Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سعودی یوم الوطنی, پاک سعودی اخوت اور مضبوط شراکت داری،تحریر: محمد راشد تبسم

نقطہ نظر

ہر سال 23 ستمبر کو سعودی قوم اپنا قومی دن مناتی ہے۔23 ستمبر 1932ءکو شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے مملکت سعودی عرب کی بنیاد رکھی۔ امسال سعودی عرب اپنا 96واں قومی دن منا رہا ہے۔پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات ابتدائی ایام سے مذہبی عقیدت، دفاعی تعاون، معاشی مفادات اور تاریخی روابط پر قائم ہیں۔سعودی عرب عالم اسلام کا اہم روحانی مرکز ہے جبکہ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستانی عوام کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے تعلق صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ ایمان اور عقیدے کا حصہ ہے۔ یہی مذہبی وابستگی پاک سعودی تعلقات کو منفرد بناتی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات قیام پاکستان کے فوراً بعد قائم ہوئے اور وقت کے ساتھ مضبوط شراکت داری میں بدل گئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد جن ممالک نے اس نئی اسلامی ریاست کا خیرمقدم کیا، ان میں سعودی عرب صف اول میں تھا۔ 1951ءمیں دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے پہلے باقاعدہ معاہدے پر دستخط ہوئے۔ 1954ءمیں سعودی فرمانروا شاہ سعود نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا اور اسے اپنا دوسرا گھر قرار دیا۔ پاکستانی پرچم دیکھ کر انہوں نے کہا: ”یہ پرچم میرا ہے، یہ میرا ملک ہے۔“بعد ازاں شاہ فیصل کا دور پاک سعودی تعلقات کا اہم باب بنا۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی یاد میں فیصل آباد کا نام اور کراچی کی اہم شاہراہ شاہراہ فیصل رکھی گئی، جبکہ اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد ان کی معاونت کی یادگار ہے۔

حرمین شریفین سے گہری وابستگی کے باعث سعودی عرب میں حجاج اور عمرہ زائرین کے لیے سہولیات کو پاکستانی عوام سمیت دنیا بھر کے مسلمان خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں سمارٹ حج ایپ، الیکٹرانک بریسلیٹ، طبی سہولیات اور جدید نگرانی کے نظام نے حج انتظامات کو مزید منظم کیا ہے۔

قرآن مجید کی اشاعت اور تراجم کے حوالے سے مدینہ منورہ کا شاہ فہد قرآن کمپلیکس بھی سعودی عرب کی ایک بڑی خدمت ہے۔تازہ اعداد وشمار کے مطابق اس کی مختلف اشاعتوں کی سالانہ پیداواری صلاحیت 18 ملین سے زیادہ نسخوں تک پہنچ چکی ہے۔اس پلیٹ فارم سے قرآن مجید کے معانی کے تراجم 78 سے زائد زبانوں میں شائع کیے جا چکے ہیں۔

سعودی عرب نے آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ 1965ءاور 1971ءکی جنگوں میں سیاسی، سفارتی اور مالی حمایت کے علاوہ 1998ء کے ایٹمی تجربات کے بعد عالمی پابندیوں کے دوران موخر ادائیگیوں پر تیل فراہم کیا۔ 2005ءکے زلزلے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات میں بھی سعودی امداد پاکستان پہنچتی رہی۔ سوات میں سکولوں کی تعمیر نو کے لیے 23 ملین ڈالر اور مالیاتی بحران کے دوران اربوں ڈالر کے ڈیپازٹس بھی پاکستانی معیشت کے لیے معاون ثابت ہوئے۔

دفاعی اور سکیورٹی تعاون بھی پاک سعودی تعلقات کا اہم پہلو ہے۔ سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کو دنیا کے قریبی ترین باہمی تعلقات میں شمار کیا تھا۔ 1967ءکے فوجی معاہدے کے تحت سعودی افواج کی تربیت کی ذمہ داری پاکستان کو سونپی گئی، جو آج بھی جاری ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس پر 7 اگست 2026ءکو مکہ مکرمہ میں دستخط ہوئے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاع اور خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

حال ہی میں حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی گئی، تاہم سعودی فضائی دفاعی نظام نے ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے العربیہ کو انٹرویو میں کہا کہ مکہ معاہدے کے کسی ایک فریق پر حملے کی صورت میں تینوں ممالک باہمی مشاورت سے لائحہ عمل طے کرکے اس پر عمل کریں گے۔ ان کے مطابق دفاعی وعدوں پر عمل درآمد کا طریقہ کار عموماً عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔

موجودہ دور میں پاک سعودی تعلقات محض مذہبی اور دفاعی تعاون تک محدود نہیں رہے بلکہ مضبوط معاشی شراکت داری میں بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں قائم خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے پلیٹ فارم سے سعودی عرب کے ساتھ زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی اور معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔ ریکوڈک سمیت معدنی منصوبوں میں سعودی دلچسپی دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کی نئی سمت کو ظاہر کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا سعودی وژن 2030 سعودی معیشت کو جدید ٹیکنالوجی، سیاحت، صنعت اور جدت کی طرف لے جانے کا اہم منصوبہ ہے۔ وژن 2030 کے تحت پاکستانی ہنرمندوں، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر شعبوں کے کارکنوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں اور مملکت کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ان کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے اہم سہارا ہیں۔

سفارتی سطح پر بھی دونوں ممالک کے روابط کے فروغ میں سعودی سفارت کاروں کا کردار اہم رہا ہے۔ پاکستان میں تعینات سعودی سفیر ڈاکٹر راجح بن تامی البقمی اور سابق سفیر نواف بن سعید المالکی نے معاشی، ثقافتی اور تعلیمی روابط کے فروغ میں کردار ادا کیا۔

پاک سعودی تعلقات بدلتے عالمی حالات کے باوجود مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب کے 96ویں قومی دن پر پاکستانی قوم برادر سعودی قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا گو ہے۔ اللہ تعالیٰ دونوں ممالک کے درمیان اخوت، تعاون اور باہمی اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط فرمائے۔ آمین۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL