چھوٹے شہر سے بڑے خواب تک ،تحریر:سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
کسی بھی انسان کی کامیابی کو صرف اس مقام سے نہیں پرکھا جا سکتا جہاں وہ آج کھڑا ہے، بلکہ اصل کہانی اس سفر میں پوشیدہ ہوتی ہے جو اسے وہاں تک لے کر آیا۔ بڑے شہروں کی روشنیاں اکثر ان راستوں کی تھکن چھپا دیتی ہیں جن پر چل کر کوئی شخص اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ چھوٹے شہروں اور محدود وسائل سے نکل کر بڑے خواب دیکھنے والے نوجوانوں کی کہانیاں اسی لیے اہم ہوتی ہیں کہ ان میں صرف کامیابی نہیں بلکہ حوصلہ، مسلسل محنت، سیکھنے کی جستجو اور آگے بڑھنے کا عزم بھی دکھائی دیتا ہے۔
دانش رحمان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ایک نسبتاً چھوٹے شہر ٹبہ سلطان پور، تحصیل میلسی، ضلع وہاڑی سے اپنے تعلیمی اور عملی سفر کا آغاز کرنے والے دانش رحمان نے وقت کے ساتھ اپنے دائرۂ کار کو وسیع کیا۔ انہوں نے سائنس میں میٹرک کیا، پھر ICS مکمل کیا اور اس کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے جرنلزم میں گریجویشن مکمل کی۔ لیکن ان کے لیے تعلیم کسی ایک ڈگری پر ختم ہونے والی منزل نہیں تھی۔ آج بھی ان کا تعلیمی سفر جاری ہے اور وہ NCBA یونیورسٹی، برکی کیمپس لاہور سے BS Mass Communication کر رہے ہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ تعلیم دراصل صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جو شخص سیکھنے کے عمل کو زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے، اس کے لیے ہر نیا علم ایک نئی سمت پیدا کرتا ہے۔دانش رحمان نے بھی شاید اسی سوچ کو اپنایا۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں انہوں نے اپنے آبائی علاقے سے نکل کر لاہور کا رخ کیا۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں آکر اپنی شناخت بنانا اور بیک وقت تعلیم اور عملی زندگی کو جاری رکھنا آسان کام نہیں۔ نئے شہر میں رہائش، روزگار، تعلیمی اخراجات، وقت کی کمی اور دیگر ذمہ داریاں انسان کے لیے کئی سوالات کھڑے کرتی ہیں، مگر دانش رحمان نے ان چیلنجز کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔وہ 2017 سے لاہور میں ایک فارماسیوٹیکل کمپنی سے وابستہ ہیں اور ملازمت کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو ان کے سفر کو خاص بناتا ہے کہ انہوں نے تعلیم اور روزگار میں سے کسی ایک کو دوسرے کے مقابل نہیں رکھا بلکہ دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی۔
آج کے دور میں صرف ڈگری حاصل کرنا ہی کافی نہیں سمجھا جاتا۔ عملی زندگی میں مختلف شعبوں کی مہارتیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ دانش رحمان نے بھی اپنی روایتی تعلیم کے ساتھ مختلف شعبوں میں تربیت حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کے حاصل کردہ کورسز اور سرٹیفیکیشنز میں کری ایٹو رائٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، فری لانسنگ، SAP، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ورڈ پریس، SEO، AutoCAD، ڈیجیٹل لٹریسی، QuickBooks، ای کامرس مینجمنٹ، کمیونیکیشن اینڈ سافٹ اسکلز، ویڈیو ایڈیٹنگ اینڈ اینیمیشن، ورچوئل اسسٹنس، ڈیٹا اینالیسس اینڈ بزنس انٹیلی جنس، افیلی ایٹ مارکیٹنگ، اسٹارٹ اپ اسٹریٹیجیز اینڈ انٹرپرینیورشپ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس یوزنگ پائتھن، UI/UX، Webflow، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور موبائل گیمنگ و ایپ ڈویلپمنٹ جیسے شعبے شامل ہیں۔
یہ فہرست محض سرٹیفکیٹس کی تعداد نہیں بلکہ ایک ایسے نوجوان کی دلچسپیوں اور سیکھنے کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے جو بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دانش رحمان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو تحریر اور کالم نگاری بھی ہے۔ ان کے مطابق اب تک ان کے 200 سے زائد کالم مختلف پلیٹ فارمز اور 50 سے زائد اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سماجی مسائل، خواتین کو بااختیار بنانے، فری لانسنگ، سیاست، قومی اور بین الاقوامی معاملات جیسے موضوعات شامل رہے ہیں۔لکھنا محض الفاظ کو کاغذ پر منتقل کرنا نہیں ہوتا۔ ایک لکھاری اپنے مشاہدے، تجربے، سوالات اور اردگرد کے معاشرے کو الفاظ دیتا ہے۔ معاشرے کے مسائل کو موضوع بنانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ لکھنے والا اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے اور ان کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کرے۔دانش رحمان نے کالم نگاری کے ساتھ اسکرین رائٹنگ کے میدان میں بھی قدم رکھا ہے۔ وہ دو ڈرامہ اسکرپٹس تحریر کر کے جمع کرا چکے ہیں، جن کے عنوانات "ڈیجیٹل عشق" اور "جم" ہیں۔ ان اسکرپٹس کے بارے میں ان کی جانب سے منظوری کا انتظار جاری ہے۔تخلیقی شعبوں میں فوری کامیابی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک خیال کو اسکرین تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے اور بعض اوقات کسی تحریر کو قبولیت حاصل کرنے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اصل چیز یہ ہوتی ہے کہ انسان انتظار کے دوران اپنی تخلیقی سرگرمی ختم نہ کرے۔
دانش رحمان کا سفر صرف صحافت اور اسکرین رائٹنگ تک محدود نہیں۔ وہ بچوں کے لیے دو کتابیں بھی تحریر کر چکے ہیں جو اردو اور انگریزی میں شائع ہوئی ہیں اور ان کے مطابق Amazon Kindle پر دستیاب ہیں۔ ان کتابوں میں "Dreams Princess" اور "Arya Visit in Adventure Garden" شامل ہیں۔بچوں کے ادب کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ بچوں کے لیے کہانی لکھنا صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کے تخیل، سوچ اور مطالعے کی عادت کو پروان چڑھانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی شخص کا صحافت، کالم نگاری، اسکرین رائٹنگ اور بچوں کے ادب کی طرف متوجہ ہونا اس کے تخلیقی سفر کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے۔دانش رحمان کی پیشہ ورانہ اور تخلیقی سرگرمیوں میں ایک اور نمایاں حوالہ ماہنامہ بچپن انٹرنیشنل میگزین ہے، جس سے وہ Founder & Chief Editor کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔ میگزین آن لائن قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جبکہ اسے مزید وسعت دینے اور ہارڈ کاپی کی اشاعت کے حوالے سے بھی کام جاری ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت میگزین کی موبائل ایپلی کیشن کی تیاری ہے، جس پر وہ خود کام کر رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں قارئین اپنے موبائل فون کے ذریعے بھی میگزین تک رسائی حاصل کر سکیں۔یہ پہلو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موجودہ دور میں صحافت اور ابلاغ کے روایتی ذرائع تیزی سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑ رہے ہیں۔ ایک میگزین کا مستقبل صرف مطبوعہ صفحات تک محدود نہیں رہا بلکہ ویب، سوشل میڈیا اور موبائل ایپلی کیشنز بھی قارئین تک پہنچنے کے اہم ذرائع بن چکے ہیں۔دانش رحمان کے اس سفر کو دیکھتے ہوئے میرے لیے یہ بات ذاتی طور پر بھی اہم ہے کہ وہ میرے والد محترم پروفیسر سید اسرار حسین نقوی صاحب کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ایک استاد کے لیے اپنے کسی طالب علم کو زندگی میں آگے بڑھتے دیکھنا یقیناً ایک خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ استاد کلاس روم میں صرف کتاب کا علم نہیں دیتا بلکہ بعض اوقات طالب علم کے اندر سوال کرنے، سوچنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ برسوں بعد جب کوئی طالب علم اپنی محنت سے اپنی شناخت بناتا ہے تو اس کامیابی میں اس کے اپنے عزم کے ساتھ اساتذہ کی تربیت کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔دانش رحمان کی کہانی کا سب سے قابلِ توجہ پہلو شاید یہی ہے کہ ان کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔
وہ آج بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، مختلف شعبوں میں سیکھنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، کالم لکھ رہے ہیں، اسکرین رائٹنگ میں کام کر رہے ہیں، بچوں کے لیے کتابیں تخلیق کر چکے ہیں اور اپنے میگزین کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہم اکثر نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ کامیاب ہونا ہے تو محنت کرو، مگر کامیابی کے سفر کی اصل حقیقت شاید اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ محنت کے ساتھ سمت، مستقل مزاجی، سیکھنے کی خواہش اور ناکامی یا تاخیر کے باوجود سفر جاری رکھنے کا حوصلہ بھی درکار ہوتا ہے۔ایک چھوٹے شہر سے نکلنے والا نوجوان جب بڑے شہر کا رخ کرتا ہے تو اس کے پاس شاید وسائل محدود ہوں، مگر اگر اس کے پاس سیکھنے کا جذبہ موجود ہو تو وہ اپنے لیے نئی راہیں تلاش کر سکتا ہے۔ ڈگری کے ساتھ ہنر حاصل کرنا، ملازمت کے ساتھ تعلیم جاری رکھنا، اپنی صلاحیتوں کو مختلف شعبوں میں آزمانا اور اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے سے مکالمہ کرنا اسی مسلسل جدوجہد کا حصہ ہے۔
دانش رحمان کی داستان کو کسی غیر معمولی کامیابی کے دعوے کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک جاری تعلیمی، پیشہ ورانہ اور تخلیقی سفر کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ کیونکہ اصل کامیابی شاید کسی ایک عہدے، ڈگری، کتاب یا سرٹیفکیٹ کا نام نہیں۔اصل کامیابی یہ بھی ہے کہ انسان آج سے بہتر کل کے لیے خود کو مسلسل تیار کرتا رہے۔چھوٹے شہر سے بڑے خواب تک کا یہ سفر ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ راستے ہمیشہ تیار نہیں ملتے، بعض اوقات انسان کو اپنے راستے خود بنانا پڑتے ہیں۔اور جو لوگ سیکھنے کا سفر نہیں روکتے، ان کے لیے ہر نئی صبح ایک نئی منزل کی طرف قدم بڑھانے کا موقع بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں





