بونی میں احتجاج، مرکزی سڑک بلاک، مشینری آنے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان
اپر چترال (فتح اللہ): تورکہو بوزند روڈ پر تعمیراتی کام میں تعطل اور اسفالٹ کا کام شروع نہ ہونے کے خلاف تورکہو تریچ روڈ فورم (TTRF) کا احتجاج جاری ہے، تاہم تازہ پیش رفت کے مطابق مظاہرین نے سی اینڈ ڈبلیو دفتر بونی کے سامنے جاری دھرنا ختم کرنے کے بجائے اسے بونی کی مرکزی سڑک پر منتقل کر دیا ہے، جہاں اس وقت سڑک مکمل طور پر بلاک ہے۔
تورکہو اور تریچ سے تعلق رکھنے والے مظاہرین، جن میں بزرگ، نوجوان اور دیگر مقامی افراد شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ جب تک تورکہو بوزند روڈ کے لیے مطلوبہ تعمیراتی مشینری موقع پر نہیں پہنچائی جاتی اور اسفالٹ کا کام شروع نہیں کیا جاتا، بونی کی مرکزی سڑک کو کھولا نہیں جائے گا۔ مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ انتظامیہ کے ساتھ مطالبات پر قابلِ قبول پیش رفت ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔
اس سے قبل مظاہرین نے سی اینڈ ڈبلیو دفتر بونی کے سامنے مسلسل رات اور دن دھرنا دیا، جس کے دوران متعلقہ حکام اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ مظاہرین کے مطابق مذاکرات میں انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ایک مشین فوری طور پر فراہم کی جائے گی جبکہ مزید دو مشینیں بھی بعد میں موقع پر پہنچائی جائیں گی، تاہم ان کے بقول مطلوبہ مشینری فراہم نہ ہونے کے باعث روڈ پر اسفالٹ کا کام شروع نہیں ہو سکا۔
تورکہو تریچ روڈ فورم کے بانی اور سرگرم رکن عمیر خلیل کا کہنا ہے کہ علاقے میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اگر دستیاب موسم کے دوران اسفالٹ کا کام شروع نہ کیا گیا تو آئندہ تعمیراتی سرگرمیوں میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ احتجاج کے بعد انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، تاہم عملی طور پر مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث فورم کو دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
عمیر خلیل نے مطالبہ کیا کہ سی اینڈ ڈبلیو اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر مطلوبہ مشینری موقع پر پہنچائیں اور تورکہو بوزند روڈ پر اسفالٹ کا کام شروع کیا جائے، تاکہ دستیاب موسم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منصوبے پر کام آگے بڑھایا جا سکے۔
دوسری جانب صدر پریس کلب اپر چترال محمد مجاہد کے مطابق تورکہو بوزند روڈ کی تعمیر کے لیے مجموعی طور پر ایک ارب 55 کروڑ روپے کی رقم مختص کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے، جبکہ ان کے مطابق تقریباً 16 کروڑ روپے باقی رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ رقم موجود ہونے کے باوجود روڈ پر تارکول بچھانے کا کام نہیں ہو رہا اور تعمیراتی مشینری واپس لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق انہوں نے مشینری کو واپس لے جانے سے روک دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اسے واپس لے جانے کے بجائے فوری طور پر روڈ کی تعمیر اور اسفالٹ کے کام کے لیے استعمال کیا جائے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ تورکہو اور تریچ کے عوام طویل عرصے سے اس اہم سڑک کی تعمیر اور تکمیل کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق مزید تاخیر سے نہ صرف منصوبے کی تکمیل متاثر ہوگی بلکہ سردیوں کے باعث اسفالٹ کا کام بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
تازہ صورتحال یہ ہے کہ مظاہرین نے سی اینڈ ڈبلیو دفتر کے سامنے سے اپنا دھرنا بونی کی مرکزی سڑک پر منتقل کر دیا ہے اور مرکزی سڑک مکمل طور پر بند ہے۔ مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک تعمیراتی مشینری موقع پر نہیں پہنچتی اور انتظامیہ کے ساتھ ان کے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی، احتجاج اور سڑک کی بندش جاری رہے گی۔
ادھر سڑک کی بندش کے باعث بونی میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ مظاہرین نے متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کرتے ہوئے مشینری فراہم کرنے اور تورکہو بوزند روڈ پر اسفالٹ کا کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں





