آج کے اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا پر نت نئے طریقے ذرائع ابلاغ کے اظہار کے لئے چھائے ہوئے ہیں گوگل ریسرچ وکی پیڈیا، فیس بُک انسٹاگرام پر علمی تاریخی معاشی و معاشرتی طب وصحت زباں و آداب تہذیبی ارتقاء و اقدار کے بارے میں مدلل مواد موجود ہے۔یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان معلومات سے کس طرح اور کس قدر استفادہ کرتے ہیں
افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر نااہل ، ان پڑھ افراد مسلط ہیں اور اس پر ستم یہ کہ ہم ان کی لغویات سن کر انہیں داد دیتے ہیں اس ضمن میں مجھے محسن بھوپالی کا یہ قطعہ یاد آگیا
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے کم ظرف کے ہاتھ میں اگر جام دیا جائے
اگر ہم نے اس مسئلے کو سنجیدہ نہ لیا اور یہی کم علم اور اناڑی لوگ میڈیا پر قابض رہے تو ہمارا موجودہ دور اور آنے والی نسلوں کا دور اس ترقی یافتہ دور میں بھی جہالت کے سمندر میں ڈوب جائے گا
ملاحظہ فرمائیں کہ ایسے زوال شدہ معاشرے کی تباہی کے بارے میں تاریخ ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے
جب مغلیہ سلطنت زوال کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی، تو دلی کے لال قلعے کے باہر ایک مسخرہ اور ان پڑھ بھانڈ بانس پر چڑیا بٹھا کر عجیب و غریب حرکتیں کرتا اور آوازیں نکالتے ہوئے اوٹ پٹانگ اچھل کود کیا کرتا تھا۔
تاریخ لکھتی ہے کہ دلی کے بڑے بڑے نواب، عربی و فارسی کے جید علماء درباری شعراء رؤسا اور جاگیردار اپنی پالکیوں سے اتر کر اس بھانڈ کی ایک جھلک دیکھنے اور اس کا ہاتھ چھونے کے لیے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال دیا کرتے تھے۔
اسی دوران قلعے کے ایک کونے میں دلی کا سب سے بڑا عالم ماہرِ فلکیات و معاشیات اور ریاضی دان مفلسی کے عالم میں مر گیا، لیکن اس کا جنازہ اٹھانے کے لیے چار کندھے تک نصیب نہ ہوئے کیونکہ وقت کے باشعور لوگ تو چوک پر بھانڈوں کے ناٹک دیکھنے اور مسخروں کی بولیاں سننے میں مصروف تھے۔
جب نادر شاہ دلی میں داخل ہوا تو اس نے سب سے پہلے انہی نوابوں کی گردنیں اڑائیں جو مسخروں کے قدموں میں بیٹھا کرتے تھے۔ جس طرح بغداد میں ہلاکو خان نے لا یعنی موضوعات پر مباحثے اور مناظرے کرنے والوں کو گھوڑوں سے روند ڈالا تھا
آج ہمارے حالات بالکل اسی دلی اور بغداد کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ آپ اکثر دیکھتے ہوں گے کہ ٹک ٹاک شوز میں علم و شعور سے فارغ بھانڈوں کو ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہوتا ہے تو کہیں ہمارے سکول و کالج کا پڑھا لکھا طبقہ یونیورسٹی سے اعلی ' تعلیم یافتہ لوگ مسخروں کے ساتھ ایک سیلفی لینے کے لیے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں
یہ سیلفی نہیں یہ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ہماری تعلیمی و فنی اسناد و ڈگریاں، ہمارا عہدہ اور ہمارا خاندانی پس منظر ہماری شرافت و وجاہت سب ایک ڈھونگ ہے۔ ہماری عقل پر ایک ایسے جاہل نے قبضہ کر لیا ہے جس کی کل اوقات ٹک ٹاک پر دو منٹ کا تماشہ دکھانا ہے۔ ڈگری یافتہ حتی ' کہ عالم و فاضل لوگ اس بہروپیے کے ساتھ تصویر بنا کر دنیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ دیکھیں، ہماری سوچ کا معیار کس قدر انحطاط کا شکار ہو گیا ہے
کسی غریب جفا کش کسان فیکٹری کے محنتی مزدور و کاریگر، راتوں کو جاگ کر شفٹوں میں کام کرنے والے مزدور، پوری توجہ سے پڑھانے والے غریب استاد، یا کسی حلال کمانے والے مزدور کے ساتھ تصویر کھنچوانے میں ہماری انا کو سانپ سونگھ جاتا ہے، ہماری انا مر جاتی ہے کیونکہ وہاں ہمیں ستائش نہیں ملتی "لائیکس" اور "ویوز" نہیں ملتے۔ ہماری تعریف میں کمنٹس نہیں آتے
ہم اس قدر اخلاقی طور پر گر چکے ہیں کہ اب ہماری عزت اور ذلت کا معیار انٹرنیٹ کے چند آرٹیکلز پوسٹس کمنٹس لائک ڈسلائک شئیرنگ اور ویوز طے کرتے ہیں۔ یہ ترجیحات کی وہ غیر سنجیدہ سوچ ہے جو قوموں کو ہمیشہ کے لیے تباہ و برباد کر دیتی ہے۔
اگر اب بھی آپ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تو اپ اپنی اگلی نسل کو بتا دیں کہ بیٹا علم و آداب تہذیب و تربیت سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کتابیں پڑھنا اور ہنر سیکھنا فضول کام ہے ، بس اپنی جہالت کے ساتھ چوک پر کھڑے ہو کر تماشہ لگا لیں یہ پڑھے لکھے لوگ خود آپ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیں گے اور اندھی عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کے پیروں میں آ کر گر جائیں گے
خدارا! ہوش کے ناخن لیں مسخروں کو تماشے کی حد تک رکھیں، انہیں اپنے شعور پر مسلط کر کے خود کو تاریخ کا سب سے بڑا احساس زیاں کا خیال نہ رکھنے والا غیر ذمہ دار فرد ثابت کرنے سے گریز فرمائیں
علامہ اقبال نے ہماری اسی اخلاقی پستی اور زبوں حالی کا نقشہ یوں کھینچا ہے
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
عقل و شعور کے ساتھ مثبت انداز فکر اپناتے ہوئے من حیث القوم ہمیں ایسے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہم موجودہ نسل اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے فلاح، معاشی استحکام، تہذیبی ارتقاء کا روشن و درخشاں کا باب بن سکیں ۔ الداعی الی الخیر واتحاد بین المسلمین صغیرجعفری
مزید پڑھیں




