Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاک سعودیہ لازوال دوستی کا رشتہ

نقطہ نظر
pak saudi
مصنف:

تحریر:ممتاز اعوان

دنیا کے نقشے پر کچھ رشتے جغرافیے کی سرحدوں سے ماورا، دلوں کی قربت سے پہچانے جاتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق بھی ایسا ہی ایک رشتہ ہے جس میں سفارتی تعلقات کے ساتھ عقیدت، مذہبی وابستگی، باہمی احترام، اخوت اور آزمائش کی گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت شامل ہے۔ سعودی عرب کا یومِ الوطنی اسی احساس کے ساتھ پاکستانی قوم کے لیے بھی خوشی، محبت اور نیک تمناؤں کا پیغام لے کر آتا ہے۔23 ستمبر سعودی عرب کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1932ء میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کی قیادت میں مملکت کے اتحاد اور ’’مملکت سعودی عرب‘‘ کے نام سے اس کے قیام کی یاد تازہ کرتا ہے۔


یہ دن سعودی عوام کے لیے قومی وحدت، شناخت اور ترقی کی علامت ہے، لیکن پاکستان کے لیے اس میں ایک اور خوبصورت رنگ بھی شامل ہے, برادر اسلامی ملک کی خوشی میں دل سے شریک ہونے کا رنگ،پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستی عوامی سطح پر بھی ایک گہری جذباتی وابستگی موجود ہے۔پاکستانی عوام کے دلوں میں حرمین شریفین کی محبت ایک ایسی کیفیت ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا مشکل ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے وابستہ روحانی عقیدت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلق کو ایک منفرد معنویت عطا کرتی ہے۔اسی لیے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام پاکستان کے لیے ہمیشہ اہم رہے ہیں۔ سعودی قیادت اور عوام نے بھی مختلف ادوار میں پاکستان کے ساتھ دوستی اور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ تعلق کبھی اقتصادی تعاون کی صورت میں سامنے آتا ہے، کبھی دفاعی شراکت داری کے روپ میں، کبھی مشکل وقت میں سفارتی حمایت بن جاتا ہے اور کبھی دو برادر قوموں کے درمیان محبت کے اظہار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔


خطے میں حالیہ کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا ہے کہ دوست ممالک کے تعلقات کا اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے۔سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستانی حکومت نے سعودی عرب کے خلاف شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان سعودی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ یکجہتی سے کھڑا ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو میں حوثی حملوں کی مذمت کی اور پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

سعودی عرب کے موجودہ سفر میں ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا کردار بھی نمایاں ہے۔ ان کی قیادت میں سعودی عرب معاشی، سماجی، ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبوں میں اپنے مستقبل کے لیے نئی سمتیں تلاش کر رہا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بھی محمد بن سلمان کی قیادت کے دوران اسٹریٹجک تعاون کی اہمیت نمایاں رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے معاملات پر قریبی رابطہ خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں مزید اہمیت اختیار کر چکا ہے۔محمد بن سلمان اور پاکستانی قیادت کے درمیان رابطے اس بات کی علامت ہیں کہ دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کو محض روایتی دوستی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے وسیع تر اسٹریٹجک تعاون میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔


7 اگست 2026ء کا دن پاک سعودی تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر سامنے آیا، جب مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔اس معاہدے پر سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، سلامتی، تعاون اور علاقائی امن و استحکام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں یہ اصول شامل ہے کہ تین میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں؛ اس کا بنیادی مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت اور بازدار قوت کو مضبوط کرنا ہے۔یوں مکہ مکرمہ، جو مسلمانوں کے لیے روحانی مرکز ہے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک نئے باب کا بھی گواہ بنا۔یہ منظر اپنے اندر ایک علامتی حسن رکھتا ہے: حرمین شریفین کی سرزمین پر تین اہم مسلم ممالک نے امن، سلامتی، خودمختاری اور باہمی تعاون کے عزم کو نئی شکل دی۔


پاکستان سعودی عرب تعلقات میں دفاعی تعاون ہمیشہ ایک اہم ستون رہا ہے۔ موجودہ دور میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سطح پر سعودیہ کے ساتھ دفاعی رابطوں نے اس تعاون کو مزید نمایاں کیا ہے۔مکہ معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔31 اگست 2026ء کو استنبول میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترک وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور ترک جنرل اسٹاف کے سربراہ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک رابطوں پر بات چیت ہوئی۔یہ رابطے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ آج پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دفاعی شراکت داری محض ماضی کی روایت نہیں بلکہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے تناظر میں ایک زندہ اور مسلسل ارتقا پذیر شعبہ ہے۔


سعودی عرب پر جب بھی خطرات منڈلاتے ہیں تو پاکستان میں اس معاملے کو صرف ایک خارجہ پالیسی کے موضوع کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ حرمین شریفین سے عقیدت رکھنے والی پاکستانی قوم کے لیے سعودی عرب کا امن اور استحکام ایک جذباتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔اسی لیے حوثی حملوں کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے واضح حمایت اور قومی یکجہتی کا اظہار عوامی جذبات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان نے ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا، تو دوسری جانب خطے میں امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی یمن میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت اور علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے عزم کو دہرایا ہے۔یہی وہ توازن ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہمیت رکھتا ہے: دوست کی سلامتی کے ساتھ کھڑا ہونا اور ساتھ ہی خطے میں امن کی خواہش کو زندہ رکھنا۔


پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی شراکت داری اپنے اندر تین مختلف طاقتوں کا امتزاج رکھتی ہے۔سعودی عرب اپنی معاشی قوت، جغرافیائی اہمیت اور اسلامی دنیا میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے؛ ترکیہ دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور علاقائی تجربے کے اعتبار سے اہم مقام رکھتا ہے؛ جبکہ پاکستان ایک بڑی دفاعی صلاحیت رکھنے والی اسلامی،ایٹمی ریاست اور خطے کا اہم ملک ہے۔مکہ معاہدہ ان صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش ہے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی تصور تصادم نہیں بلکہ امن، استحکام اور اجتماعی دفاعی بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔یہ تصور اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ امن صرف خواہش سے نہیں، مضبوط اور ذمہ دار سفارت کاری، باہمی اعتماد اور دفاعی تیاری سے بھی محفوظ ہوتا ہے۔


سعودی عرب کا قومی دن جب سبز پرچموں، روشنیوں اور قومی ترانوں کے ساتھ آتا ہے تو پاکستان میں بھی اس کے لیے نیک تمناؤں کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاستیں صرف زمین کے ٹکڑوں کا نام نہیں ہوتیں؛ قومیں تاریخ، قربانی، وحدت، شناخت اور مستقبل کے خواب سے تشکیل پاتی ہیں۔سعودی عرب کے لیے یومِ الوطنی اتحاد اور قومی تشخص کا دن ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک برادر ملک کی خوشی میں شریک ہونے، اس کی ترقی کے لیے دعا کرنے اور پاک سعودی دوستی کے عزم کو تازہ کرنے کا موقع بھی ہے۔آج جب مشرقِ وسطیٰ ایک پیچیدہ اور حساس دور سے گزر رہا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد اور باہمی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ حوثی حملوں جیسے واقعات نے سلامتی کے چیلنجز کو نمایاں کیا ہے، جبکہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ نے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک نئے ادارہ جاتی فریم ورک میں جگہ دی ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی سب سے خوبصورت تصویر شاید کسی معاہدے کی دستاویز میں نہیں بلکہ اس منظر میں ملتی ہے جہاں ایک پاکستانی حاجی خانہ کعبہ کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسو لیے دعا کرتا ہے، یا مدینہ منورہ کی گلیوں میں درود و سلام کے ساتھ دل کی کیفیت بیان کرتا ہے۔


یومِ الوطنی سعودی عرب کے موقع پر پاکستانی قوم اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے یہی دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مملکت سعودی عرب کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے، حرمین شریفین کو ہمیشہ امن و سکون کا مرکز بنائے، اور پاکستان و سعودی عرب کی برادرانہ دوستی کو مزید مضبوط کرے۔شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب اپنے مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ پاکستان اپنی دفاعی و سفارتی صلاحیتوں کے ساتھ برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت کی سعودی قیادت کے ساتھ دفاعی و اسٹریٹجک سطح پر بڑھتی ہوئی مشاورت اور مکہ معاہدہ اس دوستی کے نئے دور کی نمایاں جھلکیاں ہیں۔سبز ہلالی پرچم اور سبز سعودی پرچم، دو الگ ملکوں کی شناخت ضرور ہیں، مگر اخوت، احترام اور مشترکہ امن کی خواہش میں دونوں قوموں کے دل ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL