مفتی محمود مرکز میں تجاوزات پر مذہبی جماعت پر شہری کی تنقید، قبضوں کی پشت پناہی سے عوام کو کیا پیغام جائے گا؟

ضلع چارسدہ کے ایک شہری نے مفتی محمود مرکز میں تجاوزات کے معاملے پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مذہبی جماعتوں کی جانب سے مبینہ طور پر تجاوزات اور قبضوں کی پشت پناہی پر سوالات اٹھا دیے۔ شہری نے کہا کہ اگر مذہبی جماعتیں ہی تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں کی حمایت کریں گی تو اس سے عام عوام کو کیا پیغام جائے گا؟ کیا قانون کی پابندی صرف عام شہریوں کے لیے ہے یا اس کا اطلاق بااثر شخصیات اور جماعتوں پر بھی یکساں ہونا چاہیے؟
شہری کا کہنا تھا کہ معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام افراد اور ادارے قانون کا احترام کریں۔ کسی بھی شخص، جماعت یا تنظیم کو محض اپنے اثر و رسوخ یا سیاسی و مذہبی حیثیت کی بنیاد پر قانون سے استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے۔ اگر کسی جگہ تجاوزات یا قبضے کا معاملہ موجود ہے تو اس کا فیصلہ قانون اور متعلقہ اداروں کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی عمل داری سب کے لیے برابر ہونی چاہیے اور کسی بھی بااثر فرد یا جماعت کو غیر قانونی سرگرمیوں کی حمایت یا سرپرستی کا حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق معاشرے میں انصاف اور قانون کی حکمرانی اسی وقت ممکن ہے جب قانون کا اطلاق بلاامتیاز کیا جائے اور کسی کے عہدے، اثر و رسوخ یا وابستگی کو اس معاملے میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔
مزید پڑھیں





