Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تربیت کے آئینے میں ہمارا معاشرہ،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

کبھی کبھی کوئی معمولی سا منظر انسان کے اندر ایک ایسا سوال چھوڑ جاتا ہے جو دیر تک خاموش نہیں ہوتا۔ کل ایک ویڈیو نظر سے گزری۔ ایک کم عمر بچہ تھیٹر میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اسٹیج پر رقص ہو رہا تھا اور بچہ بھی اسی انداز کو دہرا رہا تھا۔ اردگرد بیٹھے لوگ اسے دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے، جیسے یہ محض ایک معصوم حرکت ہو، جیسے اس منظر میں سوچنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔ مگر نجانے کیوں میری نظر اس بچے پر ٹھہرنے کے بجائے اس ماحول پر ٹھہر گئی جس میں وہ بیٹھا تھا۔ میں سوچتی رہی کہ ایک بچہ جو کچھ دیکھ رہا ہے، اسے دہرا رہا ہے، مگر جو بالغ اسے دیکھ رہے ہیں، وہ اس لمحے میں کیا دیکھ رہے ہیں؟


سوال یہ نہیں کہ وہ بچہ ایسا کیوں کر رہا تھا۔ بچے تو وہی دہراتے ہیں جو وہ دیکھتے، سنتے اور اپنے اردگرد محسوس کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ *ہم نے بچوں کے سامنے کیا رکھ دیا ہے کہ وہ کس چیز کو قابلِ تقلید سمجھنے لگے ہیں؟* تربیت صرف یہ نہیں کہ بچے کو سلام کرنا سکھا دیا جائے، بڑوں کے سامنے خاموش رہنے کی تاکید کر دی جائے یا اسے اچھے اسکول میں داخل کرا دیا جائے۔ تربیت تو اس لمحے سے شروع ہو جاتی ہے جب بچہ اپنے والدین کو دیکھ کر دنیا کو سمجھنا شروع کرتا ہے۔ وہ ہماری گفتگو سے زبان سیکھتا ہے، ہمارے رویّوں سے اخلاق، ہماری ترجیحات سے اقدار اور ہماری پسند ناپسند سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ دنیا میں کیا قابلِ قبول ہے اور کیا نہیں۔


ہم اکثر کہتے ہیں کہ آج کے بچے بگڑ گئے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ بچے خود کہاں سے بگڑتے ہیں؟ ان کے ہاتھ میں موبائل کس نے دیا؟ ان کے سامنے اسکرین کس نے رکھی؟ انہیں کس چیز پر ہنسنا ہے، کس چیز کو پسند کرنا ہے اور کس چیز کو معمول سمجھنا ہے، یہ سب کچھ بڑی حد تک وہ ہم سے ہی تو سیکھتے ہیں۔ پھر ایک دن جب وہ ہمارے سامنے وہی کچھ دہراتے ہیں جو انہوں نے ہماری دنیا سے سیکھا ہوتا ہے تو ہم حیرت سے پوچھتے ہیں: *یہ بچہ ایسا کیوں ہو گیا؟* شاید یہ سوال بچے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھنے کا وقت ہے۔


ہم نے تفریح اور تہذیب کے درمیان موجود اس باریک لکیر کو شاید بہت آسانی سے مٹا دیا ہے۔ ہر وہ چیز جو مقبول ہو جائے، ہمیں قابلِ قبول لگنے لگتی ہے۔ جس منظر پر کبھی ہماری نگاہ جھک جاتی تھی، آج اسی پر تالیاں بجتی ہیں۔ جس گفتگو کو کبھی بچوں سے دور رکھا جاتا تھا، آج وہ موبائل کی اسکرین کے ذریعے ان کے ہاتھوں میں موجود ہے۔ اور سب سے خطرناک تبدیلی شاید یہ نہیں کہ ہمارے مناظر بدل گئے ہیں؛ خطرناک بات یہ ہے کہ *ہماری حساسیت بدل گئی ہے۔*


تہذیب صرف لباس کا نام نہیں۔ تہذیب صرف یہ بھی نہیں کہ ہم کسی ترقی یافتہ شہر میں رہتے ہیں، بڑے ادارے میں کام کرتے ہیں یا جدید سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تہذیب دراصل وہ شعور ہے جو انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ کیا چیز کہاں، کس موقع پر، کس عمر کے سامنے اور کس انداز میں مناسب ہے۔ جدید ہونا اور بے قید ہونا ایک چیز نہیں۔ آزادی اور بے راہ روی میں بھی فرق ہے۔ فن اور نمائش میں بھی فرق ہے۔ تفریح اور ابتذال میں بھی ایک حد موجود ہے۔


مسئلہ یہ نہیں کہ زمانہ بدل رہا ہے؛ زمانے کا بدلنا فطری عمل ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ ہم نے اپنے اندر موجود وہ شعور بھی کھو دیا ہے جو ہمیں مناسب اور نامناسب کے درمیان فرق کرنا سکھاتا تھا؟ کیا ہم نے ترقی کے نام پر ہر اس چیز کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے جسے دیکھ کر ہمارے بچے ہمیں ہی آئینہ دکھانے لگیں؟


اور یہاں سوال والدین سے بھی بنتا ہے۔ کیا والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی فیس ادا کرنا، انہیں مہنگے کپڑے پہنانا، ان کی ہر خواہش پوری کرنا اور انہیں دنیا کی ہر سہولت فراہم کر دینا ہے؟ یا والدین دراصل ایک انسان کی شخصیت تعمیر کرنے کے ذمہ دار بھی ہیں؟ بچے کو اچھا اسکول دینا ضروری ہے، مگر اس سے پہلے اسے اچھا ماحول دینا ضروری ہے۔ اسے کئی زبانیں سکھانا اچھی بات ہے، مگر اس سے پہلے اسے گفتگو کی شائستگی سکھانا ضروری ہے۔ اسے دنیا کے جدید رجحانات سے واقف کرانا غلط نہیں، مگر اس کے ساتھ یہ شعور دینا بھی لازم ہے کہ *ہر مقبول چیز قابلِ تقلید نہیں ہوتی۔*


ہم اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ آگے جائیں، دنیا دیکھیں، بڑے خواب دیکھیں اور اپنی زندگی میں مقام حاصل کریں۔ مگر کیا ہم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ کامیابی کے ساتھ کردار نہ ہو تو وہ کامیابی انسان کو کہاں لے جائے گی؟ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ پُراعتماد ہو، مگر کیا ہم نے اسے خود اعتمادی اور خود نمائی کا فرق سمجھایا؟ ہم چاہتے ہیں کہ وہ آزاد ہو، مگر کیا اسے یہ بتایا کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ وہ جدید ہو، مگر کیا ہم نے اسے یہ سمجھایا کہ جدید ہونا اپنی تہذیبی بصیرت سے دستبردار ہونے کا نام نہیں؟


ہم بچوں کو دنیا میں آگے بڑھنے کا ہنر سکھا رہے ہیں، مگر شاید ہمیں یہ بھی سکھانے کی ضرورت ہے کہ *انسان بن کر آگے کیسے بڑھنا ہے۔* تعلیم انسان کو معلومات دے سکتی ہے، مگر تربیت اسے شعور دیتی ہے۔ کتابیں اسے الفاظ دے سکتی ہیں، مگر کردار اسے سمت دیتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں گھر کی تربیت اسکول کی تعلیم سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔


مجھے سب سے زیادہ جس چیز نے سوچنے پر مجبور کیا، وہ صرف بچے کا رویہ نہیں تھا۔ اس کے اردگرد موجود بالغ افراد کی بے فکری تھی۔ ایک بچہ اپنے سامنے موجود منظر کو دہرا رہا تھا، اور بڑے اسے دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے۔ شاید کسی ایک شخص نے بھی یہ نہیں سوچا کہ بچہ جو کچھ دیکھ کر سیکھ رہا ہے، وہ کل اس کے کردار کا حصہ بن سکتا ہے۔


یہیں سے معاشرے کے زوال کی ایک خاموش کہانی شروع ہوتی ہے۔ معاشرے ہمیشہ بڑے حادثوں سے نہیں گرتے۔ کبھی کبھی وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو معمول سمجھ لینے سے گرتے ہیں۔ پہلے ایک نامناسب بات پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، پھر اس پر ہنسی آتی ہے، پھر اسے قبول کر لیا جاتا ہے، اور آخرکار وہ نئی نسل کے لیے معمول بن جاتی ہے۔ *تہذیب ایک دن میں نہیں مرتی؛ وہ ہماری اجتماعی بے حسی کے ہاتھوں آہستہ آہستہ دم توڑتی ہے۔*


ہم اکثر نئی نسل کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بچوں میں پہلے جیسی حیا نہیں رہی، پہلے جیسی شائستگی نہیں رہی، پہلے جیسی اقدار نہیں رہیں۔ مگر نئی نسل نے اپنی اقدار کا بڑا حصہ کہاں سے حاصل کیا؟ گھر سے، معاشرے سے، تعلیمی ماحول سے، اسکرین سے اور ان بڑوں سے جنہیں وہ اپنا نمونہ سمجھتی ہے۔ بچہ نصیحت سے کم اور مشاہدے سے زیادہ سیکھتا ہے۔ آپ اسے دس مرتبہ کہیں کہ ایسا مت کرو، لیکن اگر وہ روز آپ کو اس کے برعکس کرتے دیکھے گا تو آخرکار آپ کی نصیحت نہیں، آپ کا عمل اس کی شخصیت میں اترے گا۔


شاید ہمیں بچوں کی تربیت پر گفتگو کرنے سے پہلے اپنے تماشائی پن کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ سوال یہ بھی ہے کہ *ہم کس چیز پر تالیاں بجا رہے ہیں؟* ہماری تالیاں صرف آواز نہیں ہوتیں۔ کبھی کبھی وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک خاموش اجازت بن جاتی ہیں۔ جس چیز پر ہم ہنس کر داد دیتے ہیں، بچہ اسے قبولیت سمجھ سکتا ہے۔ جس رویّے کو ہم روکنے کے بجائے ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر پھیلاتے ہیں، ہم غیر شعوری طور پر اسے مزید عام کرنے میں اپنا حصہ ڈال دیتے ہیں۔


پھر ہم کہتے ہیں کہ معاشرہ بدل گیا ہے۔ مگر معاشرہ آخر بدلتا کیسے ہے؟ ہم سے، ہمارے گھروں سے، ہماری گفتگو سے، ہماری خاموشیوں سے اور کبھی کبھی ہماری ایک تالی سے بھی۔ یہ کسی ایک بچے، ایک والد یا ایک تھیٹر کا مقدمہ نہیں۔ یہ تو ہمارے اپنے گھر کا آئینہ ہے۔ ہمیں اس آئینے میں صرف بچے کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہیے، *اپنی تربیت بھی دیکھنی چاہیے، اپنی ترجیحات بھی، اپنی خاموشی بھی اور اپنی تالیاں بھی۔*


کیونکہ آنے والی نسل صرف وہ نہیں ہوگی جسے ہم کتابوں میں لکھ کر دیں گے؛ وہ وہ بھی ہوگی جو ہمیں کرتے ہوئے دیکھے گی۔ ہم اپنے بچوں کو بہت کچھ دے رہے ہیں۔ تعلیم، سہولت، ٹیکنالوجی، آزادی، مواقع اور ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا۔ مگر اس سب کے درمیان کہیں ہمیں ان کے ہاتھ میں *تہذیب، حیا، شعور اور حدود کا وہ چراغ بھی دینا ہوگا* جو انہیں یہ پہچاننے میں مدد دے کہ دنیا میں ہر روشن چیز روشنی نہیں ہوتی۔


شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم بچوں کو بدلنے کی خواہش سے پہلے اپنا ماحول بدلنے پر غور کریں۔ انہیں ہر وقت یہ کہنے کے بجائے کہ "تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے"، کبھی خود سے بھی پوچھیں کہ *ہم نے انہیں کیا دکھایا ہے؟* کیونکہ بچے ہماری باتوں کا عکس نہیں ہوتے، اکثر وہ ہماری زندگی کا عکس ہوتے ہیں۔


اور اگر آج ہمیں ان کے رویّوں میں کچھ ایسا دکھائی دے رہا ہے جو ہمیں پریشان کرتا ہے، تو شاید ہمیں صرف ان کی انگلی پکڑ کر روکنے کے بجائے ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہیے کہ *وہ انگلی آخر کس راستے پر ہم نے خود چلائی تھی۔*


تہذیب کا پہلا سبق اسکول میں نہیں، گھر میں پڑھایا جاتا ہے۔ اور شاید اس سے پہلے کہ ہمارے بچے ہم سے پوچھیں کہ *"صحیح کیا ہے؟"* ہمیں خود سے یہ پوچھ لینا چاہیے کہ *"ہم نے ان کے سامنے صحیح کیسا دکھایا ہے؟"*


کیونکہ آخرکار بچے صرف ہمارے الفاظ نہیں سیکھتے، وہ ہماری زندگی پڑھتے ہیں۔ اور جس دن ہم نے یہ سمجھ لیا کہ ہماری اولاد ہمارے رویّوں کی خاموش کتاب ہے، شاید اسی دن ہمیں احساس ہوگا کہ *تربیت دراصل بچوں کو بدلنے کا نہیں، اپنے آپ کو درست کرنے کا نام ہے۔*