Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے ؟تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

نقطہ نظر
ali rizwan ch

ہم دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں شاید بہت ماہر ہو گئے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے آسانیاں پیدا کرنا کب سیکھنا ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لیے راستے ہموار ہوں، لوگ ہمارے کام آئیں، ہمیں عزت ملے، ہمارے مسائل فوری حل ہوں، لیکن جب کسی دوسرے انسان کی مدد کرنے، اس کا بوجھ ہلکا کرنے یا اس کے لیے چند قدم آسان بنانے کا موقع آتا ہے تو ہم اکثر خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔

معاشرے میں نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ بہت سے مسائل اور بہت سی پریشانیاں صرف ہمارے چھوٹے سے کام کرنے کی وجہ سے حل ہو جاتی ہیں ۔اکثر وہ کام کرنے کی وجہ سے ہمارا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا لیکن دوسروں کا کافی فائدہ ہو جاتا ہے دوسروں کے لیے آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر اگر ہم گاڑی پارک کرنے لگے تو یہ یقین ہو کہ ہماری گاڑی پارک کرنے سے کسی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی ۔

زندگی صرف اپنی خواہشات پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا بھی نام ہے۔ انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے، دولت، گاڑی، لباس یا شہرت سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ اس کے وجود سے کتنے لوگوں کو سکون، سہولت اور امید ملی۔

ہماری روزمرہ زندگی میں ایسے بے شمار مواقع آتے ہیں جہاں ہم معمولی سی کوشش سے کسی دوسرے انسان کے لیے بڑی آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ کسی بزرگ کو سڑک پار کرا دینا، کسی پریشان شخص کی بات تحمل سے سن لینا، کسی ضرورت مند کی مالی مدد کر دینا، کسی طالب علم کی فیس یا کتاب کا انتظام کر دینا، کسی بیمار کے لیے خون کا عطیہ دے دینا، کسی غریب کے گھر راشن پہنچا دینا یا کسی دکھی انسان کو صرف یہ کہہ دینا کہ ’’فکر نہ کریں، میں آپ کے ساتھ ہوں‘‘—یہ سب آسانیاں پیدا کرنے کی صورتیں ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رویہ پروان چڑھ رہا ہے۔ ہم دوسروں کے مسائل کو دیکھتے ہیں مگر اکثر انہیں اپنا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ ہم سڑک پر کسی حادثے کا شکار شخص کو دیکھ کر ویڈیو بنانے میں دلچسپی لیتے ہیں، مگر اسے ہسپتال پہنچانے کے لیے چند منٹ نکالنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم کسی غریب کی مشکلات پر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن عملی مدد کے وقت ہماری جیب، وقت اور مصروفیات سب ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔

اصل انسانیت وہاں شروع ہوتی ہے جہاں ہمارا ذاتی مفاد ختم ہوتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی میں ہر شخص کسی نہ کسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ کوئی معاشی پریشانی میں مبتلا ہے، کوئی بیماری سے لڑ رہا ہے، کوئی بے روزگاری کا شکار ہے، کوئی گھریلو مسائل میں الجھا ہوا ہے اور کوئی بظاہر خوش دکھائی دیتے ہوئے اندر سے ٹوٹا ہوا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے سامنے کھڑا انسان اپنے دل میں کتنے بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ ایسے میں ہماری نرم گفتگو، ایک مسکراہٹ، ایک اچھا مشورہ یا معمولی سی مدد اس کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن سکتی ہے۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ خدمت صرف بڑے کاموں کا نام ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ کبھی ایک گلاس پانی بھی خدمت بن جاتا ہے، کبھی کسی کو راستہ بتانا بھی نیکی بن جاتا ہے، کبھی کسی کی عزت بچا لینا بھی بہت بڑی انسانیت ہوتی ہے۔ بعض اوقات کسی کی مدد کے لیے پیسے نہیں بلکہ صرف وقت، توجہ اور اچھے رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔

دفاتر میں بیٹھے لوگ اگر عوام سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں تو بہت سی مشکلات کم ہو سکتی ہیں۔ دکاندار اگر گاہک کے ساتھ دیانت داری کرے تو اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ استاد اگر طالب علم کی کمزوری کو سمجھ کر اس کی رہنمائی کرے تو ایک زندگی سنور سکتی ہے۔ ڈاکٹر اگر مریض کو تسلی کے دو الفاظ کہہ دے تو اس کا خوف کم ہو سکتا ہے۔ والدین اگر بچوں کو صرف کامیابی نہیں بلکہ انسانیت بھی سکھائیں تو آنے والی نسل زیادہ خوبصورت معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔

ہمیں اپنے گھروں سے اس تبدیلی کا آغاز کرنا ہوگا۔ بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کسی کو دھکا دینا آسان ہے، ہاتھ پکڑ کر اٹھانا مشکل؛ کسی کا مذاق اڑانا آسان ہے، اس کی عزت بچانا مشکل؛ کسی کی غلطی بیان کرنا آسان ہے، اسے اصلاح کا موقع دینا مشکل۔

اگر ہم واقعی معاشرے کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سوال دوسروں سے نہیں بلکہ خود سے کرنا ہوگا کہ آج میں نے کس کے لیے آسانی پیدا کی؟

کسی کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم امیر ہوں۔ ایک غریب انسان بھی کسی کو مسکرا کر خوش کر سکتا ہے۔ ایک طالب علم کسی دوسرے طالب علم کو کتاب دے سکتا ہے۔ ایک مزدور کسی بزرگ کا سامان اٹھا سکتا ہے۔ ایک دکاندار ضرورت مند کو مناسب رعایت دے سکتا ہے۔ ایک پڑوسی بیمار گھرانے کا حال پوچھ سکتا ہے۔ ہر انسان کے پاس کسی نہ کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کا اختیار موجود ہے۔ دنیا میں ہماری زندگی عارضی ہے۔ دولت، عہدے اور شہرت ایک دن پیچھے رہ جائیں گے، مگر ہمارے اچھے اعمال لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ کسی کے آنسو پونچھ دینا، کسی بے بس کا ہاتھ تھام لینا، کسی مجبور کے لیے راستہ آسان کر دینایہ وہ سرمایہ ہے جو انسان اپنے ساتھ نہیں لے جاتا، مگر اس کے بعد بھی اس کا ذکر زندہ رکھتا ہے۔

آج سے ایک چھوٹی سی عادت اپنائیں۔ جہاں ممکن ہو، مشکل کم کریں۔ جہاں کسی کا دل ٹوٹ رہا ہو، اسے سہارا دیں۔ جہاں کوئی پریشان ہو، اس کا حال پوچھیں۔ جہاں ناانصافی نظر آئے، کم از کم اپنی حد تک انصاف کا ساتھ دیں۔ اور جہاں کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کا موقع ملے، وہاں یہ سوچ کر پیچھے نہ ہٹیں کہ ’’کوئی اور کر دے گا۔‘‘

کیونکہ معاشرے بڑے نعروں سے نہیں، چھوٹی چھوٹی نیکیوں سے خوبصورت بنتے ہیں۔

شاید آج ہی سے۔ شاید ابھی سے۔ کیونکہ کسی دوسرے انسان کے لیے آسانی بن جانا ہی انسان ہونے کی سب سے خوبصورت علامت ہے۔