بے حسی ایک ایسا رویہ ہے جو انسان کے دل سے احساس ہمدردی اور دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دیتا ہے۔ انسان جب اپنے اردگرد ہونے والی ناانصافی ظلم غربت اور دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کر بھی خاموش رہنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرے میں بے حسی اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو جسم کو نہیں بلکہ انسان کے ضمیر کو متاثر کرتی ہے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان زندہ تو رہتا ہے مگر اس کے اندر احساسات مرنے لگتے ہیں آج ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہر شخص اپنی ذات اپنے مفادات اور اپنی خواہشات کے گرد گھوم رہا ہے۔ کسی کے گھر میں فاقے ہوں کوئی بیمار علاج کے لیے پیسے نہ رکھتا ہو کوئی باپ اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہو یا کوئی ماں اپنے بچے کی بیماری پر آنسو بہا رہی ہو اکثر لوگ یہ سب دیکھ کر چند لمحوں کے لیے افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور پھر اپنی دنیا میں واپس لوٹ جاتے ہیں۔ کسی کے دکھ کو محسوس کرنا اور اس کے لیے عملی طور پر کچھ کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ افسوس کہ ہم نے ہمدردی کو صرف الفاظ تک محدود کر دیا ہے ہم سوشل میڈیا کے دور میں جی رہے ہیں۔ یہاں کسی حادثے کسی غریب کی فریاد یا کسی مظلوم کی ویڈیو کو دیکھ کر لوگ تبصرے تو بہت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر مدد کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ کسی کی تکلیف ہمارے لیے چند لمحوں کی خبر بن کر رہ جاتی ہے۔ ہم ویڈیو دیکھتے ہیں افسوس کرتے ہیں آگے شیئر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ حالانکہ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا کسی ضرورت مند کی مدد کرنا اور کسی مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا اصل انسانیت ہے بے حسی صرف غریبوں کے ساتھ نہیں بلکہ ہمارے گھروں اور رشتوں میں بھی پھیل رہی ہے۔ آج ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ والدین اپنی اولاد سے توجہ اور محبت کے منتظر رہتے ہیں بچے اپنے والدین کے ساتھ چند لمحے گزارنے کو ترستے ہیں بہن بھائی معمولی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ رشتے موجود ہیں مگر ان میں احساس کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ پہلے لوگ ایک دوسرے کے دکھ میں شریک ہوتے تھے کسی کے گھر پریشانی آتی تو پورا محلہ مدد کے لیے پہنچ جاتا تھا لیکن اب بعض اوقات پڑوسی کے گھر ہونے والی تکلیف کا علم بھی کئی دن بعد ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جب کسی انسان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو لوگ اس کا ساتھ دینے کے بجائے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ سڑک پر کسی کمزور کو طاقتور کے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھ کر لوگ نظریں پھیر لیتے ہیں۔ کسی ملازم کے ساتھ زیادتی ہو تو لوگ اپنی نوکری بچانے کے لیے خاموش رہتے ہیں۔ کسی غریب کے ساتھ ظلم ہو تو لوگ یہ سوچ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ہمیں کیا ضرورت ہے کسی معاملے میں پڑنے کی۔ یہی سوچ معاشرے کو کمزور کرتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم کرنے والا صرف مجرم نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ظلم دیکھ کر خاموش رہنے والے بھی اس کے حوصلے بڑھاتے ہیں ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرے میں اچھے لوگ ختم ہو گئے ہیں لیکن کبھی خود سے یہ سوال نہیں کرتے کہ ہم دوسروں کے لیے کتنے اچھے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی کسی پریشان حال شخص کی خیریت دریافت کی۔ کیا ہم نے کبھی کسی ضرورت مند کی مدد کی۔ کیا ہم نے کبھی کسی کے آنسو پونچھنے کی کوشش کی۔ کیا ہم نے کسی کی خاموشی کے پیچھے چھپے درد کو سمجھنے کی کوشش کی۔ دوسروں سے احساس کی امید رکھنے سے پہلے ہمیں اپنے اندر احساس پیدا کرنا ہوگا تعلیم کا مقصد صرف ڈگریاں حاصل کرنا اور اچھی ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان کو بہتر انسان بنانا بھی ہے۔ اگر کوئی شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو بڑے عہدے پر فائز ہو دولت اور شہرت رکھتا ہو لیکن اس کے اندر دوسروں کے لیے ہمدردی موجود نہ ہو تو اس کی تعلیم اور کامیابی ادھوری ہے۔ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو عاجزی برداشت اخلاق اور دوسروں کے حقوق کا احترام سکھائے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند عمارتیں یا بڑی سڑکیں نہیں بلکہ اس کے لوگوں کا کردار اور ایک دوسرے کے لیے احساس ہوتا ہے ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر مسکراتا ہوا چہرہ خوش نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اپنی پریشانیاں دوسروں سے چھپا کر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ کوئی معاشی مشکلات سے لڑ رہا ہوتا ہے کوئی اپنوں کی بے وفائی کا دکھ برداشت کر رہا ہوتا ہے اور کوئی تنہائی کے بوجھ تلے دبا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہمیشہ نصیحتوں کی نہیں بلکہ کبھی محبت بھرے دو بول توجہ اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی سے نرمی سے بات کرنا اس کی بات سننا اور اسے یہ احساس دلانا کہ وہ اکیلا نہیں ہے بعض اوقات بہت بڑی مدد ثابت ہوتا ہے بے حسی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ اور رویوں میں تبدیلی لائیں۔ اپنے گھروں سے آغاز کریں والدین کو وقت دیں بچوں کی بات سنیں بزرگوں کا احترام کریں پڑوسیوں کا خیال رکھیں اور اپنے اردگرد موجود ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں۔ کسی کے ساتھ زیادتی ہوتے دیکھیں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس کا ساتھ دیں۔ اگر مالی مدد ممکن نہ ہو تو کم از کم حوصلہ افزائی اور اچھے الفاظ سے اس کی ہمت بڑھائیں۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہماری چھوٹی سی کوشش سے کیا فرق پڑے گا کیونکہ معاشرے میں بڑی تبدیلی ہمیشہ چھوٹی چھوٹی کوششوں سے ہی جنم لیتی ہے یاد رکھیے انسان کی اصل خوبصورتی اس کے لباس دولت عہدے یا شہرت میں نہیں بلکہ اس کے احساس اور کردار میں ہوتی ہے۔ وہ شخص حقیقی معنوں میں کامیاب ہے جس کی موجودگی سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آئے جس کے الفاظ سے کسی ٹوٹے ہوئے دل کو حوصلہ ملے اور جس کے عمل سے کسی ضرورت مند کی مشکل آسان ہو جائے آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ دنیا میں انسان بہت ہیں مگر انسانیت ہر کسی کے اندر زندہ نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے جگہ پیدا کرنا ہوگی کیونکہ آج اگر ہم کسی کے درد کو محسوس نہیں کریں گے تو کل ہماری تکلیف کو محسوس کرنے والا بھی شاید کوئی نہ ہو۔ معاشرے کی اصلاح صرف حکومتوں اداروں اور قوانین کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا فرض ہے آئیے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں کسی کی تکلیف تماشا نہ بنے کسی کی غربت مذاق نہ بنے کسی کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھایا جائے اور کسی کی فریاد بے آواز نہ رہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں احساس زندہ ہو وہاں انسانیت کبھی نہیں مرتی لیکن جہاں بے حسی عام ہو جائے وہاں انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی انسان تنہا ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں






