بارود، سڑا خربوزہ اور نجات،تحریر:انیم چوہدری
نقطہ نظر
ستمبر 1928ء کی ایک دھندلی اور سرد صبح تھی۔ لندن کے سینٹ میریز ہسپتال کا ایک چھوٹا سا، نچلی منزل پر واقع کمرہ، جہاں ہوا میں سڑے ہوئے کیمیکلز اور پرانی دواؤں کی مہک رچی بیسی تھی۔ ڈاکٹر الیگزینڈر فلیمنگ اپنے سفر کی تھکن اتارے بغیر لیبارٹری میں داخل ہوئے۔ وہ سکاٹ لینڈ کے پہاڑوں اور ندی نالوں کے درمیان تین ہفتے کی تعطیلات گزار کر لوٹے تھے۔ فلیمنگ ایک دھن کے پکے اور بلا کے باریک بین انسان تھے، لیکن اپنی میز کو صاف ستھرا رکھنا شاید ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ میز پر شیشے کی گول ڈشز کا ایک چھوٹا سا پہاڑ لگا ہوا تھا، جن میں انہوں نے جانے سے پہلے مہلک جراثیم اگا کر چھوڑ دیے تھے۔ انہوں نے آستینیں اوپر چڑھائیں اور ایک ایک کر کے ان شیشیوں کو صابن کے پانی میں پھینکنے کے لیے اٹھانے لگے۔ مقصد صرف اتنا تھا کہ برتن دھوئیں۔۔۔ اور کام ختم۔ لیکن پھر، ایک ڈش ان کے ہاتھ میں آئی۔ انہوں نے اسے فوراً پانی میں نہیں ڈبویا۔ ان کی تیز آنکھوں نے کچھ ایسا دیکھا جس نے ان کے ہاتھ روک دیے۔ ڈش کے ایک کونے پر سبز اور سفید رنگ کی ایک معمولی سی پھپھوندی (Mould) اگ آئی تھی—بالکل وہی پھپھوندی جو اکثر پرانی روٹی پر جم جاتی ہے۔ لیکن معجزہ وہ پھپھوندی نہیں تھی، معجزہ اس کے ارد گرد کی خالی جگہ تھی۔ پھپھوندی کے گرد بیکٹیریا کا پورا شہر آباد تھا، لیکن اس سبز دھبے کے پاس پہنچتے ہی تمام جراثیم یوں غائب ہو چکے تھے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ پھپھوندی نے اپنے گرد ایک ایسا حفاظتی دائرہ بنا لیا تھا جس میں داخل ہونے والا ہر جراثیم موم کی طرح پگھل چکا تھا۔ فلیمنگ نے چشمہ درست کیا، اسے روشنی کے سامنے لائے، اور ان کے منہ سے صرف دو سادہ سے الفاظ نکلے: "یہ تو بڑی عجیب بات ہے..." انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ معمولی سی پھپھوندی کھڑکی کے راستے لندن کی آلودہ ہوا سے تیرتی ہوئی اندر آئی تھی، اور یہی "لاپرواہی" انسانی تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ بننے جا رہی تھی۔
آج کے دور میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ پینسلین سے پہلے کی دنیا کیسی تھی۔1920ء کی دہائی میں، اگر کوئی شخص گلاب کا کانٹا چبھنے سے زخمی ہو جاتا، داڑھی بناتے وقت کٹ لگ جاتا، یا کسی بچے کے گھٹنے پر چھلکا آ جاتا، تو وہ سیدھا موت کے منہ میں جا سکتا تھا۔ جراثیم خون میں پھیلتے، جسم تیز بخار سے تپتا، اور چند دنوں میں انسان تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیتا۔ معالج بے بس تھے؛ ان کے پاس زخموں پر تیزاب یا کاربولک ایسڈ ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، جو جراثیموں کے ساتھ ساتھ مریض کے اپنے خلیوں کو بھی جلا کر راکھ کر دیتا تھا۔ فلیمنگ نے پہلی جنگِ عظیم کے میدانوں میں ہزاروں جوانوں کو گولیوں سے زیادہ ان زخموں کے انفیکشن سے مرتے دیکھا تھا۔ وہ منظر ان کی روح میں پیوست ہو چکا تھا۔ وہ دن رات ایک ایسی دوا کی تلاش میں تھے جو جسم کو نقصان پہنچائے بغیر صرف ان نادیدہ دشمنوں کا خاتمہ کرے۔
اور وہ دوا، 3 ستمبر کی اس صبح، ایک گندی ڈش میں خود بخود اگ آئی تھی۔ فلیمنگ نے اس کا نام "پینسلین" رکھا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہاں سے اصل ڈراما شروع ہوتا ہے۔ فلیمنگ نے پینسلین دریافت تو کر لی، لیکن وہ پیشے کے لحاظ سے کیمیا دان نہیں تھے۔ وہ اس سبز مائع کو خالص حالت میں الگ نہ کر سکے اور اسے شیشی میں محفوظ رکھنا ان کے لیے ناممکن ہو گیا۔ دس سال تک فلیمنگ کا یہ معجزہ لیبارٹری کے ایک کونے میں پڑا دھول چاٹتا رہا، اور دنیا پرانے انداز میں مرتی رہی۔1939ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے دو سائنسدانوں—ہاورڈ فلورے (ایک بے باک آسٹریلوی ڈاکٹر) اور ارنسٹ چین (جرمنی سے بھاگا ہوا ایک یہودی بائیو کیمسٹ)—نے فلیمنگ کے پرانے مقالے کو دھول جھاڑ کر نکالا۔ انہوں نے دن رات ایک کر کے پینسلین کو خالص مائع کی شکل میں کشید کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہٹلر کے بمبار طیارے لندن اور آکسفورڈ پر آگ برسا رہے تھے۔ نازیوں کے حملے کا خوف اس حد تک تھا کہ آکسفورڈ کی اس چھوٹی سی ٹیم کو ڈر لگنے لگا: "اگر نازی یہاں پہنچ گئے، تو وہ یہ معجزاتی دوا ہم سے چھین لیں گے یا اسے تباہ کر دیں گے۔" انہوں نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو کسی سسپنس فلم کا حصہ لگتا ہے۔ تیم کے تمام سائنسدانوں نے پینسلین کے فنگس کے بیج اپنے کوٹ، سوٹ اور جرسیوں کے استر میں رگڑ کر چھپا لیے! ان کا پلان یہ تھا کہ اگر بمباری میں لیبارٹری تباہ ہو جائے یا نازی برطانیہ پر قبضہ کر لیں، تو ان میں سے جو بھی سائنسدان زندہ بچے گا، وہ اپنے کپڑے پہن کر امریکہ بھاگ نکلے گا اور اپنے کوٹ کے کپڑے سے اس بیج کو نکال کر دوبارہ اگا لے گا۔ 1941ء میں، فلورے کسی طرح امریکہ پہنچے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ پینسلین اتنی کم مقدار میں بنتی تھی کہ ایک انسان کی جان بچانے کے لیے ہزاروں لیٹر مائع درکار ہوتا تھا۔سائنسدانوں نے امریکہ بھر کے بازاروں، کھیتوں اور گوداموں سے سڑی ہوئی چیزیں اکٹھی کرنا شروع کیں۔ بالآخر، لیبارٹری کی ایک اسسٹنٹ میری ہمٹ، جس کا نام تاریخ میں "Mouldy Mary" پڑ گیا، بازار سے ایک سڑا ہوا خربوزہ خرید کر لائیں۔ اس خربوزے پر جو پھپھوندی لگی تھی، وہ فلیمنگ کی پھپھوندی سے 200 گنا زیادہ پینسلین پیدا کر رہی تھی! اس خربوزے کے ملتے ہی پیداوار کا بند ٹوٹ گیا۔ امریکی فیکٹریوں میں رات دن کام ہونے لگا۔ اور جب 6 جون 1944ء کو اتحادی افواج نے فرانس کے ساحلوں پر قدم رکھا (D-Day)، تو ان کے پاس اتنی پینسلین موجود تھی کہ جنگ کے میدانوں میں گولیوں سے زخمی ہونے والے ہزاروں جوانوں کی ٹانگیں اور بازو کٹنے سے بچ گئے، اور وہ صحیح سلامت اپنے گھروں کو لوٹے۔ 1945ء میں الیگزینڈر فلیمنگ، ہاورڈ فلورے اور ارنسٹ چین کو دنیا کا سب سے بڑا نوبل انعام دیا گیا۔ فلیمنگ، جو ہمیشہ ایک سادہ اور کم گو انسان رہے، انہوں نے انعام وصول کرتے وقت ایک ایسی بات کہی جو آج بھی ہمارے کانوں میں گونجنی چاہیے:
"وہ دن دور نہیں جب پینسلین ہر دکان پر عام ملے گی۔ اور تب کوئی بے پروا انسان اس کا غلط یا ادھورا استعمال کر کے جراثیموں کو اس کا عادی بنا دے گا۔ اور پھر وہ دن آئے گا جب یہ دوا کام کرنا بند کر دے گی۔"
آج، جب ہم ذرا سے بخار یا زکام پر اینٹی بائیوٹک کی گولی بنا سوچے سمجھے کھا لیتے ہیں، تو ہم دراصل فلیمنگ کی اس پیشگوئی کو سچ ثابت کر رہے ہوتے ہیں۔ پینسلین کی کہانی صرف سائنس کی کامیابی نہیں ہے؛ یہ کہانی ہے ایک انسان کی باریک بین آنکھ، ایک کھلی کھڑکی، کوٹ کے استر میں چھپائے گئے بیج، اور ایک سڑے ہوئے خربوزے کی—جس نے مل کر ہماری اور آپ کی نسل کو زندہ رکھا۔
مزید پڑھیں
.jpg%3F2026-10-05T18%253A56%253A14.291Z&w=3840&q=75)



