چائے: ایک محبوب مشروب، تحریر: محمد احسان ثانی
نقطہ نظر
چائے زمانۂ قدیم سے ہر خاص و عام کا پسندیدہ مشروب رہی ہے۔ یہ محض ایک مشروب نہیں، بلکہ ایک احساس، ایک عادت، ایک جنون، ایک سرور اور ایک حسین روایت ہے۔ چائے کا ایک کپ کبھی تھکن سے چور جسم کو تازگی بخشتا ہے تو کبھی اداس لمحوں میں دل کو بہلانے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ یہ ایسی رفاقت ہے جو تنہائی میں بھی انسان کا ساتھ نہیں چھوڑتی اور محفل میں بیٹھے لوگوں کے درمیان قربت کا ایک خوب صورت ذریعہ بن جاتی ہے۔
چائے جہاں مہمان نوازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہیں دوستوں، مہمانوں اور اپنوں کے درمیان مل بیٹھنے کا ایک خوش گوار بہانہ بھی بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں کسی مہمان کی آمد پر چائے پیش کرنا محض ایک رسم نہیں، بلکہ خلوص، اپنائیت اور احترام کے اظہار کا ایک معروف طریقہ ہے۔ چائے کے فوائد اور نقصانات سے قطع نظر، یہ ہر طبقے اور ہر مقام پر یکساں مقبولیت رکھتی ہے۔ کسی کے لیے یہ صبح کی ابتدا ہے، کسی کے لیے شام کی تھکن کا علاج، تو کسی کے لیے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگانے کا بہانہ۔
چائے کی پتی کی تاریخ کا تعلق چین سے جوڑا جاتا ہے۔ چین دنیا بھر میں چائے پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ بھارت، کینیا، ویتنام، سری لنکا، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش بھی چائے کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان ممالک کی آب و ہوا اور جغرافیائی حالات چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہیں، اسی لیے وہاں مختلف اقسام کی چائے تیار کی جاتی ہیں۔
چائے کا لفظ بنیادی طور پر چینی زبان سے ماخوذ ہے، جو مختلف زبانوں سے ہوتا ہوا فارسی میں ’’چای‘‘ اور پھر اردو میں ’’چائے‘‘ کی صورت اختیار کر گیا۔ جب کہ انگریزی لفظ ’’ٹی‘‘ بھی چینی زبان کے ایک جنوبی تلفظ سے نکلا ہے۔ یوں ایک ہی مشروب مختلف زبانوں اور تہذیبوں میں الگ الگ ناموں سے پہچانا جانے لگا، مگر اس کی مقبولیت ہر جگہ برقرار رہی۔
چائے کے انسانی جسم پر اثرات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں موجود کیفین ایک اہم جزو ہے۔ انسانی دماغ میں ایڈینوسین نامی مادہ نیند اور تھکن کے احساس میں کردار ادا کرتا ہے۔ چائے میں موجود کیفین ایڈینوسین کے مخصوص ریسیپٹرز کو وقتی طور پر روک دیتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان خود کو زیادہ چاق و چوبند اور توانا محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چائے پینے کے بعد نیند کا غلبہ کچھ دیر کے لیے کم ہو جاتا ہے اور طبیعت میں تازگی محسوس ہونے لگتی ہے۔
چائے ایک ایسا نسبتاً سستا مشروب ہے جسے کم وقت اور کم خرچ میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں مہمان نوازی کے لیے چائے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ بسکٹ، نمکو، کیک یا دیگر ہلکی پھلکی اشیا پیش کرنے کا رواج بھی عام ہے۔ بعض گھروں میں چائے کے ساتھ بیٹھ کر ہونے والی گفتگو ہی محفل کی اصل رونق بن جاتی ہے۔ کبھی پرانی یادیں تازہ ہوتی ہیں، کبھی زندگی کے مسائل زیرِ بحث آتے ہیں اور کبھی ہنسی مذاق کے دوران وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہتا۔
تاہم ہر چیز کی طرح چائے کا استعمال بھی اعتدال کا تقاضا کرتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ چائے پینے سے نیند متاثر ہو سکتی ہے، بے چینی اور دل کی دھڑکن میں تیزی محسوس ہو سکتی ہے اور بعض افراد کو معدے کی تیزابیت کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ کھانے کے فوراً بعد چائے پینے سے اس میں موجود بعض اجزا جسم میں آئرن کے جذب ہونے کے عمل کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس کے استعمال میں اعتدال رکھنا ضروری ہے۔
چائے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ چائے پینے والے ممالک میں پاکستان بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ بعض دستیاب اعدادوشمار کے مطابق پاکستان چائے کی کھپت کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے، جہاں فی کس سالانہ کھپت تقریباً ڈیڑھ کلوگرام بتائی جاتی ہے۔ پاکستان میں چائے کا استعمال اس قدر زیادہ ہے کہ ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں چائے کی پتی مختلف ممالک سے درآمد کرنا پڑتی ہے۔ یوں چائے ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہونے کے ساتھ ملکی درآمدات میں بھی نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔
آج کل بازاروں میں چائے کی بے شمار اقسام دستیاب ہیں۔ ادرک، پودینہ، سونف، دارچینی اور الائچی جیسے مصالحہ جات سے تیار کردہ چائے اپنے الگ ذائقے اور خوشبو کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کشمیری چائے، سبز چائے، کالی چائے اور مختلف جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والے مشروبات بھی خاصے مقبول ہیں۔ ہر علاقے اور ہر شخص کی اپنی پسند ہے۔ کہیں دودھ اور چینی والی چائے کو ترجیح دی جاتی ہے تو کہیں قہوے اور سبز چائے کو پسند کیا جاتا ہے۔ سردیوں کی شام میں گرم گرم کشمیری چائے کا اپنا لطف ہے، جب کہ بارش کے موسم میں ادرک والی چائے کی خوشبو ہی ماحول کو خوش گوار بنا دیتی ہے۔
چائے دنیا بھر میں پانی کے بعد سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتی ہے۔ مختلف ممالک میں اسے اپنی تہذیب، روایات اور ذوق کے مطابق تیار اور پیش کیا جاتا ہے۔ کہیں چائے کے ساتھ رسمی آداب وابستہ ہیں تو کہیں یہ بے تکلف محفلوں کی پہچان ہے۔ ہمارے ہاں تو چائے مزدور کی تھکن سے لے کر اعلیٰ ایوانوں کی نشستوں تک ہر جگہ موجود دکھائی دیتی ہے۔ اس کی خوشبو، رنگ اور ذائقہ اسے ایک ایسا مقبول مشروب بناتے ہیں جو طبقاتی تفریق سے بالاتر ہو کر سب کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
چائے اور ادب کا تعلق بھی خاصا گہرا ہے۔ ادبی محفلوں، مشاعروں اور کتابوں کی تقریبات میں چائے کی موجودگی ایک مانوس روایت بن چکی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی ادبی نشست میں چائے کا ایک کپ گفتگو کا نیا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ اہلِ قلم کے لیے چائے محض ایک مشروب نہیں، بلکہ کبھی تخلیقی خیال کا محرک، کبھی تنہائی کا ساتھی اور کبھی دوستوں کے ساتھ علمی و ادبی گفتگو کا بہانہ بن جاتی ہے۔ کئی ادیبوں اور شاعروں نے چائے کو اپنی تحریروں اور شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ شاید اس لیے کہ چائے کے ایک کپ میں صرف ذائقہ نہیں، بلکہ یادوں، ملاقاتوں، انتظار اور احساسات کی ایک پوری دنیا سمٹی ہوتی ہے۔
چائے پر اہلِ قلم نے کئی خوب صورت اشعار بھی تخلیق کیے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مشروب ادبی ذوق رکھنے والوں کے دلوں میں بھی خاص مقام رکھتا ہے۔ چائے کے موضوع پر ایمان قیصرانی اور سید فضل متین کے اشعار ملاحظہ فرمائیے:
پھر کہیں بیٹھ کے پی جائے اکٹھے چائے
پھر کوئی شام کا پل ساتھ گزارا جائے
ایمان قیصرانی
چائے کے ایک کپ کا یہی ہے معاوضہ
یاروں کو عہدِ رفتہ کے قصے سنائیے
سید فضل متین
بلاشبہ چائے کا ایک کپ بظاہر معمولی سی چیز دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے گرد کتنی ہی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ کبھی یہ بچھڑے ہوئے دوستوں کو قریب لے آتی ہے، کبھی اجنبیوں کے درمیان گفتگو کا دروازہ کھولتی ہے اور کبھی خاموش بیٹھے انسان کو اپنے خیالوں میں کھو جانے کا موقع دیتی ہے۔ چائے کی پیالی میں صرف گرم مشروب نہیں ہوتا، اس میں وقت کے کئی لمحے، رشتوں کی گرم جوشی اور یادوں کی خوشبو بھی شامل ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے چائے ہر دور میں محبوب رہی ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی اس کی روایت اسی محبت کے ساتھ قائم رہے گی۔
مزید پڑھیں





