نواب زادہ نصراللہ خان: ایک نام، ایک تاریخ اور خواجہ آصف کا سوال،تجزیہ: شہزاد قریشی
نقطہ نظر
پاکستان کی سیاست میں کچھ نام محض شخصیات نہیں ہوتے بلکہ ایک پوری تاریخ، ایک نظریے اور ایک سیاسی عہد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ نواب زادہ نصراللہ خان بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی جمہوریت، آئین، سیاسی جدوجہد اور اختلافِ رائے کے احترام کے لیے وقف کر دی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے نواب زادہ نصراللہ خان کی مسئلہ کشمیر کے لیے خدمات پر سوال اٹھانا ایک ایسی بحث کو جنم دیتا ہے جس میں تاریخ، سیاسی شعور اور قومی جدوجہد کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ خواجہ آصف صاحب ایک سینئر سیاست دان ہیں، ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی تاریخی شخصیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس کے پورے سیاسی کردار اور قومی خدمات کو سامنے رکھیں گے۔
نواب زادہ نصراللہ خان کا شمار پاکستان کے ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مختلف سیاسی نظریات رکھنے والی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اختلافات کے باوجود مکالمے، سیاسی اتحاد اور آئینی بالادستی کے قائل تھے۔ ان کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ اقتدار کے بجائے اصولوں اور سیاسی جدوجہد کو اہمیت دیتے تھے۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی ان کی سیاسی وابستگی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی شخصیت کی خدمات کا جائزہ لیتے وقت ضروری ہے کہ اس کے پورے سیاسی سفر کو دیکھا جائے، نہ کہ کسی ایک سوال یا بیان کی بنیاد پر اس کی جدوجہد کو محدود کر دیا جائے۔
خواجہ آصف صاحب! سیاست میں اختلاف کرنا ہر شخص کا جمہوری حق ہے، لیکن تاریخ کا احترام بھی سیاسی بلوغت کا تقاضا ہے۔ نواب زادہ نصراللہ خان جیسے لوگوں کے سیاسی کردار پر سوال اٹھانے سے پہلے ان کے عہد، ان کی جدوجہد اور پاکستان کی سیاست میں ان کے مقام کو سمجھنا ضروری ہے۔
تاریخ کا ایک اصول ہے: سیاسی اختلاف وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے، لیکن اصولوں پر کھڑے رہنے والی شخصیات کا مقام ان کی جدوجہد سے متعین ہوتا ہے۔ نواب زادہ نصراللہ خان کا نام بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اسی حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔





