دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کا مستقبل،تحریر:کاشف خان

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس جنگ میں افواجِ پاکستان، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ آج بھی جب ملک کے کسی حصے میں دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو صرف چند خاندان متاثر نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم خوف، بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔
دہشت گردی صرف ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ملک کی معیشت، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، روزگار اور سماجی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جہاں جان و مال کا تحفظ یقینی نہ ہو وہاں کاروبار کیسے ترقی کرے گا؟ سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کیسے ملیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر، آنے والی نسل ایک پُرامن پاکستان کا خواب کیسے دیکھے گی؟
پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے اہم ضرورت امن اور استحکام ہے۔ بندوق کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، لیکن صرف طاقت کے استعمال سے مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط قانون، فوری انصاف، سرحدی نگرانی، جدید پولیسنگ اور ریاستی اداروں کے درمیان بہتر رابطے کے ساتھ ساتھ ایسے سماجی اور معاشی اقدامات بھی ضروری ہیں جو نوجوانوں کو انتہا پسندی کے راستے سے دور رکھیں۔
ایک تعلیم یافتہ، باہنر اور باعزت روزگار رکھنے والا نوجوان کسی بھی انتہا پسند گروہ کے لیے آسان شکار نہیں ہوتا۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم محاذ اسکول، کالج، یونیورسٹی اور روزگار کے میدان بھی ہیں۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا مقصد خوف پیدا کرنا ہے۔ اگر ایک واقعہ پورے معاشرے کو مفلوج کر دے، کاروبار بند ہونے لگیں، لوگ اپنے مستقبل سے مایوس ہونے لگیں اور نوجوان ملک چھوڑنے کو ترجیح دینے لگیں تو دہشت گرد اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں۔اس لیے ریاست اور عوام دونوں کو مل کر یہ پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکے گا۔
تاہم قومی یکجہتی کا مطلب یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ حکومت، اپوزیشن، سیاسی جماعتیں، مذہبی رہنما، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام سب کو قومی سلامتی کے معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن ملکی سلامتی اور انسانی جانوں کے تحفظ پر قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ دہشت گردی کی خبر عوام تک پہنچانا صحافت کی ذمہ داری ہے، لیکن خوف، افواہ اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانا کسی صورت صحافت نہیں۔ ذمہ دار میڈیا دہشت گردی کے خلاف قومی شعور پیدا کر سکتا ہے اور عوام کو حقیقت، احتیاط اور اتحاد کا پیغام دے سکتا ہے۔
پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ اس بات سے بھی ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو کیسا معاشرہ دیتے ہیں، نوجوانوں کو کیا مواقع فراہم کرتے ہیں، قانون کی حکمرانی کس حد تک قائم کرتے ہیں اور عام شہری کو کتنا محفوظ محسوس کراتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف فوجی کارروائی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قومی تعمیرِ نو کا مشن بنایا جائے۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں بازار خوف کے بغیر کھلیں، بچے محفوظ ہو کر اسکول جائیں، مزدور اطمینان سے روزگار کرے، کاروباری شخص سرمایہ کاری کرے، صحافی آزادی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرے اور ہر شہری کو یقین ہو کہ ریاست اس کی جان و مال کے تحفظ کے لیے موجود ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور آج بھی قوم کے پاس قربانی، عزم اور صلاحیت موجود ہے۔
پاکستان کا مستقبل خوف میں نہیں، امن میں ہے۔پاکستان کی ترقی دہشت گردی کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور قومی اتحاد سے جڑی ہوئی ہے۔اب وقت ہے کہ ہم صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ نہ لڑیں بلکہ ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ ہی باقی نہ رہے۔وعدے نہیں، عملی اقدامات ہی پاکستان کا محفوظ مستقبل بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں





