جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر سی ڈی اے کا نوٹس چسپاں، غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت


اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی وفاقی دارالحکومت میں واقع رہائش گاہ پر کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کی نشاندہی کرتے ہوئے نوٹس چسپاں کردیا۔

سی ڈی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نوٹس کے مطابق گھر کے مقررہ خالی حصوں میں غیر قانونی اور غیر مجاز تعمیرات کی گئی ہیں، جبکہ سیکیورٹی گارڈز کے کیبن اور جنریٹر بھی سی ڈی اے کی اراضی پر قائم کیے گئے ہیں۔

سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کو ہدایت کی ہے کہ رہائش گاہ کے مقررہ خالی حصوں میں کی گئی غیر قانونی تعمیرات ختم کی جائیں اور سرکاری اراضی پر قائم سیکیورٹی گارڈز کے کیبن سمیت دیگر تجاوزات کو بھی ہٹایا جائے۔

نوٹس میں خلاف ورزیاں دور کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں سی ڈی اے آرڈیننس اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

سی ڈی اے نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزیاں ختم نہ کرنے پر غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے یا عمارت کو سیل کرنے کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے لیے بھی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق امان اللہ ولد محمد یونس کو مذکورہ عمارت کا مالک قرار دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مالک نے 18 مارچ 2019 کو این او سی کے اجرا کے وقت جمع کرائے گئے حلف نامے میں یقین دہانی کرائی تھی کہ مقررہ خالی حصوں میں موجود خلاف ورزیاں تین ماہ کے اندر ختم کردی جائیں گی اور سی ڈی اے کے تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کی جائے گی، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ 18 مارچ 2019 کو بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔