دل کی تنگی یا نظر کی تنگ نظری ،تحریر:کلثوم افتخار
نقطہ نظر
قران پاک کو معنی اور ترجمے کے لحاظ سے اگر پڑھا جائے تو بہت سی باتیں جن کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہوتا ہے واضح ہوتی چلی جاتی ہیں اور زندگی کے متعلق نقطہ نظر بھی تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مقدس کتاب الہامی کتاب قران پاک جس کی تلاوت روزانہ ہوتی ہے اور پھر بھی ہم تنگ نظری اور تنگ دلی کا شکار ہو جاتے ہیں اخر کیا وجہ ہے تحقیق کی تو سورہ الماعون نظر سے گذری اور جب سورۃ الماعون سامنے آئی اور یہ آیات نظر سے گزریں:
> "تو ہلاکت ہے اُن نمازیوں کے لیے، جو اپنی نماز کی پرواہ نہیں کرتے، جو دکھاوے کے لیے عبادت کرتے ہیں، اور جو استعمال کی معمولی چیزیں بھی دوسروں کو برتنے کے لیے نہیں دیتے۔" (سورۃ الماعون 4-7)
ہم کیسے بندے ہیں اللہ کے کہ ہم کچھ باتیں اس کی مان لیتے ہیں اور کچھ باتوں میں نافرمانی کر جاتے ہیں ۔ لیکن انسان ہونے کے ناطے کبھی نہ کبھی ہم سے ایسی خطائیں ہو ہی جاتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی خطاؤں کا احساس ہو جائے اور ہم واقعی اللہ کے حکم پہ اتنا غور و خوض شروع کر دیں
ہم اکثر دوسروں کو استعمال کی چیزیں دینے کو معمولی سمجھ کر ٹال دیتے ہیں، یا اپنی اشیاء کو محفوظ رکھنے کو زیادہ اہم جانتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی کی ضرورت کے وقت اسے چیز دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا نماز پڑھنا۔ تبھی اللہ تعالیٰ نے اس موضوع پر ایک پوری سورت اتاری اور اس کا نام رکھا الماعون، جس کا مطلب ہی ہے "دوسروں کو ضرورت کی چھوٹی چھوٹی چیزیں عارضی طور پر استعمال کے لیے دینا"۔
ایک وقت تھا کہ جب پورے محلے میں کسی ایک کے گھر بھی اچھا ڈنر سیٹ ہوتا تھا تو وہ اہل محلہ کے مہمانوں کے لیے استعمال ہوتا تھا
اب وہ نہ زمانے رہے نہ وہ لوگ اور نہ ویسی سوچ ۔ ایک وقت تھا جب کسی کی بیٹی کی شادی کے لیے برا محلہ پورا خاندان پوری برادری دل و جان سے حاضر اور اب یہ وقت کہ جس گھر میں شادی ہے وہاں بھی بالکل ہی خاموشی کا سماں ہوتا ہے نہ کوئی رونق نہ کوئی چہل پہل نہ ڈنر سیٹ کا تبادلہ نہ بیڈ شیٹس کا تبادلہ نہ بستروں کا تبادلہ نہ برتنوں کا تبادلہ نہ چمچے گنے جاتے ہیں نہ دیکھ پکتی ہے بلکہ سب کچھ اب اتنا مشینی انداز میں ہو گیا ہے کہ مہندی جیسی تقریب بھی ہال میں رکھی جاتی ہے ذرا سوچا جائے تو یہ لین دین کی تھا تھا جس نے ہماری آپس کی محبتیں قائم و دائم رکھی ہوئی تھیں جو کچھ تھا سب کے سامنے تھا کوئی چیز چھپائی نہیں جاتی تھی اور چھپا چھپا کے الماریوں کی زینت نہیں بنائی جاتی تھی حتی کہ اگر کسی کو کسی دوسرے کے گھر جانا ہوتا تھا تو چادر تک ایک دوسرے سے مانگ لی جاتی تھی کہ ذرا اپنی نئی چادر دینا میں نے کسی کے گھر جانا ہے میں اوڑ ھ کے چلی جاؤں یہ سادگی کا وہ معیار تھا جس نے اسلامی نظام معاشرت کو مضبوط تر کیا ہوا تھا آج دکھاوے کے چکر میں اور اپنی چیزوں کو سینت سینت کر رکھنے کے چکر میں ہم اس معاشرتی خوبصورتی سے دور ہوتے چلے گئے ہیں اور اب یہ معاشرتی دوریاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ کسی کے گھر جانے سے پہلے 100 مرتبہ سوچنا پڑتا ہے اور اگر کوئی غریب رشتہ دار کسی کے گھر آ جائے تو سب سے پہلے یہی سوچ ذہن میں آتی ہے کہ ان کو کوئی کام ہوگا تو آئے ہوں گے اب فون کر کے جانا اور پھر اس کے بعد فون کس وقت کرنا ہے کس وقت بات کس سے کیا کرنی ہے ان سوچوں کے بھنور میں ڈوب کر ہم نے اپنی زندگی مزید مشکل کر دی ہے اور اتنی مشکل کر دی ہے کہ ایک دوسرے کے رشتے کے درمیان میں کانچ بھری سڑک اور راستہ کھڑا کر دیا ہے کہ اگر ہم اس کانچ پر خود بھی پاؤں رکھیں تو ہم بھی زخمی اور اگر کوئی دوسرا پاؤں رکھے تو وہ بھی زخمی۔ یہ کانچ کی دیوار کس نے قائم کی ابھرے ہوئے کانچ جو پاؤں کو زخم دیتے ہیں اور یہ زخم پاؤں سے ہوتے ہوئے دل تک جا پہنچتے ہیں۔
سماجی رویے اور دل کی تنگ نظری نہیں ہمیں کچھ حد تک نفسیاتی مریض بھی بنا دیا ہے ہم اس قدر ذہنی مریض بن گئے ہیں کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے بارے میں منفی سوچتے ہیں اور ہمیں یہی یقین رہتا ہے کہ کچھ ہو نہ ہو کسی نے مجھ پر جادو تعویز ضرور کروایا ہو گا حیا ہمیں انہی کی نظر لگ گئی ہے یا نظر لگنے کا خطرہ اور خدشہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس سے کم ہم کچھ سوچنے کو تیار ہی نہیں ہوتے جسمانی بیماری ہو تو سب سے پہلے ہمیں یہی احساس ہوتا ہے کہ ہمارے حاسدین نے ہم پر کچھ کروا دیا ہوگا سوچنے کی بات ہے کیا ہم اس قدر بہتر ہیں یا اس قدر بہترین ہے کہ ہمیں واقعی کسی کی نظر لگ سکتی ہے اپنے بارے میں اتنا بہترین گمان اور دوسروں کے بارے میں اتنا منفی رویہ اس نے ہمیں دو انتہاؤں پر لا کھڑا کر دیا ہے اور ان دو انتہاؤں کے درمیان وہ فاصلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب اگر ہم چاہیں بھی تو مثبت سوچ رکھنے کے باوجود بھی وہ فاصلہ طے کرنا بڑا مشکل ہو گیا ہے سورہ الماعون کی ایت کا ترجمہ اور اس کا حوالہ اگر اس بات کے نقطہ نظر سے سوچا جائے تو واقعی ہم صرف اپنی چیزیں ہی نہیں بلکہ ہم اپنی اچھی سوچ بھی کسی کے ساتھ شیئر کرنا یا کسی کو اچھا مشورہ بھی دینا اب گوارا نہیں کرتے اور یہ چیز ہماری چیزوں سے بڑھ کر ہماری سوچوں تک اگئی ہے اور سوچوں سے اگے گمان تک اگئی ہے اب ہم کسی کے بارے میں نہ اچھا گمان رکھتے ہیں نہ اچھی سوچ رکھتے ہیں اور کوئی اچھی چیز کسی کو عاریتا دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ ہم جس مذہب کے پیروکار ہیں اس نے تو ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان اور اچھی سوچ رکھنے کا حکم دیا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ خوش دلی سے معاملات کرنے کی تلقین کی ہے لیکن اج کل کے سمجھ ہی رویے ہمیں اس کے بالکل الٹ نظر اتے ہیں معلوم نہیں یہ سلسلہ کب تک چلے گا اور کب تک ہم بدگمان رہیں گے اور بدگمان رہ کر رشتوں میں دراڑیں پیدا کرتے رہیں گے اور ایک دوسرے کو ضرورت کی چیزیں برتنے کے لیے دینا تو بہت دور کی بات کاش ہم اپنی اچھی سوچ اچھا مشورہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مثبت انداز فکر میں ساجھےد ار بن سکیں
مزید پڑھیں




