Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

چین کا سبز توانائی انقلاب،تحریر: پروفیسر عامرزریں

نقطہ نظر

مستقبل کی معیشت اور عالمی طاقت کا نیا منظرنامہ


دورِ حاضر میں توانائی اور عالمی معیشت کی بدلتی ہوئی سمت کا انحصار جدید ٹیکنالوجی اور ایجادات پر ہے۔ چین کا سبز توانائی انقلاب محض ماحول کو آلودگی سے بچانے کا منصوبہ نہیں، بلکہ توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی اور عالمی اقتصادی مسابقت کو تبدیل کرنے والی ایک وسیع حکمتِ عملی ہے۔چین نے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹریوں کی صنعت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرکے عالمی صاف توانائی کی مارکیٹ میں اہم مقام حاصل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو اس انقلاب کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ۔


1۔ شمسی توانائی: سورج سے بجلی کی پیداوار: چین دنیا میں شمسی توانائی کے شعبے میں نمایاں قائد ہے۔اس کی کامیابی کے بنیادی عوامل میں شامل ہیں:بڑے پیمانے پر سولر پینلز کی تیاری، پیداواری لاگت میں کمی،سرکاری پالیسیوں اور سرمایہ کاری کی معاونت اور وسیع پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق، چین نے 2024ء میں صاف توانائی کے شعبے میں 625 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کی، جبکہ اس نے 2030ء کے لیے مقررہ ہوا اور شمسی توانائی کی صلاحیت کا ہدف 2024ء ہی میں حاصل کرلیا تھا۔ اس کا عالمی اثر چینی سولر پینلز کی بڑے پیمانے پر تیاری نے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کے لیے شمسی توانائی تک رسائی آسان ہوئی ہے۔

…………………………

2۔ ہوا سے بجلی (Wind Energy):چین نے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے وسیع ونڈ فارمز قائم کیے ہیں۔خصوصاً اندرونی منگولیا، سنکیانگ اور دیگر علاقوں میں ہوا سے توانائی کے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔چین کی حکمتِ عملی صرف بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس میں شامل ہیں: بڑے ونڈ ٹربائنز کی تیاری، قومی بجلی کے نظام سے ان کا انضمام، توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی،صنعتی مراکز تک بجلی کی ترسیل شامل ہے۔

اس کے نتیجے میں چین کی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

…………………………

3۔ الیکٹرک گاڑیاں: تیل کے متبادل کی تلاش:چین کا سبز توانائی انقلاب سڑکوں پر بھی نمایاں ہے۔چینی کمپنیاں، مثلاً:BYD،NIO،Geely اور SAIC الیکٹرک گاڑیوں اور ان سے متعلق ٹیکنالوجی میں سرگرم ہیں۔الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے چین کا ایک اہم مقصد پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم کرنا بھی ہے۔ستمبر 2026ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، 2026ء کی دوسری سہ ماہی میں چین کے کاربن اخراج میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 1 فیصد کمی ہوئی، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے تیل کی طلب میں کمی میں کردار ادا کیا۔ یہ بات اہم ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے ماحولیاتی فوائد بجلی پیدا کرنے کے ذرائع اور بیٹریوں کی تیاری سمیت پورے نظام پر منحصر ہوتے ہیں۔

…………………………

4۔ بیٹری ٹیکنالوجی: توانائی کا ذخیرہ:شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی بجلی مستقل نہیں ہوتی۔ سورج رات کو نہیں چمکتا اور ہوا کی رفتار بدلتی رہتی ہے۔اس مسئلے کے حل کے لیے بیٹریاں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔چین نے لیتھیم آئن بیٹریوں، بیٹری میٹریلز اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں اپنی صنعتی صلاحیت کو وسعت دی ہے۔چینی کمپنی CATL سمیت متعدد ادارے بیٹری ٹیکنالوجی اور اس کی عالمی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بیٹریوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شمسی بجلی کو بعد میں استعمال کرنے کی سہولت بیٹریوں سے ممکن ہے، بجلی کے نظام میں استحکام پیدا ہوتا ہے، الیکٹرک گاڑیوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ اور اس کے علاوہ بیٹریز صنعتی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

………………………………

5۔ سبز توانائی اور چینی معیشت:چین کے لیے سبز توانائی (Green Energy) صرف ماحولیاتی پالیسی نہیں بلکہ صنعتی ترقی کا بھی ایک اہم شعبہ ہے۔سولر پینلز، بیٹریوں، الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر صاف توانائی کی مصنوعات کی تیاری نے نئی صنعتی سپلائی چینز پیدا کی ہیں۔

چین کی حکمتِ عملی میں درج ذیل مقاصد نمایاں ہیں:توانائی کی سلامتی: درآمد شدہ تیل اور گیس پر انحصار کو کم کرنے کی کوشش، صنعتی مسابقت: مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں پیداواری صلاحیت پیدا کرنا، برآمدات: صاف توانائی کی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں فروغ دینا اور ماحولیاتی اہداف: کاربن اخراج میں کمی اور طویل مدت میں کاربن نیوٹرل معیشت کی جانب پیش رفت۔

……………………

6۔ اس تمام تناظر میں چین کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ چین کی سبز توانائی میں ترقی کے باوجود متعدد مسائل موجود ہیں۔مثلاً کوئلے پر انحصار:چین کی توانائی کی ضروریات بہت زیادہ ہیں، اور قابلِ تجدید توانائی میں توسیع کے باوجود کوئلہ بجلی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ………… بجلی کے گرڈ کا دباؤ: دور دراز علاقوں میں پیدا ہونے والی شمسی اور ہوائی بجلی کو صنعتی مراکز تک پہنچانے کے لیے مضبوط ترسیلی نظام درکار ہے۔………… عالمی تجارتی تنازعات:چینی سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی برآمدات نے بعض ممالک میں تجارتی تحفظات اور مسابقت سے متعلق مباحث کو جنم دیا ہے۔

………………

جب ہم نے چین کی شاندار معاشی اور صنعتی ترقی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے تو اس میں پاکستان کے لیے کیا سبق ہے؟……چین کا تجربہ پاکستان کے لیے کئی موضوعات پر غور کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس ضمن میں قابلِ توجہ پہلویہ ہے:…… شمسی توانائی کا فروغ پاکستان میں سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم منصوبہ بندی میں بجلی کے گرڈ، ذخیرہ کاری اور صارفین کے مفادات کو شامل کرنا ضروری ہے۔…… مقامی صنعت سولر آلات، بیٹریوں اور توانائی سے متعلق مصنوعات کی مقامی تیاری صنعتی مواقع پیدا کرسکتی ہے۔…… توانائی کی لاگت قابلِ اعتماد اور نسبتاً کم لاگت بجلی صنعت، زراعت اور گھریلو صارفین کے لیے اہم ہے۔…… انسانی وسائل انجینئرنگ، الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں اور قابلِ تجدید توانائی میں تربیت یافتہ افراد کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان کو چین کی حرف بہ حرف نقل کرنے کے بجائے اپنے توانائی کے وسائل، معاشی حالات اور بجلی کے نظام کے مطابق پالیسی تیار کرنا اہم ہوگا۔

…………

کیا مستقبل میں چین عالمی توانائی کا نقشہ بدل سکتا ہے؟ چین کی قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور صنعتی پیداواری صلاحیت عالمی توانائی کی منتقلی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔آنے والے برسوں میں تین شعبے خاص اہمیت رکھ سکتے ہیں: …… قابلِ تجدید بجلی اور توانائی ذخیرہ کاری، …… الیکٹرک ٹرانسپورٹ اور صنعتی برقی کاری اور گرین ہائیڈروجن اور جدید توانائی کا بنیادی ڈھانچہ قابل ِ ذکر ہیں۔چین کی 2026ء تا 2030ء کی پندرہویں پانچ سالہ منصوبہ بندی میں صاف توانائی کے نظام کو مزید وسعت دینے پر توجہ دی گئی ہے۔

چین کا سبز توانائی انقلاب ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ توانائی کی تبدیلی صرف بجلی پیدا کرنے کے ذرائع تبدیل کرنے کا عمل نہیں۔ بلکہ یہ معیشت، صنعت، ٹیکنالوجی، ماحولیات اور قومی توانائی کی سلامتی کے باہمی تعلق کو ازسرِنو تشکیل دینے کا عمل ہے۔

چین کا تجربہ یہ سوال بھی سامنے لاتا ہے کہ کیا مستقبل کی صنعتی طاقت کا انحصار صرف تیل اور گیس پر ہوگا، یا سستی، قابلِ اعتماد اور صاف بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پر بھی؟یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے اثرات چین سے کہیں آگے، پاکستان سمیت پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔