی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ عالمی رہنماؤں کو سمجھنا ہوگا کہ کسی دوسرے ملک کی تباہی پائیدار خوش حالی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
بدلتی دنیا ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ مستقبل انہی قوموں کا ہوگا جو علم، انصاف، اتحاد اور انسانیت کو اپنی ترجیحات بنائیں گی۔ پاکستان کو بھی اپنے وسائل پر اعتماد کرتے ہوئے داخلی مسائل کے حل، معاشی خود انحصاری اور عالمی تعاون کے فروغ پر توجہ دینا ہوگی۔ دنیا کے حالات ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے لیکن ان حالات میں اپنا راستہ منتخب کرنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔ یہی شعور کسی قوم کو محض بدلتے وقت کا تماشائی نہیں بل کہ اپنے مستقبل کا معمار بناتا ہے۔
مزید پڑھیں




